SHAWORDS
H

Hasrat Saharvardi

Hasrat Saharvardi

Hasrat Saharvardi

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

کچھ اس طرح بھی ہم نے گزاری ہے پیار میں دل میں ہجوم یاس نگہ انتظار میں اب بزم عیش سے بھی اٹھا جا رہا ہے دل اب لطف آ رہا ہے غم روزگار میں بے چینیوں کی میری تجھے کچھ خبر بھی ہے آنکھیں بچھی ہوئی ہیں ترے انتظار میں دنیا کی اونچ نیچ میں کچھ کچھ سنبھل گئے اب حوصلے نئے ہیں دل بے قرار میں ہر ذرۂ زمیں کو بنائیں گے آفتاب فرصت ملے جو زندگئ مستعار میں کل امن کی تلاش میں نکلے تھے قافلے اب آ کے رک گئے ہیں تری رہ گزار میں

kuchh is tarah bhi ham ne guzaari hai pyaar mein

غزل · Ghazal

گلوں سے عشق گلستاں سے پیار کرتے رہے بھری خزاں میں بھی ذکر بہار کرتے رہے ہماری بے خودیٔ شوق کی نہ پوچھو کہ ہم ترے قریب ترا انتظار کرتے رہے کسی کے دست حنائی کا آسرا لے کر حفاظت غم لیل و نہار کرتے رہے زمانہ یوں بھی کبھی اپنے ساتھ چل نہ سکا مگر زمانے کا ہم اعتبار کرتے رہے تمہاری یاد سے وابستہ تلخیاں ہی رہیں تمہارا ذکر مگر بار بار کرتے رہے بڑے سلیقے سے پہنچے ہیں آج منزل پر جو تیری راہ گزر اختیار کرتے رہے غزل کی آڑ میں حسرتؔ غزل کے سودائی خود اپنے داغ جگر آشکار کرتے رہے

gulon se ishq gulistaan se pyaar karte rahe

غزل · Ghazal

اک مسلسل غم کا ساماں ہے جہاں رہتا ہوں میں فکر حیراں دل پریشاں ہے جہاں رہتا ہوں میں اپنے شانوں پر اٹھا کے اپنے ارمانوں کی لاش بد تر از حیوان انساں ہے جہاں رہتا ہوں میں اک مسلسل کشمکش دیر و حرم کے درمیاں ہر نفس محبوس عرفاں ہے جہاں رہتا ہوں فن برائے فن تعیش کے لئے مخصوص ہے شاعری صید غزالاں ہے جہاں رہتا ہوں میں حسن کی زردار کے ہاتھوں ہوئی مٹی خراب عشق صید رنج دوراں ہے جہاں رہتا ہوں میں عشرتیں گھبرا رہی ہیں پاس آنے کو مرے نکہتوں کا ایک طوفاں ہے جہاں رہتا ہوں میں ادھ کھلی کلیاں شگوفے مضمحل افسردہ گل اک خزاں تا حد امکاں ہے جہاں رہتا ہوں میں کیوں مری بے چارگی پر ہنس رہا ہے اک جہاں کیوں خدا مجھ سے گریزاں ہے جہاں رہتا ہوں میں

ik musalsal gham kaa saamaan hai jahaan rahtaa huun main

غزل · Ghazal

مرے دست جنوں کی فتنہ سامانی کو کیا کہئے کہ اک عالم پریشاں ہے پریشانی کو کیا کہئے جہان رنگ و بو کی وسعتیں وقعت نہیں رکھتیں مرے جوش تخیل کی فراوانی کو کیا کہئے کسی کی یاد سے قائم ہے رونق بزم امکاں میں کسی کی یاد کے جلوؤں کی تابانی کو کیا کہئے لب لعلیں سے پینے میں مجھے کیا عار ہے ہمدم سسکتی چیختی اس نوع انسانی کو کیا کہئے کسی صورت دل محزوں کو بہلایا نہیں جاتا دل محزوں کی اس طرفہ پریشانی کو کیا کہئے یہی موجیں کبھی رخ پھیر دیتی تھیں سفینوں کا انہیں موجوں کی اب بے ساز و سامانی کو کیا کہئے

mire dast-e-junun ki fitna-saamaani ko kyaa kahiye

غزل · Ghazal

خبر نہیں کہ زمیں ہیں کہ آسماں ہیں ہم خبر نہیں کہ بھنور ہیں کہ بادباں ہیں ہم نہ زاد راہ نہ ہمت نہ منزل مقصود نہ جانے کونسی منزل کے کارواں ہیں ہم چمن میں رہ کے بھی رنگ چمن سے ہیں محروم بہار ہیں کہ خزاں ہیں کہ گلستاں ہیں ہم پلا شراب اٹھا ساز دل کے تار ہلا ابھی شباب کے دن ہیں ابھی جواں ہیں ہم کشاکش غم ہستی سے گر ملے فرصت جہاں کو ہم بھی دکھا دیں گے با زباں ہیں ہم جہاں کو اپنی نظر سے گرا دیا ہم نے خود اپنے حال میں پوشیدہ اک جہاں ہیں ہم ہمیں نہ حسرت دنیا نہ حسرت عقبیٰ خود اپنے پاؤں کے مٹتے ہوئے نشاں ہیں ہم

khabar nahin ki zamin hain ki aasmaan hain ham

غزل · Ghazal

کس کو کھویا ہے کس کو پایا ہے بارہا یہ خیال آیا ہے زندگی کی کراہتوں پر بھی ہم کو آیا تو پیار آیا ہے لطف مرنے میں ہے نہ جینے میں موڑ ایسا بھی ایک آیا ہے وعدہ کر وعدہ کچھ تو بات بنے کس نے وعدہ بھلا نبھایا ہے آگ اپنی ہو یا پرائی ہو اپنے اشکوں سے خود بجھایا ہے زندگی کی سیاہ راتوں کو تیری یادوں سے جگمگایا ہے بوجھ اٹھتا نہیں ہے کیا کہئے ہم نے سو سو طرح اٹھایا ہے کارواں ہے نہ کارواں کا غبار خضر نے گل یہ کیا کھلایا ہے ہم نے حسرتؔ سکون کی خاطر دشمنوں کو گلے لگایا ہے

kis ko khoyaa hai kis ko paayaa hai

Similar Poets