karte ho band-e-salaasil kis liye
meri shah-e-rag mein hai zanjir-e-havaa

Hamidi Kashmiri
Hamidi Kashmiri
Hamidi Kashmiri
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
زرد پنجر ہنہنائے سامنے کھائی نہ تھی جس کا خدشہ ہم کو بھی تھا وہ گھڑی آئی نہ تھی پارہ پارہ جسم و جاں لا منظری گم گشتگی تھی قبا آراستہ شمشیر لہرائی نہ تھی کاٹ کر دست دعا جیبوں میں رکھ کر چل دئے دھوپ سنولائی تھی بنجر پر گھٹا چھائی نہ تھی رات بھر معبد میں رقص آتشیں ہوتا رہا برف پلکوں سے ہٹانے کی توانائی نہ تھی راہ وار ابر پر آئے تھے جانے کیا ہوئے ہم بھی چل کے آئے تھے پانی میں گہرائی نہ تھی ساحلوں پر سب امڈ آئے گھروں کو چھوڑ کر ہم سمجھتے تھے کسی سے بھی شناسائی نہ تھی
zard pinjar hinhinaae saamne khaai na thi
یہ وقوعے تو آسماں کے ہیں سانحے اور جسم و جاں کے ہیں آج انہیں پہلی بار دیکھا ہے کون ہیں یہ بھلا کہاں کے ہیں دونوں پاتال میں مقید ہیں دو ہی کردار داستاں کے ہیں سایہ سایہ ہے اژدہا صورت کیا یہ آثار اسی جہاں کے ہیں معتبر ہاتھ تھے بجھے وہ بھی سلسلے ظلمت گماں کے ہیں ان سے گزرو تو بات کر لیں گے مرحلے اشک رائیگاں کے ہیں
ye vuque to aasmaan ke hain
اہتمام دشت آرائی کرو ایک عالم کو تماشائی کرو دن کی پیلی خامشی ڈس جائے گی رات بھر ہنگامہ آرائی کرو ہے سکوت انگیز ہر حرف و صدا دوستو اب ترک گویائی کرو بھاگتے سایوں سے کیسی دوستی خود سے ہی پیدا شناسائی کرو بچ نکلنے کا کوئی رستہ نہیں خود کو تصویر شکیبائی کرو بزم میں ہو کوئی موضوع سخن چوک میں اپنی ہی رسوائی کرو میں رہا تا عمر طوفاں آشنا ساحلو میری پذیرائی کرو
ehtimaam-e-dasht-aaraai karo
یک بہ یک کیوں بند دروازے ہوئے تھے وہ آیات مبیں اوڑھے ہوئے بحر ظلمت کا سفر در پیش ہے ہیں ہوا میں بال و پر جلتے ہوئے بند کمروں سے نکلتے ہی نہیں اے ہوا کیا تیرے منصوبے ہوئے آب و سایہ ایک دھوکا ہی سہی اس سے پہلے بھی کئی دھوکے ہوئے برق تھی موسم شگوفوں کا نہ تھا شیشے کی سڑکوں پہ دیوانے ہوئے اس کی آنکھوں میں تھی کیسی روشنی دیکھنے پائے نہ تھے اندھے ہوئے
yak-ba-yak kyuun band darvaaze hue
خود ہی بے آسرا بھی کرتے ہیں ہاتھ اٹھا کر دعا بھی کرتے ہیں رات بھر پیڑ چپ بھی رہتے ہیں دل میں محشر بپا بھی کرتے ہیں چھین لیتے نہیں بصارت ہی وہ تو بے دست و پا بھی کرتے ہیں کوئی پہچان ہو نہیں پاتی پردے کیا کیا اٹھا بھی کرتے ہیں آتے ہی سر قلم نہیں کرتے پہلے خود آشنا بھی کرتے ہیں وار کرتے نہیں وہ چھپ کر ہی کشت و خوں برملا بھی کرتے ہیں
khud hi be-aasraa bhi karte hain
وہ سنگ ہو کہ شجر کرب انتظار میں ہے کسے یہ علم ہے کیا پردۂ غبار میں ہے کشاں کشاں لئے جاتی ہے تم کو جس کی کشش وہ سایہ سایہ صدا بحر بے کنار میں ہے کراؤں گا تری جاں بخشی نذر جاں کر کے مجھے بتا تو سہی کس کے اختیار میں ہے کہاں کا قصد کروں کچھ پتا تو ہو معلوم سنا ہے اتنا کسی اجنبی دیار میں ہے سکوت زا ہی نہیں ہے سخن طراز بھی ہے ضرور شعلہ کوئی سنگ رہ گزار میں ہے یہ ہے کہ شعر کا اسرار آشنا ہے وہ وگرنہ رکھا کیا اس میں ہے کس شمار میں ہے
vo sang ho ki shajar karb-e-intizaar mein hai





