SHAWORDS
Imtiyaz Kavish

Imtiyaz Kavish

Imtiyaz Kavish

Imtiyaz Kavish

poet
20Ghazal

Ghazalغزل

See all 20
غزل · Ghazal

apne andaaz-e-takhayyul mein utar jaate hain

اپنے انداز تخیل میں اتر جاتے ہیں ہم جدھر جاتے ہیں پروانہ ادھر جاتے ہیں ہم جو اک لمحے کو کرتے ہیں تصور تیرا ہم جو بگڑے ہوئے ہوتے ہیں سنور جاتے ہیں ہم وہ محرومیٔ الفت کے پرندے ٹھہرے صبح جیتے ہیں جو پھر شام کو مر جاتے ہیں کوچۂ رنگ محبت میں گلوں کو چھو کر اپنے دامن کو سخاوت سے ہنر جاتے ہیں حسن دریا کو نگاہوں کے سبو میں بھر کر تشنگی دل کی بجھاتے ہیں گزر جاتے ہیں ہم نے شادابی کا عشوہ نہیں پالا کاوشؔ ہم کہ وہ گل ہیں جو کھلتے ہی بکھر جاتے ہیں

غزل · Ghazal

phulon se sukhan meraa sanvarne nahin paataa

پھولوں سے سخن میرا سنورنے نہیں پاتا ساغر ہے تمنا کا کہ بھرنے نہیں پاتا اک یاد ہے ایسی کہ جو تڑپاتی ہے دل کو اک زخم ہے ایسا کہ جو بھرنے نہیں پاتا میں ہوں کہ بھلانے کو تمنا کروں اس کی وہ ہے کہ مرے دل سے اترنے نہیں پاتا فرقت کے یہ لمحے بھی عجب کتنے ہیں اے دوست میں مرنا اگر چاہوں تو مرنے نہیں پاتا میں آگے تو بڑھ آیا ہوں لیکن یہ مرا دل اک شخص کی یادوں سے ابھرنے نہیں پاتا کرتا ہوں میں وہ جس کی تمنا نہیں ہوتی ہو جس کی تمنا تو وہ کرنے نہیں پاتا اک آگ مرے دل میں دبی رہتی ہے ہر دن اک دیپ ہے مجھ میں کہ نکھرنے نہیں پاتا میں زرد ہوئے چہرے سے نالاں نہیں ہرگز یہ چہرہ وہی ہے جو مکرنے نہیں پاتا کچھ حد سے سوا غم ہے مرا ایسا ہے کاوشؔ بن ان کے مرا وقت گزرنے نہیں پاتا

غزل · Ghazal

khaar ko phuul kahein zahr ko phal likhnaa hai

خار کو پھول کہیں زہر کو پھل لکھنا ہے دل کی تختی پہ ترا نام غزل لکھنا ہے پہلے لکھنا ہے ترے پیار کو صہبائے جنوں پھر اسے دشت معانی میں سرل لکھنا ہے زیست کے باب میں دردوں کی نمائش کے لیے زخم کو داغ کہیں آج کو کل لکھنا ہے آنکھ کے نقش پہ اک خواب سجا کر تیرا دل جو ویراں ہے اسے تاج محل لکھنا ہے ذہن کے در پہ اداسی کی سیاہی بھر کر اپنے جیون کو مجھے جام اجل لکھنا ہے فکر جب دل کے مراکز سے نمو پا جائے پھر مجھے برف کو آگ آگ کو جل لکھنا ہے روح کے پیچ بھی کھلنے نہیں پاتے ہیں کبھی اس پہ یہ فکر کہ ارماں کو جدل لکھنا ہے میں نمٹ آیا ہوں بے مہریٔ یاراں سے کہ اب سب کی رنجش کو مکافات عمل لکھنا ہے عشق اک آگ سیہ ریز ہے اس میں کاوشؔ دم بہ دم کھل کے مجھے خود کو کنول لکھنا ہے

غزل · Ghazal

khvaab mein vasl ke ilhaam utaare jaate

خواب میں وصل کے الہام اتارے جاتے لفظ بھیگی ہوئی پلکوں پہ سنوارے جاتے کاش اک بار بلاتے وہ ہمیں بھی اور ہم ساتھ پہلو میں لئے چاند ستارے جاتے اک نظر دیکھ کے وحدت کی تجلی سے انہیں زلف تو زلف ہے ہم زیست سنوارے جاتے ہم بھی ہوتے کبھی منسوب سخن کی خاطر اس کی محفل سے کبھی ہم بھی پکارے جاتے اور کچھ چاہ نہ تھی اپنی مگر اتنا تھا خواب کچھ اپنے بھی ہوتے کہ نکھارے جاتے وہ کوئی پاس محبت کا نہ رکھتے نہ سہی بوجھ وعدوں کا مگر ہم سے اتارے جاتے چاک پر ہاتھ گھماتے ہوئے یاد آئے ہیں لوگ کچھ ایسے کہ کوزے میں اتارے جاتے جیت کا جشن مناتے وہ خوشی سے اور ہم دیکھ کر ان کو یہ دل ہاتھ سے ہارے جاتے وہ فقط حال رقم کرتے ادھر ہم کاوشؔ آگ میں پھینک کے سب دل کے خسارے جاتے

غزل · Ghazal

khush to lagtaa hai magar dil se khafaa ho jaise

خوش تو لگتا ہے مگر دل سے خفا ہو جیسے درد اب خود ہی نظر آئے دوا ہو جیسے میرا یہ نغمہ ہو صحرا کا سکوت مرکز تیرا اک حرف کسی گل کی نوا ہو جیسے مجھ کو میرا ہی نہیں علم نہ تیری ہے خبر زندگی اب کسی بچے کی دعا ہو جیسے اب کے دل اور ہی خواہش کا ہوا ہے طالب دل مرا دل نہیں اب راہ فنا ہو جیسے یوں نہ آئے کہ پشیماں بھی ہو خوش باش بھی ہو وہ مرے پاس رہے مجھ سے جدا ہو جیسے میں نے یہ عمر گنوائی ہے کہاں کاٹی ہے پوچھتا ایسے ہے مجھ سے کہ خدا ہو جیسے تو کسی اور ہی پیکر کا ہوا گل ثابت تیری صورت کسی گلشن سے سوا ہو جیسے تیرے افکار مرے ذہن سے یوں گر بیٹھے کسی بوڑھے کا کوئی سجدہ قضا ہو جیسے اس قدر درد ہے سودا ہے جنوں ہے غم ہے دل پہ اک زخم نیا اور لگا ہو جیسے سن کے بات اس کی مجھے لگتا ہے یوں اب کاوشؔ وہ مری جان کے دشمن سے ملا ہو جیسے

غزل · Ghazal

angaar-e-tajalli nahin shabnam bhi nahin hai

انگار تجلی نہیں شبنم بھی نہیں ہے آنکھوں میں کوئی وادیٔ نیلم بھی نہیں ہے میں گلشن الفت کے مقدر سے بری ہوں اب دل میں مرے خواہش ہمدم بھی نہیں ہے باران تجسس کبھی برسی نہیں مجھ پر سوچوں کا کوئی طائر موسم بھی نہیں ہے قاتل ہے کہ پھولوں کا لہو پیتا ہے ہر دن حیرت ہے کہ اس پر کوئی ماتم بھی نہیں ہے دنیا ہے کہ شمشیریں چلاتی ہے مجھی پر میں ہوں کہ مرے زخموں پہ مرہم بھی نہیں ہے مسکانے سے چمکے گی کبھی بوئے مقدر ورنہ تو خوشی کا کوئی پرچم بھی نہیں ہے میں کاوشؔ لا حرف تکلم سے ہوں نادم وہ جس کو کہ ماضی کا کوئی غم بھی نہیں ہے

Similar Poets