"log na jaane kaisi kaisi baten karte hain mere paas to mera saaya leTa hai chup-chap"
Intikhab Syed
Intikhab Syed
Intikhab Syed
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
4 total"apne badan ko chhoD ke pachhtaoge miyan bahar hava hai tez bikhar jaoge miyan"
apne badan ko chhoD ke pachhtaaoge miyaan
baahar havaa hai tez bikhar jaaoge miyaan
log na jaane kaisi kaisi baatein karte hain
mere paas to meraa saayaa leTaa hai chup-chaap
Ghazalغزل
apne badan ko chhoD ke pachhtaaoge miyaan
اپنے بدن کو چھوڑ کے پچھتاؤ گے میاں باہر ہوا ہے تیز بکھر جاؤ گے میاں خود کو لپیٹے رہنا زمانہ خراب ہے ظاہر کیا تو لوٹ لئے جاؤ گے میاں جھوٹوں کی بارگاہ بڑی معتبر سہی لیکن پرائے شہر میں کھو جاؤ گے میاں پھسلا جو پیر سوچ کی اونچی چٹان سے گدلی فضا میں گھلتے چلے جاؤ گے میاں مجھ کو تو لا شعور کا عرفان ہو گیا اب سوچو مجھ سے بچ کے کہاں جاؤ گے میاں
raushni ki dhaar ne TukDe kiye hain
روشنی کی دھار نے ٹکڑے کیے ہیں ہم بڑی مشکل سے پہچانے گئے ہیں زندگی کے صاف ستھرے راستوں پر جانے کیا دیکھا کہ اندھے ہو گئے ہیں فاصلوں کو اس قدر پینا پڑا ہے جاگتے شہروں میں ننگے پھر رہے ہیں بارہا سوچا کہ خود کو دیکھ ڈالیں بارہا بس سوچ کر ہی ہنس پڑے ہیں اک نہ اک دن خود بکھر جائیں گے سیدؔ لوگ آخر کیوں پریشاں ہو رہے ہیں
har ek shakhs ke vijdaan se khitaab kare
ہر ایک شخص کے وجدان سے خطاب کرے نئے لباس کی خواہش نیا بدن ڈھونڈے سمندروں میں اترتے چلے گئے لیکن کثافتوں کے جراثیم ساتھ ساتھ رہے نہ جانے کون غم کائنات سے چھپ کر مرے وجود میں بیٹھا ہے کنڈلی مارے شعوری طور پر عرفان ذات کی خاطر کبھی جو سر کو اٹھایا تو ٹوٹ پھوٹ گئے تعلقات کی زنجیریں ٹوٹتی ہی نہیں ہمیں پکار رہے ہیں خلا کے باشندے
shor se bach kar sahmaa sahmaa baiThaa hai chup-chaap
شور سے بچ کر سہما سہما بیٹھا ہے چپ چاپ ہنگاموں کا بانی دیکھو کیسا ہے چپ چاپ اپنے من کے پاگل پن کو اور کہاں لے جائیں دور دور تک ریت کا صحرا لیٹا ہے چپ چاپ انگ انگ میں لمس کی خوشبو پینگیں لیتی ہے انگ انگ میں جیسے کوئی بیٹھا ہے چپ چاپ رشتوں کی دیواریں ڈھا کر میرے جیسا شخص دن کے زرد پہاڑ کے پیچھے اترا ہے چپ چاپ لوگ نہ جانے کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں میرے پاس تو میرا سایا لیٹا ہے چپ چاپ
duur tak bas khuun ke Thahre hue dariyaa mile
دور تک بس خون کے ٹھہرے ہوئے دریا ملے مدتوں جاگی ہوئی آنکھوں کو دیکھا رو پڑے احتراماً زندگی کو منہ لگانا ہی پڑا ورنہ ہم اور زندگی کا زہر توبہ کیجیے اپنے کاندھوں پر لیے اپنی کئی شخصیتیں رات بھر آنکھوں کے جنگل میں بھٹکتے ہی رہے چیختے چلاتے اندیشوں کی آنکھیں سرخ ہیں جسم کی نا پختہ سڑکوں سے گزرنا چھوڑیئے خون کے دھبوں کی سچائی ڈراتی ہی رہی اپنے بارے میں کبھی سوچا تو گھبرانے لگے ٹوٹے پھوٹے کالے شبدوں کے بھرے بازار میں اس قدر خود کو گھمایا ہے کہ کالے پڑ گئے
andeshon kaa zahr piyaa hai
اندیشوں کا زہر پیا ہے مشکل سے جینا سیکھا ہے وقت نے ایسا غم بخشا ہے صحراؤں میں جی لگتا ہے دامن دامن خون کے دھبے آخر کس کا قتل ہوا ہے آج کلب کے دروازے پر چپراسی خاموش کھڑا ہے دیوانوں کی بات نہ مانو لیکن سن لینے میں کیا ہے اب تو خود اپنے چہرے پر غیروں کا دھوکا ہوتا ہے دھیرے دھیرے جیسے کوئی میرے وجود کو چاٹ رہا ہے





