SHAWORDS
I

Iqbal Husain Rizvi Iqbal

Iqbal Husain Rizvi Iqbal

Iqbal Husain Rizvi Iqbal

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

عشق اتنا کمال رکھتا ہے حسن کو غم شناس کرتا ہے چشم ساقی میں جام جم کی قسم رنگ دنیا و دیں چھلکتا ہے شمع محفل ہو یا کہ پروانہ وہ بھی جلتی ہے یہ بھی جلتا ہے ڈوب جائے نہ غم کا مے خانہ جام قلب حزیں چھلکتا ہے بس اے فتنہ خرام ناز ٹھہر اب قیامت کا دل مچلتا ہے مصلحت یہ ہے تم بدل جاؤ رنگ محفل اگر بدلتا ہے غم جاناں سے بچ گئے اقبالؔ غم دوراں سے کون بچتا ہے

ishq itnaa kamaal rakhtaa hai

غزل · Ghazal

پاتا ہوں اضطراب رخ پر حجاب میں شاید چھپا ہے دل مرا ان کی نقاب میں وہ چاندنی میں رخ سے ہٹا دیں اگر نقاب لگ جائیں چار چاند رخ ماہتاب میں اے ناخدائے کشتئ دل دیکھ بھال کے طوفاں چھپے نہ ہوں کہیں قلب حباب میں صبر آزما نگاہوں کا صدقہ ادھر بھی دیکھ پھر کچھ کمی سی پاتا ہوں اب اضطراب میں اک تم ہی آئے درد کی دنیا بسا گئے ورنہ رہا تھا کیا دل خانہ خراب میں اقبالؔ ان کی مست نگاہوں کا فیض ہے میرا جہان شوق ہے ڈوبا شباب میں

paataa huun iztiraab rukh-e-pur-hijaab mein

غزل · Ghazal

ٹکڑے ٹکڑے مرا دامان شکیبائی ہے کس قدر صبر شکن آپ کی انگڑائی ہے دل نے جذبات محبت سے ضیا پائی ہے میری تنہائی بھی اک انجمن آرائی ہے اب جفا سے بھی گریزاں ہیں وہ اللہ اللہ دیکھیے کیا مرا انجام شکیبائی ہے بجلیاں میرے قفس پر نہ کہیں ٹوٹ پڑیں کیوں صبا خاک نشیمن کی یہاں لائی ہے بس وہی بحر محبت کا شناور نکلا جس نے طوفاں سے الجھنے کی قسم کھائی ہے شوق سے آپ زمانہ کو نوازیں لیکن کیا کوئی میری طرح آپ کا شیدائی ہے کون ہمدرد زمانے میں ہے اقبالؔ مگر ان کی اک یاد فقط مونس تنہائی ہے

TukDe TukDe miraa daamaan-e-shakebaai hai

غزل · Ghazal

نظر جن کی الجھ جاتی ہے ان کی زلف پیچاں سے وہی بڑھ کر لپٹ جاتے ہیں اکثر موج طوفاں سے اگر شرما رہا ہے مہر تاباں حسن جاناں سے شفق بھی تو خجل ہے سرخی خون شہیداں سے مرے جوش جنوں کو چھیڑتا ہے کس لئے ہمدم اٹھیں گی آندھیاں لاکھوں اشارے ہیں بیاباں سے ڈبو کر دیکھ کشتی تمنا بحر ہستی میں ابھر آئے گا خود ساحل کسی نوخیز طوفاں سے مجھے مرنا مبارک بس تمنا ہے تو اتنی ہے بجھا دیں وہ چراغ زندگی خود اپنے داماں سے سنبھل کر رہروان راہ الفت سخت منزل ہے صدائیں آ رہی ہیں آج تک گور غریباں سے ہجوم یاس ہی اقبالؔ تمہید مسرت ہے خوشی کا باب کھلتا تو ہے لیکن غم کے عنواں سے

nazar jin ki ulajh jaati hai un ki zulf-e-pechaan se

غزل · Ghazal

نگاہوں سے میری نگاہیں بچائے چلے آ رہے ہیں وہ طوفاں اٹھائے لہو دل کا اشکوں میں کیوں آ نہ جائے کہاں تک کوئی راز الفت چھپائے اسی کی ہے دنیا اسی کا زمانہ جو سب کچھ ہٹا کر کبھی کچھ نہ پائے ابھی کچھ ہے باقی نشان نشیمن کہو برق سے اور ابھی ظلم ڈھائے چلے آئیں گے خود وہ بیتاب ہو کر جنون محبت مرا بڑھ تو جائے نرالے ہیں رسم و رواج محبت وہی پار ہوتا ہے جو ڈوب جائے رہا ایک عالم نہ اقبالؔ اپنا کبھی رو دئے تو کبھی مسکرائے

nigaahon se meri nigaahein bachaae

غزل · Ghazal

مری نظر سے جو نظریں بچائے بیٹھے ہیں خبر بھی ہے انہیں کیا گل کھلائے بیٹھے ہیں ہزار بار جلے جس سے بال و پر اپنے اسی چراغ سے ہم لو لگائے بیٹھے ہیں جو شاخ شوخیٔ برق تپاں سے ہے مانوس اسی پہ آج نشیمن بنائے بیٹھے ہیں پھر اس کے وعدۂ فردا کا ہو یقیں کیسے ہزار بار جسے آزمائے بیٹھے ہیں شب فراق کی ہم تیرگی سے گھبرا کر چراغ زخم غم دل جلائے بیٹھے ہیں اسے حجاب کہوں یا کہوں پشیمانی مرے مزار پہ وہ سر جھکائے بیٹھے ہیں ہم ایک قطرۂ قلب حزیں میں اے اقبالؔ غم حیات کے طوفاں چھپائے بیٹھے ہیں

miri nazar se jo nazrein bachaae baiThe hain

Similar Poets