SHAWORDS
I

Iqbal Khalish

Iqbal Khalish

Iqbal Khalish

poet
1Shayari
3Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

وہ ہوا پر سوار ہے سو ہے کبر اس کا مدار ہے سو ہے خود نمائی شعار ہے سو ہے آدمی اشتہار ہے سو ہے رائیگاں ہے مرا خلوص وفا وہ انا کا شکار ہے سو ہے لاکھ منت کرے سکھی حاتم بھیک سے ہم کو عار ہے سو ہے فقر و فاقہ نہیں ہے مجبوری یہ ہمارا شعار ہے سو ہے بار احساں اتارئیے کیسے نقد جاں مستعار ہے سو ہے دیکھیے موج کی پشیمانی ڈوب کر بھی وہ پار ہے سو ہے یہ سمندر ہے علم و دانش کا بے کراں بے کنار ہے سو ہے

vo havaa par savaar hai so hai

غزل · Ghazal

مآل احتساب یہ کہ ہم بڑے خراب ہیں کسی پہ طنز کیا کریں کہ خود ہی آب آب ہیں بصیرتوں کے ارتقا کی انتہا ہے آگہی مری نظر سے دیکھیے تو خواہشیں سراب ہیں کسی کا درد دیکھ کر تڑپ گئے تو رو دئیے شعار درد مند کو بصارتیں عذاب ہیں بہ اعتبار علم جن کی حیثیت فقیر سی بہ اعتبار مال و زر وہ صاحب نصاب ہیں خرد تمام مسئلوں کا حل جنوں سے پوچھتی جواب ایک چاہئے سوال بے حساب ہیں ہمارے بعد کسمپرسیٔ غزل کا دور ہے ہمیں تو خیر چند قارئین دستیاب ہیں

maaal-e-ehtisaab ye ki ham baDe kharaab hain

غزل · Ghazal

ہر لفظ ہے نوشتۂ دیوار کی طرح سچ بولتا ہے وہ مرے اشعار کی طرح ماں ہے عظیم نور کے مینار کی طرح غصہ تو کر رہی ہے مگر پیار کی طرح گر سوچئے مہاجر و انصار کی طرح جذبہ نہیں ہے جذبۂ ایثار کی طرح دنیا سے پیش آئیے بیزار کی طرح پیچھے پھرا کرے گی طلب گار کی طرح خوشبوئے دوستاں تو ہوا پر سوار ہے چلنا پڑے گا وقت کی رفتار کی طرح رشتے ہوئے مفاد پرستی میں مبتلا گھر ہو گیا ہے کوچۂ بازار کی طرح کاسہ ہے اس امیر کی قسمت میں اے خلشؔ جھکتا نہیں جو شاخ ثمر دار کی طرح

har lafz hai navishta-e-divaar ki tarah

Similar Poets