"jin se mansub mire dil ki har ik dhaDkan ho vo na samjhen mire jazbat to dukh hota hai"

Hidayatullah Khan Shamsi
Hidayatullah Khan Shamsi
Hidayatullah Khan Shamsi
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totaljin se mansub mire dil ki har ik dhaDkan ho
vo na samjhein mire jazbaat to dukh hotaa hai
Ghazalغزل
mujhe teri judaai kaa ye sadma maar Daalegaa
مجھے تیری جدائی کا یہ صدمہ مار ڈالے گا زمانے بھر میں رسوائی کا چرچا مار ڈالے گا تمہارے نام سے جاناں مرا یہ دل دھڑکتا ہے اب آؤ ہاتھ رکھ دو ورنہ دھڑکا مار ڈالے گا کوئی غمگین مل جائے تو ہنسنا بھول جاتا ہوں کسی دن خیر خواہی کا یہ جذبہ مار ڈالے گا چراغوں میں لہو ڈالو ہے لڑنی جنگ ظلمت سے وگرنہ اب اجالوں کو اندھیرا مار ڈالے گا زمیں کے سرخ منظر رات کو سونے نہیں دیتے کسی دن مجھ کو یہ احساس میرا مار ڈالے گا زمیں پر ایڑیاں رگڑو کہ اب چشمہ کوئی پھوٹے بہت ظالم ہے دریا ہم کو پیاسا مار ڈالے گا سمندر پار کرنا عشق کا آساں نہیں شمسیؔ بھنور سے بچ بھی جائیں تو کنارا مار ڈالے گا
zindagi se mili saughaat ye tanhaai ki
زندگی سے ملی سوغات یہ تنہائی کی خواب ٹوٹے ہیں کئی آنکھ میں صحرائی کی کیوں سر بزم مری اس نے پذیرائی کی اس میں سازش تو نہیں پھر سے مرے بھائی کی برق منظر سے نگاہوں کی بصارت چھینے فکر دشمن کو مرے ہے مری بینائی کی لوگ چہرے پہ اداسی کا سبب پوچھیں گے کیا کہوں گا کہ مجھے فکر ہے رسوائی کی لوگ باہر سے سمجھتے ہیں بہت خوش ہوں میں کیا خبر ان کو مرے زخم کی گہرائی کی میں بھی آؤں گا تجھے دینے مبارک بادی جب بھی آواز سنوں گا تری شہنائی کی چھین کر منہ سے غریبوں کے نوالے شمسیؔ حاکم وقت نے کیا خوب مسیحائی کی
raas aai na mujhe anjuman-aaraai bhi
راس آئی نہ مجھے انجمن آرائی بھی آفت جان بنی ہائے شناسائی بھی دشمنوں کی مرے اوقات کہاں تھی اتنی سازش قتل میں شامل تھا مرا بھائی بھی آنکھ اندھی تھی زمانے سے یہاں لوگوں کی مر گئی زیر دہن قوت گویائی بھی تجھ سے نسبت ہو کوئی سنگ ملامت کی اگر مجھ کو پیاری ہے ترے شہر میں رسوائی بھی کشتیٔ زیست جہاں ڈوب رہی تھی میری میرے اپنے تھے وہاں لوگ تماشائی بھی کر دیا مجھ کو مسائل نے ابھی سے بوڑھا وقت نے رخ سے مرے چھین لی رعنائی بھی مفلسی جن کے مقدر میں لکھی ہے شمسیؔ ان کے گھر بجتی نہیں ہے کبھی شہنائی بھی
phir andheri raah mein koi diyaa mil jaaegaa
پھر اندھیری راہ میں کوئی دیا مل جائے گا تم اکیلے گھر سے نکلو قافلہ مل جائے گا تنگ ظرفی خشک کر ڈالے گی دریا دیکھ لے ہم کو کیا کوئی سمندر دوسرا مل جائے گا کر رہا ہوں میں تعاقب گردش ایام کا اک نہ اک دن زندگی تیرا پتا مل جائے گا آندھیو آ جاؤ کھل کر میں چراغ طور ہوں مجھ سے ٹکرانے کا تم کو بھی مزہ مل جائے گا تنگ مت کر اے زمیں کر دیں اشارہ اک اگر آسمانوں سے بھی ہم کو آسرا مل جائے گا سنگ فرقت مار کر مت جاؤ مجھ کو چھوڑ کر دل کا شیشہ توڑنے سے یار کیا مل جائے گا ساحلوں پر رہنے والو اک ذرا آواز دو غرق ہوتی کشتیوں کو حوصلہ مل جائے گا
mire shaane pe rahne do abhi gesu zaraa Thahro
مرے شانے پہ رہنے دو ابھی گیسو ذرا ٹھہرو بکھر جانے دو اپنے جسم کی خوشبو ذرا ٹھہرو ادھورا چھوڑ کر جاؤ نہ یہ قصہ محبت کا چھنکتے ہیں ابھی ارمان کے گھنگھرو ذرا ٹھہرو سکون قلب کی خاطر شب فرقت میں چوموں گا بنا لینے دو تصویر لب و ابرو ذرا ٹھہرو مری رگ رگ میں جاناں بھر گیا ہے نشۂ قربت اتر جائے تمہارے لمس کا جادو ذرا ٹھہرو یہ موسم کا تقاضہ اور بھیگی شب کی حسرت ہے بدلنا عشق میں ہے آخری پہلو ذرا ٹھہرو کلیجہ شق ہوا جائے بچھڑنے کے تصور سے محبت دل میں کرتی ہے اب ہا و ہو ذرا ٹھہرو رواں ہے خون کا دریا مری آنکھوں سے اے شمسیؔ ابھی رقصاں ہے دل میں درد کا جگنو ذرا ٹھہرو
doston se to kinaaraa bhi nahin kar saktaa
دوستوں سے تو کنارا بھی نہیں کر سکتا ان کا ہر ظلم گوارا بھی نہیں کر سکتا میرا دشمن مرے اپنوں میں چھپا بیٹھا ہے اس کی جانب میں اشارا بھی نہیں کر سکتا شب میں نکلے گا نہیں اس پہ مسلط ہے نظام دن میں سورج کا نظارا بھی نہیں کر سکتا عیش و عشرت کا طلب گار نہیں ہوں پھر بھی تنگ دستی میں گزارا بھی نہیں کر سکتا شوق ایسا کہ مچلتا ہے محبت کے لیے جرم ایسا کہ دوبارا بھی نہیں کر سکتا غم ہے بیتاب کہ آنکھوں سے نکل جائے مگر دل کی دولت کا خسارا بھی نہیں کر سکتا





