
Hani Barelvi
Hani Barelvi
Hani Barelvi
Ghazalغزل
دیر تک انگلیاں نہاروں میں تیری زلفوں کو جب سنواروں میں اپنے سر کو بدن سے دور کرو تیرا صدقہ اگر اتاروں میں ایسا منظر کبھی نہ آئے گا فاصلے سے تجھے پکاروں میں عشق کے بھی اصول ہوتے ہیں یہ مری جیت ہے کہ ہاروں میں میں کسی کو برا کہوں کیسے پہلے خود کو ذرا سدھاروں میں دل میں ہانیؔ کسی کے بسنا ہے پہلے اپنی انا کو ماروں میں
der tak ungliyaan nihaarun main
2 views
ہمت تمام پیش سفر ختم ہو گئی منزل ہے دور اور ڈگر ختم ہو گئی کیسے کٹے گی رات ترے انتظار میں سگریٹ جو آخری ہے اگر ختم ہو گئی پھیلی فضا میں کیا ترے انفاس کی تپش پھر سرد رات کھو کے اثر ختم ہو گئی روز ازل سے تھی جو مرے دل میں آرزو دیکھا جو اس کو ایک نظر ختم ہو گئی ہاتھوں میں اپنے آب ادھر اس نے کیا لیا سوکھے لبوں کی پیاس ادھر ختم ہو گئی ہانیؔ وہ میرا ساتھ نبھانے تو آ گئے تنہائی کی حیات مگر ختم ہو گئی
himmat tamaam pesh-e-safar khatm ho gai
2 views
حسین رات کا منظر دکھائی دیتا ہے ہر اک چراغ سخنور دکھائی دیتا ہے یہ ٹمٹماتے ہوئے جگنوؤں کا اک حلقہ کئی ستاروں سے بہتر دکھائی دیتا ہے یہ کس کے لمس نے مدہوش کر دیا اس کو سرور یافتہ ساغر دکھائی دیتا ہے جہاں سے ذرہ برابر بھی کچھ نہیں دکھتا وہاں سے صاف ترا گھر دکھائی دیتا ہے اسی کو دیر تلک دیکھنے کی حسرت ہے وہ ایک چہرہ جو پل بھر دکھائی دیتا ہے ہمارا عشق ہے مقبولیت کی منزل پر کسی کے ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے یہ کس مقام پے لے آیا الفتوں کا جنون شکستہ دل بھی سبک سر دکھائی دیتا ہے اک انتظار میں غرقاب ہو چکا ہانیؔ زمانے بھر کو شناور دکھائی دیتا ہے
hasin raat kaa manzar dikhaai detaa hai
1 views
وہ جس کتاب میں چاہت کا سلسلہ نکلا ورق اسی میں ایک آنسو بھرا ہوا نکلا تلاش میں نے کیا تھا سکون دل کے لیے مگر یہ کار محبت بڑا جدا نکلا خوشی تو آئی تھی مہمان کی طرح لیکن غموں کے ساتھ ہمیشہ کا رابطہ نکلا وہ دور تھا تو یہ لگتا تھا ہے بہت نزدیک مگر قریب سے دیکھا تو فاصلہ نکلا بتا رہا تھا جو پھولوں کا راستہ مجھ کو اسی کے پاؤں میں کانٹا چبھا ہوا نکلا ہزاروں درد طبیبوں نے ٹھیک کر ڈالے مگر یہ درد محبت ہی لا دوا نکلا اجالے دیکھ کے حیران ہیں میری قسمت جو میرے گھر سے اندھیروں کا قافلہ نکلا چلے گئے بھی تو کیا قہقہوں کی محفل میں مزاج اپنا وہاں بھی بجھا ہوا نکلا وہ جی رہا ہے زمانے میں شان سے ہانیؔ وہ جس کے نفس کا دامن جلا ہوا نکلا
vo jis kitaab mein chaahat kaa silsila niklaa
1 views
یقیناً راستہ حق پر نہی ہے کوئی پتھر کوئی ٹھوکر نہی ہے محبت کا سفر بہتر نہی ہے اگر عاشق چلا دن بھر نہی ہے تعلق ٹوٹ جانے کا ہے خطرہ مگر دیوار میں اک در نہی ہے کسے روداد اپنی ہم سنائیں کسی کا حال اب بہتر نہی ہے محبت نے اسے پرواز دی ہے ہماری شاعری بے پر نہی ہے کہاں رکھوں شکستہ دل کے ٹکڑے بریلی میں عجائب گھر نہی ہے سبھی دشمن بھلے ہیں دوستوں سے کسی کے ہاتھ میں نشتر نہی ہے سڑک پر آ گئے ہیں سارے عاشق نگر میں بادشاہ اکبر نہی ہے
yaqinan raasta haq par nahi hai
1 views
جب جھوٹ مجھ سے برسر پیکار ہو گیا لہجہ جو میرا پھول تھا تلوار ہو گیا حق بات بولنے کی قسم جب سے کھائی ہے جینا ہمارا شہر میں دشوار ہو گیا دھوکہ فریب جھوٹے دلاسے تسلیاں پھر آج اس کے نام یہ اخبار ہو گیا کردار اپنے گھر میں ہی مشکوک جس کا تھا وہ شخص ہی قبیلے کا سردار ہو گیا وہ کہہ رہا تھا تیری وفا آزماؤں گا میں اس کے آگے آہنی دیوار ہو گیا بیعت کی بات ہو گئی رسوا جہان میں مشہور کائنات میں انکار ہو گیا ہانیؔ نے بات اپنے بزرگوں کی مان لی وہ با شعور صاحب کردار ہو گیا
jab jhuuT mujh se barsar-e-paikaar ho gayaa
1 views





