SHAWORDS
Ikram Basra

Ikram Basra

Ikram Basra

Ikram Basra

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

زندگی جب ترے آثار نظر آئیں گے ہم ترے شہر کے اس پار نظر آئیں گے میری آنکھوں کا کنارہ جو تمہیں کافی ہو میرے بازو تمہیں پتوار نظر آئیں گے کہیں خود کو نظر آئے بھی ترے بعد تو ہم سانس لیتے ہوئے بیکار نظر آئیں گے لوگ ڈھونڈیں گے ہمیں ڈھونڈنے والوں کی طرح ہم پس چشم نم یار نظر آئیں گے عاشقی ایسے قبیلے میں رعایت کیسی پانی بھرتے ہوئے سردار نظر آئیں گے کوئی ملہار نہ سوجھے گا ترے بعد ہمیں بانجھ دھرتی کے زمیں دار نظر آئیں گے دل کے پردے پہ اگر ایک نظر ڈالیں تو کچھ پریشان سے کردار نظر آئیں گے

zindagi jab tire aasaar nazar aaeinge

غزل · Ghazal

نہ دلیلیں نہ ہی ابابیلیں صبر کے گھونٹ ہیں وہی پی لیں کیسی بے خواب ہیں سبھی آنکھیں جس طرح خشک و بے اماں جھیلیں مات کھا جائیں ضبط سے اپنے اور انسانیت پہ بازی لیں ایک انسان کا لہو کر کے اس پہ شیطان کی گواہی لیں کوچ کر جائیں ایسے کوچے سے ساتھ ناکامیوں کی پونجی لیں جہل میں سہل ہے انہیں شاید اس پہ اک دوسرے سے تھپکی لیں بس نہیں چل رہا فرشتوں کا ورنہ پلٹی ہوئی یہ دھرتی لیں جن کے شجرے میں بس جہالت ہے ان سے نسلوں کی رہنمائی لیں راکھ سورج ہی کی نکلتی ہے جب کسی رات کی تلاشی لیں یہ سیاہی ہے اس لیے شاید تاکہ اخبار اپنی سرخی لیں کتنے ہی گریے ہم پہ واجب ہیں پر سہولت نہیں کہ روحی لیں صرف پیدا ہوں اس زمانے میں اور پھر عمر بھر تسلی لیں سخت نادم ہوں اپنے بچوں سے یہی ماحول ہے اگر جی لیں

na dalilein na hi abaabilein

غزل · Ghazal

مرے دوش پر تری لاش رے او معاشرے تیرا مرگ فکر معاش رے او معاشرے میں جنم جنم کا فقیر ہوں تو امیر ہوں مجھے راس میرا قماش رے او معاشرے کئی الجھنوں کا جواز ہوں کوئی راز ہوں مجھے مجھ پہ رہنے دے فاش رے او معاشرے کئی آسمانوں سے دور ہوں میں غرور ہوں مجھے کب ہے تیری تلاش رے او معاشرے کوئی برف زاد وجود ہوں میں جمود ہوں مجھے دھوپ سے نہ تراش رے او معاشرے مرا زخم زخم دکھا دیا مجھے کیا دیا فقط آنسوؤں کا فراش رے او معاشرے اے خدائے دل اے خدائے دل اے خدائے دل او معاشرے او معاشرے او معاشرے

mare dosh par tiri laash re o maaashre

غزل · Ghazal

روح کو میری توجہ چاہیے زخم سے گہری توجہ چاہیے گھر کی حالت دیکھ کر لگتا نہیں اب اسے کوئی توجہ چاہیے جم گئی ہے کائی سی دہلیز پر تیرے قدموں کی توجہ چاہیے پہلے مجھ کو چاہیے تھا تو مگر اب فقط تیری توجہ چاہیے ایک چشم تر کہیں گم ہو گئی اے مری مٹی توجہ چاہیے ڈوبتے سورج کے یہ الفاظ تھے گھپ اندھیرے کی توجہ چاہیے بے خیالی تو کہاں ہے آج کل تجھ کو بھی تھوڑی توجہ چاہیے کر رہے ہیں آپ دیوانہ جسے اس کو پہلے ہی توجہ چاہیے

ruuh ko meri tavajjoh chaahiye

غزل · Ghazal

رستے کتنا تھک جاتے ہیں پھر بھی منزل تک جاتے ہیں پتوں کو آرام نہیں ہے کان ہوا کے پک جاتے ہیں لمحوں کو آسان نہ لینا لمحے صدیاں فق جاتے ہیں ایک طرف سے تم آتے ہو چاروں اور دھڑک جاتے ہیں ایک معطر یاد کے جھونکے تازہ لمس چھڑک جاتے ہیں قدموں کی عادت ہے یوں ہی سوئے یار سرک جاتے ہیں جانے دو لوگوں کی باتیں کچھ بھی آ کر بک جاتے ہیں رستہ گر بھی شرط نہیں ہے رستے آپ بھٹک جاتے ہیں آنکھیں چوکھٹ ہو جاتی ہیں موسم بے دستک جاتے ہیں

raste kitnaa thak jaate hain

غزل · Ghazal

بری زمینوں کے فاصلوں کو مٹاتے رہنا میں لوٹ آؤں گا مجھ کو واپس بلاتے رہنا یہ گرد بادوں کا مسئلہ ہے کہ مشغلہ ہے ہوا کے دامن پہ دائرے سے بناتے رہنا تری طلب کے علاوہ اپنا کوئی نہیں ہے قریب آ کر بھی کچھ نہ کچھ دور جاتے رہنا تمہاری آنکھیں تو زندگی سے بھری ہوئی ہیں ہمارے جیسوں کا حوصلہ بھی بڑھاتے رہنا وہ نظم جس کو پڑھا نہیں تھا جیا تھا ہم نے کوئی بھی رت ہو بہار آئی سناتے رہنا وصال کیا ہے سپردگی کا کمال کیا ہے بڑھا چڑھا کر سہیلیوں کو بتاتے رہنا نظر بھی رکھنا محلے والوں کی زندگی پر کبوتروں کو بھی دانہ وانہ کھلاتے رہنا بچھڑنا چاہو تو اپنے دل کی نفی نہ کرنا یہی بہت ہے جہاں رہو مسکراتے رہنا یہ پیڑ وہ ہیں جو آسمانوں کو سایہ دیں گے جو ہو سکے تو دعا کے پودے لگاتے رہنا ہماری دنیا میں حیرتوں کی بہت کمی ہے یہ آگ اندر سے بجھ رہی ہے جلاتے رہنا

buri zaminon ke faaslon ko miTaate rahnaa

Similar Poets