
Hasrat Khan Khatak
Hasrat Khan Khatak
Hasrat Khan Khatak
Ghazalغزل
nigaah par jo paD rahi thi dhuul se nikal gae
نگاہ پر جو پڑ رہی تھی دھول سے نکل گئے سمجھ رہے تھے سب غلط کہ بھول سے نکل گئے یہ ماہتاب شمس ہے یہ آفتاب فکر و فن حجاب جاں رہا نہیں قبول سے نکل گئے یہ عاشقی کے فلسفے یقین در یقیں گماں پڑھا نہیں تھا ضابطہ سکول سے نکل گئے جھکا نہیں سکا کوئی سوا خدا کے ناخدا اصول پر ڈٹے رہے اصول سے نکل گئے ملال جاں نہ تھا کبھی نہ ہے نہ ہو سکا کبھی ملال دل کا شکریہ ملول سے نکل گئے کیا تو عشق ہی کیا کبھی رکھا نہ فاصلہ سو وصل سے وصال سے وصول سے نکل گئے ببول بھی قبول ہیں قبول ہیں ببول بھی مگر نہ جانے کیا ہوا وہ پھول سے نکل گئے نہ حسرت طلب رہی نہ قلب میں خلش کوئی حساب جاں پہ ناز ہے حصول سے نکل گئے
kaale kavvon ne tabaahi vo machaai tauba
کالے کوؤں نے تباہی وہ مچائی توبہ باغ کے طوطے اڑے باغ میں امرود نہ تھے میرے بارے میں بڑے لوگوں نے کیا کیا نہ کہا واقعہ یہ کہ جنہیں سننا تھا موجود نہ تھے مسجدیں بین کیے جاتی تھیں خاموشی سے سجدہ گاہیں تھی مگر ساجد و مسجود نہ تھے ایک کو سجدہ کیا ایک بسایا دل میں اچھے لگتے تھے مجھے بت مرے معبود نہ تھے ان کے ہوتے ہوئے کیا قوم ترقی کرتی مقتدر تھے وہ کوئی صاحب بہبود نہ تھے تم سے پہلے بھی کہاں اچھے تھے اتنے لیکن بگڑے سنورے ہوئے حالات تھے نابود نہ تھے میں نا کہتا تھا احد ہوتے ہیں لا حد سارے خان حسرتؔ کے ارادے کبھی محدود نہ تھے
koi naqqaad aas-paas nahin
کوئی نقاد آس پاس نہیں شعر ہے شعر میں قیاس نہیں حق و باطل بتانا لازم تھا مسئلہ کربلا کا پیاس نہیں رنگ فطرت کا جتنا عریاں ہے اس قدر کوئی بے لباس نہیں عشق ہے بے جنوں تو عشق نہیں خاک جذبہ ہے جس میں آس نہیں بندگان خدا سے ناواقف کوئی بھی ہو خدا شناس نہیں ایسی سرخی قبول سبزے کی جس میں کوئل کوئی اداس نہیں اک زمانہ ہے خان حسرت خانؔ خود زمانہ زماں شناس نہیں
main kahaan DhunDne jaataa huun kutub-khaanon mein
میں کہاں ڈھونڈنے جاتا ہوں کتب خانوں میں مجھ کو خود آ کے بلائیں مرے الفاظ کہ آ میں ابھی سوچ کے صحرا میں کھڑا ہوتا ہوں آ ہی جاتی ہے کسی سمت سے آواز کہ آ پیر چلنے کے لیے جوں ہی قدم بھرتے ہیں بجنے لگ جاتے ہیں خود سے کئی سر ساز کہ آ میں کہ ہر حد سے گزرنے کو ہوں تیار مگر کون کہتا ہے مجھے کوئی بصد ناز کہ آ ہائے وہ لمحہ کہ جب باپ بلائے بیٹا آ ادھر آ مرے بیٹے مرے جاں باز کہ آ یہ الگ بات کہ استاد نہیں ہے حسرتؔ شعر گوئی میں بلائیں سبھی استاذ کہ آ
chaar-su phaile nazar aae ujaale mere
چار سو پھیلے نظر آئے اجالے میرے کوئی آ دیکھے پڑے پیر کے چھالے میرے میں سمجھتا ہوں کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں لیکن لوگ دیتے ہیں کئی بار حوالے میرے آنکھ کے لمس سے جس جس کو چھوا چاند ہوئے دن کے سورج ہوئے ہاتھوں سے اچھالے میرے اچھے یاروں نے رکھے نام بھی اچھے میرے بھایا کہہ دیتے ہیں یا کہتے ہیں لالے میرے دشت وحشت میں ثمر بار نمو لے آئے ذرۂ ریت پہ برسے ہوئے پالے میرے وائے قسمت سے ملے تو نے دئے زخم ہرے نیلے نیلے سے ہوئے نیلے سے کالے میرے نہ ہی جھکتا ہے نہ بکتا ہے نہ گھبراتا ہے تو نے سب عیب بہت خوب نکالے میرے کوئی آئے مری تربت پہ تو مٹی کی جگہ ان سے کہنا ہے کہ افکار سنبھالے میرے نئے اسلوب نئی بات نئی تشبیہات استعارے بھی بہت خوب نرالے میرے
husn-e-navaa-e-shauq ki taa’mil kar chale
حسن نوائے شوق کی تعمیل کر چلے سر کو اٹھائے عہد کی تکمیل کر چلے خاکی بدن کو آتش دائم کی لو پہ رکھ حدت برائے جان کی ترسیل کر چلے دردوں بھری دریدہ ردائے حیات کو تانے سے بانا جوڑ کے زنبیل کر چلے نوری تجلیات کو پرواز و پر دئے اپنے تخیلات کو جبریل کر چلے اپنی انائے ہوش کا سودا نہیں کیا پرجوش رہ کے خوف کی تذلیل کر چلے کل شب ترے خیال کے پہلو میں بیٹھ کر غم ہائے روزگار سے تعطیل کر چلے میں نے صدائے حق کو کیا سربلند اور باقی تمام کام ابابیل کر چلے دل کی جبیں کو آپ کی چوکھٹ پہ ٹیک کر آنکھوں کو انتظار میں تحلیل کر چلے گہری سیاہ رات میں خود کو جلا کے ہم مثل مثال روشنی تمثیل کر چلے اندر کی چپ کو کس نے عطا کر دی دھڑکنیں حسرتؔ نئی زبان میں تفصیل کر چلے





