
Hira Qasmi
Hira Qasmi
Hira Qasmi
Ghazalغزل
فسون شب کی سیاہی سے ہار جاتے ہیں ہم اہل گریہ خموشی سے ہار جاتے ہیں سجا کے چاروں طرف دوستو وہ بزم نشاط سنا ہے دل کی اداسی سے ہار جاتے ہیں دلوں میں درد لیے اہل ہجر نوحہ گر رہ وفا میں اسیری سے ہار جاتے ہیں قبیلہ یوں تو لب جو بسا لیا لیکن ہم اب بھی تشنہ دہانی سے ہار جاتے ہیں عجیب ہوتے ہیں اے شخص دکھ کے باشندے ذرا سے آنکھ کے پانی سے ہار جاتے ہیں
fusun-e-shab ki siyaahi se haar jaate hain
درد کا کوئی ہم نوا بھی نہیں خواب کیا اب تو رت جگا بھی نہیں چاند تارے ہیں دسترس میں تری میری قسمت میں اک دیا بھی نہیں جس کی چاہت میں غرق ہوں لوگو بے خبر وہ یہ جانتا بھی نہیں جان جاں دیکھ تیرے جانے سے رنگ بے رنگ ہیں ضیا بھی نہیں میں وہ حرماں نصیب ہوں جس کے ہاتھ خالی ہیں اور دعا بھی نہیں
dard kaa koi ham-navaa bhi nahin
اداسی کے پیمبر تھے بلا کے مرے ہمدم قلندر تھے بلا کے گئے تو لوٹ کر آئے نہیں پھر تری آنکھوں میں منتر تھے بلا کے ملی صحرا نشینی جن کو یارو مزاجوں میں سمندر تھے بلا کے سو خوں گر ہو گئی یہ چشم خوباں ہمارے خواب بنجر تھے بلا کے کئی لوگوں نے پایا روشنی کو ہمارے زخم اختر تھے بلا کے مرا شیوہ تھا سب سے ہنس کے ملنا مری قسمت میں خنجر تھے بلا کے یہ اب بھی روح میری نوچتے ہیں تمہارے لفظ نشتر تھے بلا کے
udaasi ke payambar the balaa ke
محبتوں کا مآل چھوڑو فسردگی کا زوال رکھ دو ستارے لے لو تم اپنی خاطر اور اس کی خاطر ہلال رکھ دو گلیشیئر بھی پگھل چکے ہیں تمہاری فرقت کے رفتہ رفتہ اداسیوں کی جبیں پہ آؤ محبتوں کا وصال رکھ دو نقاہتوں سے الجھ پڑے ہیں مسرتوں کے حسین لمحے سو میرے ہمدم قریب آ کے ملال لے لو جمال رکھ دو میں دست بستہ محبتوں کے سفر پہ تنہا نکل پڑی ہوں بنا کے خوشیوں کو ہم سفر تم مرے لیے اب کدال رکھ دو حراؔ مراہم سے تنگ آ کر یہ اس سے کہتی ہیں دل کی دھڑکن نکھارتے ہو جو وحشتوں سے تو مشفقانہ خیال رکھ دو
mohabbaton kaa maaal chhoDo fasurdagi kaa zavaal rakh do
فسون شب کی سیاہی سے ہار جاتے ہیں ہم اہل گریہ خموشی سے ہار جاتے ہیں سجا کے چاروں طرف دوستوں وہ بزم نشاط سنا ہے دل کی اداسی سے ہار جاتے ہیں دلوں میں درد لیے اہل ہجر نوحہ گر رہ وفا میں اسیری سے ہار جاتے ہیں قبیلہ یوں تو لب جو بسا لیا لیکن ہم اب بھی تشنہ دہانی سے ہار جاتے ہیں عجیب ہوتے ہیں اے شخص دکھ کے باشندے ذرا سے آنکھ کے پانی سے ہار جاتے ہیں
fusun-e-shab ki siyaahi se haar jaate hain
محبتوں کا مآل چھوڑو فسردگی کا زوال رکھ دو ستارے لے لو تم اپنی خاطر اور اس کی خاطر ہلال رکھ دو گلیشیئر بھی پگھل چکے ہیں تمہاری فرقت کے رفتہ رفتہ اداسیوں کی جبیں پہ آؤ محبتوں کا وصال رکھ دو نقاہتوں سے الجھ پڑے ہیں مسرتوں کے حسین لمحے سو میرے ہمدم قریب آ کے ملال لے لو جمال رکھ دو میں دست بستہ محبتوں کے سفر پہ تنہا نکل پڑی ہوں بنا کہ خوشیوں کو ہم سفر تم مرے لیے اب کدال رکھ دو حراؔ مراہم سے تنگ آ کر یہ اس سے کہتی ہیں دل کی دھڑکن نکھارتے ہو جو وحشتوں سے تو مشفقانہ خیال رکھ دو
mohabbaton kaa maaal chhoDo fasurdagi kaa zavaal rakh do





