"kuchh insan the kuchh maz.hab the ek khuda tha aur us ek khuda ke karan sab jhagDa tha"

Indr Mohan Mehta Kaif
Indr Mohan Mehta Kaif
Indr Mohan Mehta Kaif
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalkuchh insaan the kuchh mazhab the ek khudaa thaa
aur us ek khudaa ke kaaran sab jhagDaa thaa
Ghazalغزل
aasmaanon se na utregaa sahifa koi
آسمانوں سے نہ اترے گا صحیفہ کوئی اے زمیں ڈھونڈ لے اب اپنا مسیحا کوئی پھر در دل پہ کسی یاد نے دستک دی ہے پھر بہا کر مجھے لے جائے گا دریا کوئی یہ تو محفل نہ ہوئی مقتل احساس ہوا آئنہ دے کے مجھے لے گیا چہرہ کوئی کتنے ویران ہیں یادوں کے در و بام نہ پوچھ بھول کر بھی ادھر آیا نہ پرندہ کوئی میں اس آسیب زدہ شہر میں کس سے پوچھوں کیوں مرے پیچھے لگا رہتا ہے سایا کوئی مانگتا ہے مرے اعمال کا ہر روز حساب کیفؔ جو مجھ میں رہا کرتا ہے مجھ سا کوئی
kis ko ham-safar samjhein jo bhi saath chalte hain
کس کو ہم سفر سمجھیں جو بھی ساتھ چلتے ہیں آشنا سے لگتے ہیں اجنبی نکلتے ہیں اے مری شریک غم کاش تو سمجھ سکتی کتنے ان بہے آنسو قہقہوں میں ڈھلتے ہیں رات کی خموشی میں جب کوئی نہیں ہوتا دل سے بیتی یادوں کے قافلے نکلتے ہیں تہ بہ تہ اندھیروں تک روشنی تو پھیلے گی ایک رات کی ضد میں سو چراغ چلتے ہیں منزلوں کے دھوکے میں ساتھیو نہ رک جانا منزلوں سے آگے بھی راستے نکلتے ہیں
khvaab jo dekhe jhuTe nikle kuchh na milaa taabiron mein
خواب جو دیکھے جھوٹے نکلے کچھ نہ ملا تعبیروں میں دل اب کس کو ڈھونڈ رہا ہے البم کی تصویروں میں اک گوشہ تو ایسا بھی ہو جس کا کوئی نام نہ ہو ساری دھرتی بٹی ہوئی ہے ملکوں میں جاگیروں میں کاندھوں کے رشتے بھی کیا ہیں شہروں شہروں پھیلے ہیں دل کا درد سمجھنے والا کون ملے رہ گیروں میں کچھ ہمیں دنیا راس نہ آئی کچھ دل نے من مانی کی بیٹھ کے رنگ بھرا کرتے ہیں اب اپنی تصویروں میں دل کے رشتے دور کی باتیں پھر بھی کچھ ایسا لگتا ہے ہم تم وہ سب بندھے ہوئے ہیں ان دیکھی زنجیروں میں کیفؔ یہ دل کا گورکھ دھندا سمجھیں تو سمجھائیں بھی ہم دیوانے ہیں جا بیٹھے مست الست فقیروں میں
be-naam se phirte the kaam aa gai rusvaai
بے نام سے پھرتے تھے کام آ گئی رسوائی ہر اجنبی چہرے پر پہچان ابھر آئی ہر رات در دل پر دستک دئے جاتا ہے سونے ہی نہیں دیتا اک جذبۂ سودائی جو باعث رنجش تھی اس بات کا چرچا کیا اس نے بھی نہیں پوچھی میں نے بھی نہ دہرائی غم ایک مسافر ہے کیا جانے کہاں ٹھہرے آنکھوں کی نمی بہہ کر لہجہ میں اتر آئی ہم کیفؔ تھکے ہارے چوراہے پہ جا بیٹھے ڈھونڈی تو کہاں جا کر اس شہر میں تنہائی
kal tak aasuda-dili thi aashiyaan thaa aur main
کل تک آسودہ دلی تھی آشیاں تھا اور میں آج ہے بکھرا ہوا ایک ایک تنکا اور میں میں کسے آواز دیتا اور سنتا بھی تو کون میرے گرد و پیش خوابوں کا نگر تھا اور میں ہم سفر تو تھا مگر غم آشنا وہ بھی نہ تھا فاصلہ رکھ کر چلے تھے میرا سایا اور میں اب اکیلے میں بھی تنہا میں کبھی ہوتا نہیں اس قدر مانوس ہیں وہ ایک کمرہ اور میں اس نے موتی چن لیے میں سیپیاں چنتا رہا اپنے اپنے ظرف کے قیدی تھے دریا اور میں کیفؔ کتنی مختصر ہے زندگی کی داستاں اک سرابوں کا سفر ہے ایک صحرا اور میں
aaj ham sar-e-mahfil is qadar hanse yaaro
آج ہم سر محفل اس قدر ہنسے یارو غم جو بھول بیٹھے تھے یاد آ گئے یارو چپ ہیں قافلے والے مطمئن ہیں رہبر بھی درد بجھ گیا یارو خواب لٹ گئے یارو تم تھے رونق محفل ہر خوشی تمہاری تھی ہم چراغ محفل تھے رات بھر جلے یارو زندگی کے جو لمحے پیار سے سمیٹے تھے وقت کے بیاباں میں سب بکھر گئے یارو کیفؔ گھر کے باہر تو ہر طرف اندھیرا ہے اپنے اپنے گھر روشن سب نے کر لئے یارو





