
Hina Ambareen
Hina Ambareen
Hina Ambareen
Ghazalغزل
نیند پلکوں کے کناروں پہ دھری رہتی ہے خواب میں سبز جزیرے کی پری رہتی ہے جھاڑ جھنکار سا بکھرا ہوا رہتا ہے دماغ شاخ دل پر کئی یادوں سے ہری رہتی ہے ذہن اک ہجر کی وحشت میں دھنسا رہتا ہے جیب تنہائی کے سکوں سے بھری رہتی ہے اس کی ٹیبل پہ کئی پھول سجے رہتے ہیں فرش پر پاؤں کے رکھنے کو دری رہتی ہے اس کو فرصت نہیں سننے کو مری بات کئی اس لیے ذہن پہ آشفتہ سری رہتی ہے دل دھڑک اٹھتا ہے ہر چاپ پہ شاید وہ ہو آنکھ دروازے پہ ہر وقت دھری رہتی ہے دیکھنے کو تو نظر آتی ہے مضبوط بہت ایک کمسن مگر اندر سے ڈری رہتی ہے
niind palkon ke kinaaron pe dhari rahti hai
عشق ہے سرسبز ویرانہ حناؔ دل نہ مانے دل کو سمجھانا حناؔ لفظ کا جادو نہایت کارگر حرف کی خوشبو جداگانہ حناؔ کیا محبت کا یہی دستور ہے ہر قدم پر ڈگمگا جانا حناؔ ہوش میں رہنا بھی کرنا عشق بھی کار دنیا سے بھی گھبرانا حناؔ یہ محبت خوش نما پنجرہ کوئی قید کی عادی نہ ہو جانا حناؔ پہل کرنا گر جدا ہونا پڑے خود کو دوراہے پہ مت لانا حناؔ کوئی بھی تیرے سوا تیرا نہیں اپنی طاقت آپ بن جانا حناؔ داد سے خوش فہمیاں مت پالنا خواب سے دھوکہ نہیں کھانا حناؔ
ishq hai sarsabz viraana 'hinaa'
رنگت چہرہ آنکھیں عارض لب دھتکارے گا فخر تکبر عادت جس کی سب دھتکارے گا اس نے خوبی دے دی ہے تو مت اترا کر چل اس کے بندے دھتکارے تو رب دھتکارے گا غربت تو ہر حال میں رب کا شکر سکھاتی ہے جس کو بھوک نے ڈس رکھا ہو کب دھتکارے گا حرص و ہوس کے شیدائی اور مطلب کے بندے پاؤں سے لپٹیں گے تیرے جب دھتکارے گا مولا ہم پر مت لانا ایسے بے دیدے دن جب ہر بندہ دوجے کا مذہب دھتکارے گا عشق نواز کو کب ہوتی ہے مال و زر کی چاہ فقر چنے گا عہدہ اور منصب دھتکارے گا دل اس کو دے بیٹھے ہیں اور اب ہم خالی ہاتھ وہ جب چاہے مطلب بن مطلب دھتکارے گا
rangat chehra aankhein 'aariz lab dhutkaaregaa
اجڑے ہوئے رستے ہم گزرے ہوئے لمحے ہم رنگوں سے مزین تھے چھو لینے سے بکھرے ہم نابود مکمل کر ٹوٹے نہیں چٹخے ہم سیراب ہوئی دنیا اک بوند کو ترسے ہم دے دیں اسے غیروں کو دنیا ترے صدقے ہم اپنی بڑی قیمت تھی کتنے ہوئے سستے ہم اس آنکھ میں گھر ہوتا اس دل میں دھڑکتے ہم ہم بچھڑی ہوئی بانہیں بھولے ہوئے لمحے ہم لپٹی ہوئی فکریں ہیں کہتے نہیں دکھڑے ہم حجت بھی اگر کرتے کس شخص کے کرتے ہم اے یاد چل آہستہ گونگے ہیں نہ بہرے ہم
ujDe hue raste ham
ہم جاہل ناکارہ لوگ ہم پر کریں اجارا لوگ ہم ہیں راکھ امیدوں کی وہ ہیں چاند ستارا لوگ کس کی بات سنے کوئی بول رہے ہیں بارہ لوگ ڈوب رہے تھے سب کے سب بھولے آس کنارا لوگ دل سے مل کر رہتے ہیں ایک ہی گھر میں بارہ لوگ بھائی چارہ ختم ہوا ہو گئے پارا پارا لوگ لہجہ کس نے تلخ کیا چیخا اور پکارا لوگ ہم تم ہوں اس دنیا میں ہم کو نہیں گوارا لوگ سالوں بعد ہوئے یکجا آ گئے بیچ دوبارہ لوگ
ham jaahil naakaara log
یاد پر انگلیاں اٹھاتی ہوں خواب پر تہمتیں لگاتی ہوں کیا کہا دشت کا ارادہ ہے تو چلو ساتھ میں بھی آتی ہوں وہ جو مجھ سے کبھی ملا ہی نہیں میں اسے رات دن ستاتی ہوں اس کو رکھا ہے فکر سے آزاد خود پہ پابندیاں لگاتی ہوں نا کہیں خواب جان جائیں مرا پھول سے تتلیاں اڑاتی ہوں در کا دستک کے ساتھ رشتہ ہے اس لیے روز کھٹکھٹاتی ہوں میں ترا خواب دیکھنے کے لیے نیند کی روشنی بناتی ہوں آنکھ کو خشک کر لیا میں نے خواب سیلاب میں بہاتی ہوں
yaad par ungliyaan uThaati huun





