Hasan Azimabadi
Hasan Azimabadi
Hasan Azimabadi
Ghazalغزل
barbaadi-e-sarmaaya-e-jaan dekh rahaa huun
بربادی سرمایہ جاں دیکھ رہا ہوں الفت کی نوازش کا سماں دیکھ رہا ہوں کس شوخ کے شانوں پہ ہیں بکھرے ہوئے گیسو برہم جو نظام دو جہاں دیکھ رہا ہوں دیکھا نہ جسے حضرت موسیٰ نے سر طور میں اس کو قریب رگ جاں دیکھ رہا ہوں بیتاب جو ہے اپنی جبیں سجدوں کی خاطر جھک کر ترے قدموں کے نشاں دیکھ رہا ہوں اللہ رے جذب و کشش عشرت ہستی حسرت سے سوئے عمر رواں دیکھ رہا ہوں
meri vahshat kaa kyaa zamaana hai
میری وحشت کا کیا زمانہ ہے ہر زباں پر مرا فسانہ ہے دل ہے اور عشق کا فسانہ ہے اف جوانی بھی کیا زمانہ ہے زلف جب تک رہین شانہ ہے دل کی الجھن کا اک بہانہ ہے کس طرف کو جھکے جبین سجود ہر طرف تیرا آستانہ ہے دیکھیں کس کس سے زلف الجھتی ہے سامنے آئنہ نہ شانہ ہے توسن شوق کیوں رکے میرا ہر نفس دل کو تازیانہ ہے غور سے دیکھیے اگر تو حسنؔ زندگی موت کا فسانہ ہے
aariz-o-zulf-e-yaar ki baatein
عارض و زلف یار کی باتیں جیسے لیل و نہار کی باتیں حسن سے تذکرہ محبت کا آئنے سے غبار کی باتیں کتنی رنگیں ہے اپنی شام فراق پہروں دل سے ہیں یار کی باتیں کب نہ دار و رسن نے چھیڑی ہیں جرأت پائیدار کی باتیں تم ہو اور بے نیازئ پیہم ہم ہیں اور اعتبار کی باتیں مٹ چکے ولولے بہاروں کے اب کہاں لالہ زار کی باتیں دل پہ اب شاق ہیں بہت ہمدم موسم خوش گوار کی باتیں سن سکو تو زبان گل سے سنو دامن تار تار کی باتیں حاصل عمر بن گئی ہیں حسنؔ حسن ایماں شکار کی باتیں
saaz-e-dil par gungunaane kaa zamaana aa gayaa
ساز دل پر گنگنانے کا زمانہ آ گیا آ گیا پینے پلانے کا زمانہ آ گیا پے بہ پے ساغر لنڈھانے کا زمانہ آ گیا ہر قدم پر لڑکھڑانے کا زمانہ آ گیا پھر کسی کی یاد دل میں چٹکیاں لینے لگی پھر تڑپنے تلملانے کا زمانہ آ گیا پھر کسی کے آستاں پر لے چلا ذوق سجود ہر قدم پر سر جھکانے کا زمانہ آ گیا مٹ گیا شوق طلب میں سربسر احساس غم مشکلوں پر مسکرانے کا زمانہ آ گیا ہے پس پردہ جمال دل نشیں جلوہ فگن دیدہ و دل آزمانے کا زمانہ آ گیا مل گئی عرض تمنا کی اجازت مل گئی حرف مطلب بھول جانے کا زمانہ آ گیا
shab-e-gham hujum-e-alam tauba tauba
شب غم ہجوم الم توبہ توبہ اور آنسو بھی آنکھوں میں کم توبہ توبہ شب و روز صہبائے الفت کی مستی حرم میں بھی یاد صنم توبہ توبہ جنوں بے نیاز مکاں ہے تو پھر کیوں یہ تخصیص دیر و حرم توبہ توبہ بھلا کیا یہ رعنائیٔ دہر ہوتی نہ ہوتے جہاں میں جو ہم توبہ توبہ دو عالم کی دولت مرے دل کی قیمت کہاں یہ کہاں جام جم توبہ توبہ نگاہیں بچا کر وہ ان کا تبسم کرم کوشیوں میں ستم توبہ توبہ
hujum-e-shauq ne rusvaa kiyaa kyaa
ہجوم شوق نے رسوا کیا کیا میں کیا کہنے کو تھا اور کہہ گیا کیا گلوں کا خوں گلستاں کی تباہی مناظر سامنے آئے ہیں کیا کیا جنون رہروی اپنا سلامت کریں گے رہنمائی رہنما کیا کنول کے پھول پر شبنم کے قطرے غرور حسن کو آخر ہوا کیا نظر میں تھا جمال صد بہاراں میں سوئے گل پلٹ کر دیکھتا کیا تمہاری بے رخی اللہ رکھے مری بیتابیوں کا تذکرہ کیا جسے روشن کیا تھا خون دل سے حسنؔ بجھنے لگا وہ بھی دیا کیا





