SHAWORDS
Haresh Vanza

Haresh Vanza

Haresh Vanza

Haresh Vanza

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

کئے جا رہے ہیں محبت سے ہم تو کنارا یقیں اٹھ گیا ہے اب ان رشتوں سے جو ہمارا ہمیں اس قدر توڑ ڈالا ہے بھیتر سے اس نے بھروسہ نہیں کر سکیں گے کسی کا دوبارہ ہمیں اور تو کچھ نہیں چاہیے تھا خدا سے دعاؤں میں مانگا تھا بس ساتھ ہم نے تمہارا کبھی وہ پکارے ہمیں اور ہم دوڑے جائیں مگر دوست ہم کو ملا ہی نہیں وہ اشارہ ہمارے قریب آ کے ہر کوئی یہ سوچتا ہے ہوا بھی کوئی فائدہ یا ہوا بس خسارا یہ خوشیاں تو بس اک دکھاوا ہی ہیں زندگی کا حقیقت میں تو ان غموں نے ہمیں ہے سنوارا

kiye jaa rahe hain mohabbat se ham to kinaaraa

غزل · Ghazal

تماشہ بننے سے بہتر یہی ہے چپ رہا جائے بھلے دنیا پھر اندازے لگانے پر ہی آ جائے جو ظاہر تھیں وہ باتیں تو کتابوں میں بہت پڑھ لیں چلو اب کے کسی کی خامشی کو بھی پڑھا جائے تلاشے جائیں سب سے پہلے تو عیب و ہنر خود کے کسی کو بعد میں اچھا برا انساں کہا جائے تمہاری رائے یکدم ہی بدلتی جائے گی اس پر اگر وہ مدعا دونوں طرف سے جو سنا جائے مصیبت اور اس افسردگی سے اتنا کیا ڈرنا کہیں یہ ڈر تمہاری حوصلہ مندی نہ کھا جائے

tamaasha banne se behtar yahi hai chup rahaa jaae

غزل · Ghazal

ہوں بے قرار مگر یہ بتا نہیں سکتا میں بانٹ کر بھی الم کو گھٹا نہیں سکتا یہ صرف سال نہیں بیتا کیسے سمجھاؤں میں جشن چاہ کے بھی اب منا نہیں سکتا اسے کہو کہ نظر سے نظر ملائے نہیں میں اشک اور زیادہ چھپا نہیں سکتا میں رحم خود پہ ذرا بھی برتتا ہوں نہیں پر میں اور کسی کا کبھی دل دکھا نہیں سکتا لگی ہے سینے میں کچھ آگ ایسی اب کے ہریشؔ میں جان دے کے بھی اس کو بجھا نہیں سکتا

huun be-qaraar magar ye bataa nahin saktaa

غزل · Ghazal

جس کی خاطر جل رہے تھے ہم شرارے کی طرح اس کے دل میں رہ گئے تو بس خسارے کی طرح جس طرف اس کا اشارہ تھا وہ کوئی اور تھا چاند کے یاور نہیں تھے ہم ستارے کی طرح دل دکھانے کا کوئی موقع نہیں جو چھوڑتا ساتھ ایسے شخص کے تھے ہم سہارے کی طرح جب سمندر چھوڑے گا منجدھار میں لا کے اسے یاد آئیں گے اسے بھی ہم کنارے کی طرح چند امیدوں تلے دب کے مرے ہیں ہم ہریشؔ ہم نے دیکھا ہی نہیں خود کو سہارے کی طرح

jis ki khaatir jal rahe the ham sharaare ki tarah

غزل · Ghazal

آوارہ کیوں کہتے ہو اس کو وقت کا مارا کہو وہ قیس بن کر گھومتا ہے اس کو بیچارہ کہو کیا آپ نے مجھ کو ابھی ٹوٹا ہوا تارہ کہا دل کی تسلی کے لیے اک بار دوبارہ کہو خوشیاں ہماری لے کے جاؤ اپنے غم کے بدلے میں چاہے بھلے پھر آپ کل ہم کو ہی ناکارہ کہو وہ اک نہ اک دن تو دکھائے گا تمہارا دل ہریشؔ دل کھول کر چاہے اسے تم کتنا بھی پیارا کہو

aavaara kyon kahte ho us ko vaqt kaa maaraa kaho

غزل · Ghazal

رنج سے دور تھے اور خوشیوں سے نسبت تھی کبھی وقت ایسا بھی تھا اچھی بھلی قسمت تھی کبھی یہ حقیقت ہے کہ احباب بدلتے رہیں گے وہ جنہیں پیار کی خلوت میں ضرورت تھی کبھی اب اسے زہر کی مانند پیے جا رہے ہیں اک ادھوری سی محبت جو عنایت تھی کبھی وہ ہمیں چھوڑ گیا اس لیے مایوس نہیں اس لیے ہیں کہ اسے بھی تو محبت تھی کبھی

ranj se duur the aur khushiyon se nisbat thi kabhi

Similar Poets