
Ibrahim Ali Zeeshan
Ibrahim Ali Zeeshan
Ibrahim Ali Zeeshan
Ghazalغزل
چشم دیکھوں نہ میں اس کی نہ ہی ابرو دیکھوں پھر وہ کیا شے ہے جسے دنیا میں ہر سو دیکھوں اس بھرے شہر میں بس ایک ہی سوداگر ہے اب میں سامان خریدوں کہ ترازو دیکھوں جنگ نے چھوڑ دئے زخم مرے ہاتھوں پر فتح کا جشن مناؤں کہ یہ بازو دیکھوں مجھ کو حالات نے اس سمت دھکیلا ہے مگر میری یہ عمر کہاں ہے کہ میں گھنگرو دیکھوں ان اجالوں سے بندھی ہیں مری آنکھیں ذیشاںؔ ان اجالوں سے نکل جاؤں تو گھنگرو دیکھوں
chashm dekhun na main us ki na hi abru dekhun
ہم ایک روز اس کو بھلانے نکل گئے جب آئے لوٹ کر تو زمانے نکل گئے اک شخص جا رہا تھا ہمارا زمین سے ہم آسمان سر پہ اٹھانے نکل گئے تو تو خموش ہو گیا پھر ہم گلی گلی تیری طرف کا شور مچانے نکل گئے جب جب ہمارے ہاتھ میں آئے ہمارے پاؤں ان کی گلی میں خاک اڑانے نکل گئے اس کم سخن نے آج بہت کھل کے بات کی مفلس کی جھوپڑی سے خزانے نکل گئے بالکل نئی زبان تھی اس کے کلام میں لیکن ہمارے کان پرانے نکل گئے جب جب بھی یاد آئیں تمہاری ہتھیلیاں ہم دوستوں سے ہاتھ ملانے نکل گئے
ham ek roz us ko bhulaane nikal gae
رہ رہ کے یاد آتی ہے اس شرمسار کی بے اختیاری دیکھ مرے اختیار کی ڈر ہے کہ گر نہ جائے محبت کا آشیاں مٹی کھسک رہی ہے مرے اعتبار کی مرجھا رہا ہے دل میں تری یاد کا درخت کیا دھوپ پڑ رہی ہے ترے انتظار کی اک تجھ کو دیکھنا ہی مرا کام کاج تھا کیوں دھجیاں اڑا دیں مرے روزگار کی وہ شخص آ کے میرے محلے میں بس گیا مجھ پر نگاہ پڑ گئی پروردگار کی
reh reh ke yaad aati hai us sharmsaar ki
کرتا ہے کوئی اب بھی پذیرائی ہماری رسوائی بھی لگتی نہیں رسوائی ہماری ہم دیکھ کے دنیا بھی تجھے دیکھ نہ پائے بے کار پڑی رہ گئی بینائی ہماری لگتا ہے بچھڑ کر بھی نظر آتے رہیں گے ہے اس کے محلے میں شناسائی ہماری ہم تیرے خیالوں میں بھٹکتے رہے بے جا آواز لگاتی رہی تنہائی ہماری اب سب سے مصور کا پتہ پوچھ رہا ہے اتنی اسے تصویر پسند آئی ہماری رسوائی پہ ہم ناز کریں کیوں نہ بتائیں جب آپ سے منسوب ہے رسوائی ہماری
kartaa hai koi ab bhi paziraai hamaari
یوں بھرم اپنی امیری کا بنا رکھا ہے گھر تو خالی ہے مگر تالا لگا رکھا ہے آل مقتول تو مقتل میں کھڑی ہے خاموش آپ نے کس لیے ہنگامہ مچا رکھا ہے تم نے صحرا میں بہت خاک اڑائی ہوگی میں نے تو شہر میں ماحول بنا رکھا ہے جیسے تیسے تری تصویر چرا لی میں نے بس کوئی پوچھ نہ لے جیب میں کیا رکھا ہے تم کہو اپنے تعلق کی وضاحت کر دوں ایک پتھر ہے جسے سر پہ اٹھا رکھا ہے
yuun bharam apni amiri kaa banaa rakkhaa hai
آنکھ سے کیسے کہوں اب بھی اندھیرا دیکھے مدتیں بیت گئیں دھوپ کا جلوہ دیکھے دو گلاسوں میں سمندر تو نہیں آ سکتا یہ نظر تجھ کو اگر دیکھے تو کتنا دیکھے گھوم کر دیکھ لیا سارا زمانہ میں نے اب تو بنتا ہے مجھے سارا زمانہ دیکھے ایسے پڑھتا ہوں قصیدے تری رعنائی کے ہے جو محروم نظر وہ بھی سراپا دیکھے جا رہا تھا وہ مجھے چھوڑ کے ایسے اس دن میں نے بھی چاہا نہیں مڑ کے دوبارہ دیکھے اس کے جانے پہ خوشی بھی تھی مجھے فکر بھی تھی جیسے ماں مدرسے جاتا ہوا بچہ دیکھے بہت اتراتا ہے آزادی پہ اپنی کوئی اس سے کہنا کبھی آ کر مرا پنجرہ دیکھے
aankh se kaise kahun ab bhi andheraa dekhe





