
Himanshi Babra
Himanshi Babra
Himanshi Babra
Ghazalغزل
sab mujhe teraa talab-gaar samajhte honge
سب مجھے تیرا طلبگار سمجھتے ہوں گے یہ بھی ممکن ہے کہ ہر بار سمجھتے ہوں گے وہ جو بھرتا تھا تری یاد کی تصویر میں رنگ لوگ اس شخص کو بیکار سمجھتے ہوں گے جو مرا درد بڑھانے کے لیے آتا تھا شہر والے اسے غم خوار سمجھتے ہوں گے اتنا خوش ہو کے کوئی مجھ سے ملا کرتا تھا دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہوں گے
apne honTon pe tiraa naam na aane dungi
اپنے ہونٹوں پہ ترا نام نہ آنے دوں گی میں ترے ہجر کو بیکار نہ جانے دوں گی اب نہ وہ تو ہے نہ وہ عشق جو پہلے تھا کبھی تو اگر دور بھی جائے گا تو جانے دوں گی آنسوؤں میں بہا دوں گی مرے دل کے ٹکڑے اپنی آنکھوں کو ترا رنج منانے دوں گی میرے محبوب ترے بعد کبھی اپنا حال نہ سناؤں گی کسی کو نہ سنانے دوں گی تو اگر سامنے آیا تو بہت دیکھوں گی اور اگر آنکھ چرائے گا چرانے دوں گی
saath dene kaa dilaayaa thaa bharosa tu ne
ساتھ دینے کا دلایا تھا بھروسہ تو نے اور پھر چھوڑ دیا مجھ کو اکیلا تو نے اپنی مرضی سے مجھے چھوڑ کے جانے والے میری مرضی کو کہاں چھوڑ دیا تھا تو نے ہائے افسوس تجھے اب بھی یہ معلوم نہیں زندگی میری بنا دی ہے تماشہ تو نے جیسے تیسے میں بنا روئے چلی جاتی مگر کس لیے دیکھ لیا مڑ کے دوبارہ تو نے بات رخسار کی ہوتی تو کوئی بات نہ تھی آج تو روح پہ مارا ہے طمانچہ تو نے
tum aaoge numaaish-e-saamaan dekh kar
تم آؤ گے نمائش سامان دیکھ کر کیوں کاروبار چھوڑ دوں نقصان دیکھ کر نخرے اٹھا رہی ہوں تمہاری تلاش کے رکتی نہیں ہوں راستا ویران دیکھ کر سوچا نہیں تھا میں نے کبھی تیرے جیسا شخص منہ پھیر لے گا مجھ کو پریشان دیکھ کر وہ تیرا لمس وہ تری باہوں کی خوشبوئیں لوٹی ہوں جیسے کوئی گلستان دیکھ کر تو لاکھ بے وفا ہے مگر سر اٹھا کے چل دل رو پڑے گا تجھ کو پشیمان دیکھ کر جو کھو گیا تھا پھر سے کسی موڑ پر ملا حیران ہو گیا مجھے حیران دیکھ کر ظاہر نہ ہو کہ مجھ سے ترا واسطہ بھی ہے سب کی نظر ہے تجھ پہ مری جان دیکھ کر
vo haath mere haath se behad qarib thaa
وہ ہاتھ میرے ہاتھ سے بے حد قریب تھا پھر بھی میں چھو نہیں سکی میرا نصیب تھا اب تجھ سے بن گئی تو زمانے سے بن گئی جب تو رقیب تھا تو زمانہ رقیب تھا ترک تعلقات پہ آیا نہیں سمجھ تیرا نصیب تھا کہ یہ میرا نصیب تھا کچھ وقت میں ہی مجھ سے بہت دور ہو گیا وہ ایک شخص جو مرے سب سے قریب تھا آیا ہے خالی ہاتھ وہ بازار عشق سے یادیں بھی لا نہیں سکا اتنا غریب تھا
sab ko paagal banaa rahi huun main
سب کو پاگل بنا رہی ہوں میں اپنا قصہ سنا رہی ہوں میں جاں سنبھلتی نہیں ہے اور اس پر یاد کا بوجھ اٹھا رہی ہوں میں جی میں آتا ہے پوچھ لوں اس سے کیا تجھے یاد آ رہی ہوں میں اک محبت ہے اور اس کا بھی کیا تماشہ بنا رہی ہوں میں کس کی یادیں ہیں بارہا جن کو آنسوؤں میں بہا رہی ہوں میں کوئی پوچھے تو اس کو بتلاؤں یاد کیسے چھپا رہی ہوں میں





