
Hamid
Hamid
Hamid
Ghazalغزل
خار و گل پر نکھار آ جائے یوں چمن میں بہار آ جائے مسکرا اس طرح اے جان وفا زندگی میں بہار آ جائے تم نہ آؤ تو کوئی خط ہی سہی کچھ تو دل کو قرار آ جائے ہنس کے دیکھو نہ بار بار مجھے مجھ کو خود پر نہ پیار آ جائے گفتگو ہو بہ طرز شائستہ جو سنے اعتبار آ جائے موسم گل ہے بزم میں انجمؔ کاش وہ مشک بار آ جائے
khaar-o-gul par nikhaar aa jaae
دیار عشق میں ایسے بھی ہیں مقام بہت جہاں جنون کا ہوتا ہے احترام بہت کہیں جو تیشۂ فرہاد ہاتھ آ جائے جہان عشق میں ہو جائے اپنا نام بہت ہو جن دعاؤں میں اخلاص کا لہو شامل انہی دعاؤں سے نکلے گا اپنا کام بہت نہ آؤ تم سر مقتل ابھی خدا کے لیے جنون عشق تمہارا ابھی ہے خام بہت ہماری ذات ہے سرمایۂ وفا انجمؔ دیار عشق میں اپنا سند ہے نام بہت
dayaar-e-ishq mein aise bhi hain maqaam bahut
چوٹ کھاتا ہوں مسکراتا ہوں درد الفت مگر چھپاتا ہوں ان کے آنے کا آج وعدہ ہے آرزوؤں کا گھر سجاتا ہوں صحن گلشن میں کچھ اجالا ہو آشیاں اس لیے جلاتا ہوں کارگر ہو سکیں نہ تدبیریں اب مقدر کو آزماتا ہوں جس جگہ بھی گزر ہو وحشت میں اک نہ اک نقش چھوڑ جاتا ہوں میں ہوں انجمؔ زمین پر لیکن آسماں پر بھی جگمگاتا ہوں
choT khaataa huun muskuraataa huun
چمن میں جب بہار آئی تو دیوانے مچل اٹھے ہوا جب ذکر چشم مست پیمانے مچل اٹھے ہوائے فصل گل آئی گھٹا گھنگھور جب چھائی چلا یوں دور پیمانہ کہ میخانے مچل اٹھے یقیناً ربط باہم کوئی حسن و عشق میں ہوگا جلی جب شمع محفل میں تو پروانے مچل اٹھے پلائے جا ارے ساقی اگر کچھ بھی ہے مے باقی تری دریا دلی دیکھی تو مستانے مچل اٹھے کسی جان وفا کا تذکرہ عنوان محفل ہے بہاریں جھوم اٹھیں اور افسانے مچل اٹھے کچھ اس انداز سے زنداں میں پیغام بہار آیا کہ دیوانے تو دیوانے تھے فرزانے مچل اٹھے چلے اہل جنوں جوش جنوں میں جب بیاباں کو کیا کانٹوں نے استقبال ویرانے مچل اٹھے برہمن مست ہوتا ہے فقط ناقوس کی لے پر سنی بانگ اذاں تسبیح کے دانے مچل اٹھے مرے اخلاص و جذب دل کی یہ تاثیر ہے انجمؔ یگانوں کا تو کیا کہنا ہے بیگانے مچل اٹھے
chaman mein jab bahaar aai to divaane machal uTThe
نظر میں وہ مست شباب آ گیا کوئی حاصل انتخاب آ گیا جسے دیکھ کر لوگ ہنسنے لگے اک ایسا بھی خانہ خراب آ گیا صبا آ رہی ہے مہکتی ہوئی مرے خط کا شاید جواب آ گیا یکایک نظر اس نے کیا پھیر لی کوئی مجھ پہ جیسے عذاب آ گیا چلو راہ کے پیچ و خم دیکھ کر خدا رکھے عہد شباب آ گیا
nazar mein vo mast-e-shabaab aa gayaa
بیکسی کا عجیب عالم ہے ہم نوا ہے نہ کوئی ہم دم ہے حال دل اپنا میں کہوں کس سے رازداں ہے نہ کوئی محرم ہے جسم ہے چور چور زخموں سے جس کا درماں نہ کوئی مرہم ہے کچھ بتاؤ تو ماجرا کیا ہے ہونٹ ہنستے ہیں آنکھ پر نم ہے ہم بھی پہنچیں گے اپنی منزل پر عزم راسخ ہے سعی پیہم ہے گلستاں کا مآل کیا ہوگا باغباں کا مزاج برہم ہے کوئی سمجھے اگر تو کیا سمجھے ان کی ہر ایک بات مبہم ہے زندگی کہتی ہے جسے دنیا یا تو شعلہ ہے یا وہ شبنم ہے تیرگی بڑھ رہی ہے اے انجمؔ سب چراغوں کی لو جو مدھم ہے
bekasi kaa ajiib aalam hai





