"zindagani asiir karne ko gesuon ka ye jaal achchha hai"

Hassan Ahmad Awan
Hassan Ahmad Awan
Hassan Ahmad Awan
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalzindagaani asiir karne ko
gesuon kaa ye jaal achchhaa hai
Ghazalغزل
tamaam taaron ko jaise qamar se joDaa hai
تمام تاروں کو جیسے قمر سے جوڑا ہے مری جبیں کو ترے سنگ در سے جوڑا ہے خدا نے خود کو بظاہر چھپا کے رکھا ہے ہمارے دل کو نہ جانے کدھر سے جوڑا ہے وصال و ہجر کی ترتیب الٹی رکھی ہے ادھر کا سلسلہ اس نے ادھر سے جوڑا ہے خدا نے سادہ قلم سے بنایا ہم سب کو ترے وجود کو اپنے ہنر سے جوڑا ہے یہ چاند بھی تو ترے حسن کا بھکاری ہے تمہارے حسن کو کس نے قمر سے جوڑا ہے تمام لذتیں دنیا کے دل میں رکھی ہیں خدا نے سکھ کو مگر اپنے گھر سے جوڑا ہے تمام مدحتیں وقف بہ نام احمؐد ہیں تمام ذکر کو اس تاجور سے جوڑا ہے
ye khaaki aag se ho kar yahaan pe pahunchaa hai
یہ خاکی آگ سے ہو کر یہاں پہ پہنچا ہے خمیر اٹھا تھا جہاں سے وہاں پہ پہنچا ہے نگاہ حسن نے ترتیب الٹی کر ڈالی کہ تیر نکلا نظر سے کماں پہ پہنچا ہے ابھی تلک جو فدائے بنام عشق رہا جو ہوش آیا تو سود و زیاں پہ پہنچا ہے میں ظاہراً تو سخن سے بہ خوب واقف ہوں دروں کا عکس اگرچہ زیاں پہ پہنچا ہے خزان ہجر میں گلشن میں پھول کھلنے لگے گزند یہ بھی دل ناتواں پہ پہنچا ہے
dariyaa ki taraf dekh lo ik baar mire yaar
دریا کی طرف دیکھ لو اک بار مرے یار اک موج کہ کہتی ہے مرے یار مرے یار ویرانیٔ گلشن پہ ہی معمور ہے موسم مٹی سے نکلتے نہیں اشجار مرے یار کیا خاک کسی غیر پہ دل کو ہو بھروسا اپنے بھی ہوئے جاتے ہیں اغیار مرے یار مقتل سی فضا رہتی ہے اس ملک میں ہر دم دیکھے ہیں مناظر کئی خوں بار مرے یار ہم خاک نشینوں کی یہاں کون سنے گا اونچے ہیں بہت خواب کے دربار مرے یار دیکھو یہ چلن ٹھیک نہیں عشق میں ہرگز وعدے سے مکر جاتے ہو ہر بار مرے یار دو چار ہی الفاظ محبت سے بھرے ہوں تو دشت کو کر دیتے ہیں گلزار مرے یار حسانؔ جواں خوب تری مشق سخن ہے ہر روز کہے جاتے ہو اشعار مرے یار
ashk ki aisi faraavaani pe rashk aataa hai
اشک کی ایسی فراوانی پہ رشک آتا ہے چشم نم تیری پریشانی پہ رشک آتا ہے جب کسی عالم حیرت کی خبر لگتی ہے رشک آتا ہے جہانبانی پہ رشک آتا ہے تابش ماہ بھی کچھ کم تو نہیں ہے لیکن یار کے چہرۂ نورانی پہ رشک آتا ہے اوج افلاک پہ تنہائی کو لے آیا تھا اس لیے کوچۂ ویرانی پہ رشک آتا ہے حسنؔ احمد کا ہی عطیہ ہے یہ حسن دنیا حسن کی اتنی فراوانی پہ رشک آتا ہے
ishq aazaar kar diyaa jaae
عشق آزار کر دیا جائے غم کو بیدار کر دیا جائے کر لو آباد ہجر یاراں کو گھر کا مختار کر دیا جائے ٹھوکریں کچھ بھلے ادھر کی لگیں ہم کو اس پار کر دیا جائے کوئی مٹی کے دام دینے لگے صاف انکار کر دیا جائے آؤ نکلیں جنوں کے سائے میں گھر کو مسمار کر دیا جائے ایسے کچھ رہنما میسر ہوں نیک کردار کر دیا جائے
aise kuchh log bhi miTTi pe utaare jaaein
ایسے کچھ لوگ بھی مٹی پہ اتارے جائیں دیکھ کر جن کو خد و خال سنوارے جائیں ایک ہی وصل کی تاثیر رہے گی قائم کون چاہے گا یہاں سال گزارے جائیں تیرے ابرو ہیں کہ صورت کوئی قوسین کی ہے درمیاں آ کے کہیں لوگ نہ مارے جائیں ماہی اس پار کھڑا آپ کی راہ تکتا ہے آپ تعظیم کریں اور کنارے جائیں روشنی چاہیے کچھ دیر ذرا اور ہمیں چاند رک جائے یہیں اور ستارے جائیں





