SHAWORDS
Iqbal Bharti

Iqbal Bharti

Iqbal Bharti

Iqbal Bharti

poet
13Ghazal

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

gardish-e-vaqt se 'iqbaal' pareshaan na ho

گردش وقت سے اقبالؔ پریشان نہ ہو یہ تباہی بھی گزر جائے گی حیران نہ ہو صبح لائے گی کسی عیش و طرب کا پیغام شدت رنج سے اتنا تو پریشان نہ ہو الجھنیں اور بھی بڑھ جاتی ہیں وقت گردش جان لینے کی یہی بات ہے انجان نہ ہو خود گلا گھونٹ کے مر جائیں یقیناً اک دن ہم کو جینے کا اگر دہر میں ارمان نہ ہو زندگی اس کی بھلا عیش میں کیا گزرے گی جس کو دنیا میں کوئی عیش کا سامان نہ ہو خون سے سینچ کے آباد کیا ہے اس کو میرے مولا مرا گلشن کبھی ویران نہ ہو ہے ازل سے یہی دستور محبت اے دوست شدت غم سے تو اقبالؔ پریشان نہ ہو

غزل · Ghazal

lagi hai choT jo dil mein ubhar aai to kyaa hogaa

لگی ہے چوٹ جو دل میں ابھر آئی تو کیا ہوگا محبت میں ہوئی جو ان کی رسوائی تو کیا ہوگا ہماری بے کسی پر آ رہی ہے کیوں ہنسی تم کو تمہاری اس ہنسی سے آنکھ بھر آئی تو کیا ہوگا کئے لیتا ہوں توبہ تیرے کہنے سے میں اے واعظ مگر چاروں طرف کالی گھٹا چھائی تو کیا ہوگا سمجھ کر سنگ دل جس کو نگاہیں پھیر لیں میں نے اگر قسمت اسی پتھر سے ٹکرائی تو کیا ہوگا مناسب ہے تمہیں اقبالؔ ان سے دور ہی رہنا کوئی صورت جدائی کی نکل آئی تو کیا ہوگا

غزل · Ghazal

khud-shanaasi hi khud-parasti hai

خود شناسی ہی خود پرستی ہے اک معمہ بشر کی ہستی ہے جان دیتے ہیں لوگ باطل پر کیسا انداز حق پرستی ہے آج مر مر کے جی رہے ہیں لوگ کتنا دلچسپ خواب ہستی ہے مفلسی بڑھ گئی ہے اس درجہ موت کو زندگی ترستی ہے اب یہ حالت ہوئی ہے اے اقبالؔ زندگی موت کو ترستی ہے

غزل · Ghazal

dard kaa aur mere dil mein sivaa ho jaanaa

درد کا اور میرے دل میں سوا ہو جانا اس کا سینے سے مرے لگ کے جدا ہو جانا عشرت و ناز کی کثرت میں فنا ہو جانا درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا میرے جینے سے اگر کوئی خفا ہوتا ہے مجھ کو لازم ہے محبت میں فنا ہو جانا یہ بھی ممکن ہے میں جینے سے خفا ہو جاؤں ہے بری بات ترا مجھ سے خفا ہو جانا میری تقدیر میں لکھا تھا یہی اے اقبالؔ اپنی ناکام محبت میں فنا ہو جانا

غزل · Ghazal

mohabbat dard-o-gham ki tarjumaan maalum hoti hai

محبت درد و غم کی ترجماں معلوم ہوتی ہے مری ہر آہ دل کی داستاں معلوم ہوتی ہے ہماری زندگی کی داستاں خوشبو کا عنواں تھی مگر اس دور میں آہ و فغاں معلوم ہوتی ہے جہاں دیکھو وہیں میں آشیاں اپنا بناتا ہوں جہاں گرتی ہوئی برق تپاں معلوم ہوتی ہے یہ کس منزل میں لے آیا تجسس دوست کا مجھ کو حقیقت بھی جہاں اک داستاں معلوم ہوتی ہے یہ عالم ہے نگاہ شوق کی اب بے ثباتی کا بہار گلشن عالم خزاں معلوم ہوتی ہے وہ چشم پر فسوں اقبالؔ جس نے غم دئے لاکھوں نہ پوچھو آج کل کیوں مہرباں معلوم ہوتی ہے

غزل · Ghazal

shikva kiyaa jo main ne to ghabraa ke rah gae

شکوہ کیا جو میں نے تو گھبرا کے رہ گئے کہنے سے پہلے بات وہ شرما کے رہ گئے آئی تھی اک زمانے میں ایسی بہار بھی گلشن میں پھول کھلتے ہی مرجھا کے رہ گئے تھے ہم کلام سب سے وہ کرتے تھے سب سے بات دیکھا مجھے جو بزم میں شرما کے رہ گئے شام فراق کا جو کبھی آ گیا خیال تارے سے مجھ کو دن میں نظر آ کے رہ گئے اقبالؔ ماہ و گل میں وہ پوشیدہ تھے مگر اہل نظر فریب نظر کھا کے رہ گئے

Similar Poets