
Haqqi Hazeen
Haqqi Hazeen
Haqqi Hazeen
Ghazalغزل
nigaah ko jo unhein dekhne ki taab nahin
نگاہ کو جو انہیں دیکھنے کی تاب نہیں یہی حجاب ہے ان کا کہ اب حجاب نہیں وہ کون ہے جو ہلاک صد اضطراب نہیں خراب تو ہی دل خانماں خراب نہیں فراز دامن ہستی پہ داغ ہے گویا وہ زندگی جو محبت میں کامیاب نہیں بس ایک بار مری تلخ کامیوں پہ نظر تری نگاہ میں جینا اگر عذاب نہیں نظارہ سوز ہے برق جمال دوست مگر نگاہ شوق کی فطرت میں انقلاب نہیں نگاہ یار تری مستیاں ارے توبہ یہ حال ہے کہ مجھے حاجت شراب نہیں یہ رعب حسن یہ شان جمال کیا کہنا وہ سامنے ہیں مگر دیکھنے کی تاب نہیں تری نگاہ کی معصوم برہمی کی قسم ترا عتاب بہ اندازۂ عتاب نہیں سکوت شب میں خدایا یہ کس کی یاد آئی کہ میرے دیدۂ تر کو مجال خواب نہیں خودی بھی ہے مری ہم رنگ بے خودی یعنی وہاں ہوں میں کہ جہاں میں بھی باریاب نہیں نہ جانے کیوں مجھے اس کا یقیں نہیں آتا کہ میری زندگیٔ عشق کامیاب نہیں کمال ضبط کو وجہ سکون دل نہ سمجھ یہ اضطراب کی حد ہے کہ اضطراب نہیں خود اپنی آگ میں جلنے کا لطف کیا جانے حزیںؔ جو سوز محبت سے فیضیاب نہیں
ye dard-e-hijr yahaan tak to saazgaar aae
یہ درد ہجر یہاں تک تو سازگار آئے وہ خود ہی بن کے سراپائے انتظار آئے مزہ تو جب ہے کہ اخفائے راز کے با وصف مری زباں پہ ترا نام بار بار آئے حیات عشق کا جب جائزہ لیا ہم نے خود اپنے جرم نگاہوں میں بے شمار آئے بجا ہے ذوق طلب لیکن اس سے کیا حاصل قدم بہکنے لگیں جب ترا دیار آئے خدا سے کیا گلۂ جور زندگی کیجیے گزارنی تھی گھڑی دو گھڑی گزار آئے وہیں وہیں سے اک آواز بازگشت آئی جہاں جہاں تجھے اے دوست ہم پکار آئے عجب نہیں انہی راہوں کے پیچ و خم میں حزیںؔ مجھے تلاش ہے جس کی وہ رہ گزار آئے
hasratein dabti hain un ke hi ishaare dekh kar
حسرتیں دبتی ہیں ان کے ہی اشارے دیکھ کر رخ بدل جاتا ہے موجوں کا کنارے دیکھ کر ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے بہت شام غم روشن نظر آئی ستارے دیکھ کر کیا کہیں کس کس حقیقت کی وضاحت ہو گئی اس نظر کے چند مبہم سے اشارے دیکھ کر دل نے جو کچھ تھا سپرد سوز الفت کر دیا اپنی جانب آتش غم کے شرارے دیکھ کر ان کی محفل ان کے جلوے ان کے الطاف و کرم اور کیا دیکھیں گی آنکھیں یہ نظارے دیکھ کر ہم جو کہتے تھے کہ دنیا میں ہمیں ہیں غم نصیب رو دئے اپنے سوا کچھ غم کے مارے دیکھ کر اپنا اک ٹوٹا سہارا یاد آتا ہے حزیںؔ مختلف عنواں سے دنیا کے سہارے دیکھ کر
saaz-e-jaan par gham ki jab naghma-zani hoti nahin
ساز جاں پر غم کی جب نغمہ زنی ہوتی نہیں دل کی دھڑکن ترجمان زندگی ہوتی نہیں یا توجہ ہی نگاہ حسن کی ہوتی نہیں یا یہ کہیے میری حیرت میں کمی ہوتی نہیں یوں مرا افسانۂ غم نامکمل رہ گیا جیسے تکمیل مذاق عاشقی ہوتی نہیں ہاں کبھی غم بھی نظر آتا تھا ہم رنگ خوشی اب خوشی کے وقت بھی دل کو خوشی ہوتی نہیں ہائے وہ آنسو جو دل کی آگ بھڑکاتے رہے اف وہ سوز مستقل جس میں کمی ہوتی نہیں دیکھنا یہ انتہائے وضع داری دیکھنا مانع آداب الفت بے خودی ہوتی نہیں دل کی بیتابی اب اس منزل پہ لے آئی مجھے جس جگہ حائل خودی و بے خودی ہوتی نہیں کیوں مری لغزش کو نادانی کا طعنہ دیجئے عشق ہوتا ہے تو عقل و آگہی ہوتی نہیں جانے کن نظروں سے دیکھا تھا حزیںؔ کو آپ نے آج تک بیتابیٔ دل میں کمی ہوتی نہیں
le chal vahaan ab ai dil-e-shorida-sar mujhe
لے چل وہاں اب اے دل شوریدہ سر مجھے ان کی ہی کچھ خبر ہو نہ اپنی خبر مجھے پردہ کشائے راز ہے نیرنگیٔ جمال کب تک فریب جلوۂ برق و شرر مجھے کیسا سکوں کہ پھر سر ویراں میں جوش ہے پھر یاد آ رہے ہیں ترے بام و در مجھے دل کیا ہے ایک عکس رخ حسن بے حجاب آئینہ کیا ہے جلوۂ آئینہ گر مجھے تم سے کروں میں اپنی تباہی کا کیا گلہ ڈوبی ہے لے کے حسرت دیوانہ گر مجھے
ab is 'aalam mein takmil-e-mazaaq-e-justuju hogi
اب اس عالم میں تکمیل مذاق جستجو ہوگی جہاں ہر گام پر ان کی ہی صورت ہو بہو ہوگی ہمیں نذر ستم کر دے جو ترک آرزو چاہے نہ ہم ہوں گے نہ دل ہوگا نہ تیری آرزو ہوگی نہیں کچھ احتیاج لب کشائی روبرو ان کے ملیں گی ان سے نظریں اور باہم گفتگو ہوگی چمن میں فصل گل اتنی کہاں پرکیف ہوتی ہے یقیناً ان کی رعنائی شریک رنگ و بو ہوگی نگاہ مست ساقی جب اٹھے گی بزم رنداں سے نہ جانے کیا حزیںؔ کیفیت جام و سبو ہوگی





