
Ilyas Raj Bhatti
Ilyas Raj Bhatti
Ilyas Raj Bhatti
Ghazalغزل
chaand chhat chhoD raah par niklaa
چاند چھت چھوڑ راہ پر نکلا گھر کو چھوڑا تو دل سے ڈر نکلا لوگ کہتے تھے وہ رہی منزل عمر بھر کا مگر سفر نکلا آنکھ والے تو بے بصر نکلے اور اک اندھا دیدہ ور نکلا لوگ تھے منتظر کناروں پر دور کتنا وہ ڈوب کر نکلا آج بچوں کو ڈانٹتا ہے مگر خود وہ کب گھر سے پوچھ کر نکلا چاند نکلا تو یوں لگا مجھ کو شب کی دیوار میں بھی در نکلا کی نظر رات آسماں کی طرف یوں لگا سر پہ اک کھنڈر نکلا جس کو بزدل سمجھ رہا تھا راجؔ دیکھ تیرا ہی ہم سفر نکلا
na kar kisi ki mohabbat kaa eatibaar na kar
نہ کر کسی کی محبت کا اعتبار نہ کر تمام عمر تمنا کو سوگوار نہ کر خلوص دل ہے بڑی چیز زندگی کے لئے ذرا سے غم میں گریباں کو تار تار نہ کر جبین شوق کو پامال کر نہ یاس کے نام یوں ظلم اپنی جوانی پہ بے شمار نہ کر انہیں تو شام ڈھلے نیند آ گئی ہوگی سحر کے وقت ستاروں کا انتظار نہ کر کہا تھا اس نے تمہیں پیار ہم بھی کرتے ہیں تو اس کی باتوں کا ایسے تو اعتبار نہ کر یہ جان کر بھی کہ لندن پہ راجؔ ہے اس کا تو میری مان لے اس پر یوں اختیار نہ کر
har ek khvaab mein ham ne use sajaayaa bahut
ہر ایک خواب میں ہم نے اسے سجایا بہت وہ یاد اور بھی آیا جسے بھلایا بہت یہ اور بات کہ اب یاد آئے ہیں اس کو وفا کے نام پہ جس نے ہمیں ستایا بہت ہیں سرخ رو مرے اشعار تو تعجب کیا کہ ہم نے خون سے ہر لفظ کو سجایا بہت نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو تمہاری یاد کو آنکھوں سے تو چھپایا بہت ہم انتظار میں جس کے سلگتے رہتے ہیں وہ جب بھی سامنے آیا تو مسکرایا بہت ہماری آنکھوں کے کوزے میں بند تھا دریا یہ جی ہی جانتا ہے کس طرح دبایا بہت وہ زلف رات کی پرچھائیں تھی مگر اے راجؔ خیال آیا ہے اس کا تو جگمگایا بہت
naqsh-e-qadam ke saath vo raste miTaa ke rah gaiin
نقش قدم کے ساتھ وہ رستے مٹا کے رہ گئیں اندھے سفر کو آندھیاں کتنا بڑھا کے رہ گئیں سب کے وجود کے لئے کن کی صدا کے آتے ہی ارض و سما کی وسعتیں اس میں سما کے رہ گئیں ہاتھوں سے کانپتے رہے سوکھے ہوئے ثنا کے پھول پیش اثر دعائیں بھی آنکھیں جھکا کے رہ گئیں ایک برس تو بھیگ لے صحن بھی چھت کے ساتھ ساتھ ایسی ہی ایک دو خواہشیں دل کو دکھا کے رہ گئیں پرسش حال پر ترے لب تو خموش ہی رہے آنکھوں کو جانے کیا ہوا آنسو گرا کے رہ گئیں کتنی دعائیں مانگی تھیں ہم نے سحر کے واسطے اس کی شعاعیں کیا کریں آنکھیں بجھا کے رہ گئیں دیکھ کے بے ثمر شجر باغ میں راجؔ اس برس دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں
dil se koi sadaa nahin aati
دل سے کوئی صدا نہیں آتی اب لبوں پر دعا نہیں آتی زخم دل کے جو مندمل کر دے تم کو ایسی دوا نہیں آتی دل تڑپتا ہے ان سے ملنے کو اس کو تسکیں ذرا نہیں آتی شہر کا ذکر کیا پہاڑوں پر گھر میں تازہ ہوا نہیں آتی ابتدا ہی کا بول بالا ہے عشق میں انتہا نہیں آتی بے وفائی نہ آ سکی ہم کو اور ان کو وفا نہیں آتی راجؔ کرتی ہے گھر میں تنہائی رت کوئی خوش نما نہیں آتی
shahr mein ruk saa gayaa kaar-e-jahaan tere baad
شہر میں رک سا گیا کار جہاں تیرے بعد کیا بتاؤں کہ گیا کون کہاں تیرے بعد چیختے پھرتے ہیں سناٹے کھلی سڑکوں پر نہ رہا کوئی بھی آباد مکاں تیرے بعد آنکھ سے آٹھ پہر اشک مرے بہتے ہیں دل سے اٹھنے لگا رہ رہ کے دھواں تیرے بعد ہر طرف بات تری یاد تری فکر تری جاگ اٹھے تری فرقت کے نشاں تیرے بعد پوچھنا چاہوں گا گر تو جو کہیں مل جائے بے زباں ہو گئے کیوں اہل زباں تیرے بعد حسرتیں دل میں سلگتی ہیں مرے آخر شب اپنے ہونے کا بھی باقی نہ گماں تیرے بعد مبتلا راجؔ تو ہے دکھ میں تیری فرقت کے شہر میں کیوں نہ رہا امن و اماں تیرے بعد





