
Iqraar Mustafa
iqraar mustafa
iqraar mustafa
Ghazalغزل
سر بریدہ کوئی لشکر نہیں دیکھا جاتا ہم سے یہ ظلم کا منظر نہیں دیکھا جاتا اپنی آنکھوں کو یہی کہہ کے سلا دیتا ہوں اپنی اوقات سے بڑھ کر نہیں دیکھا جاتا اپنے کاندھوں پہ اٹھا لیتے ہیں لاشہ اپنا بوجھ اپنا کسی سر پر نہیں دیکھا جاتا دیکھنے کو تو اسے بار نہیں ہے مجھ کو بات یہ ہے کہ برابر نہیں دیکھا جاتا لوٹنا ہو تو ان آنکھوں سے کنارا کر لو ڈوبنا ہو تو سمندر نہیں دیکھا جاتا آئنہ ہوں نہ چرا مجھ سے تو نظریں اپنی دیکھ آئینے سے باہر نہیں دیکھا جاتا ہم برے ہیں تو کوئی بات نہیں ہے اقرارؔ ان سے تو کوئی سخن ور نہیں دیکھا جاتا
sar-burida koi lashkar nahin dekhaa jaataa
کہاں تھے ایسے کہ اب جیسے خد و خال ہوئے برنگ سبزۂ تر تھے کہ پائمال ہوئے غرور مہر کا عقدہ کھلا کہاں جا کر ہمارے جسم کہ جب آئنہ مثال ہوئے مثال شبنم آوارہ ہی برس کہ بدن ہوائے گرد طلب سے بہت نڈھال ہوئے دلوں میں آج بھی نقش و نگار زندہ ہیں وہ جن کو بچھڑے ہوئے ہم سے کتنے سال ہوئے وہ عمر ہم نے خیالوں کو خواب میں ڈھالا وہ عمر گزری تو وہ خواب پھر خیال ہوئے تمہارے بارے میں ہم سے ہمیشہ پوچھا گیا ہمارے بارے میں تم سے کبھی سوال ہوئے خوشی سے پالتے ہیں اپنی آستین میں سانپ خوشا کہ حضرت اقرارؔ با کمال ہوئے
kahaan the aise ki ab jaise khadd-o-khaal hue
دار تک مجھ کو کھینچ لانے پر حرف تو آئے گا زمانے پر کس ٹھکانے پہ آج پہنچا ہوں آج پہنچا ہوں کس ٹھکانے پر دل نے مجبور کر دیا ہوگا آپ آئے ہیں کب بلانے پر موت حیراں تھی دیکھ کر مجھ کو زندگی تھی مجھے بچانے پر حشر برپا ہے میری آنکھوں میں وہ تلا ہے مجھے سلانے پر پھر سے نکلی ہے صورت تعمیر ایک تخریب کے دہانے پر میں تو موقوف ہو چکا اقرارؔ کرۂ ارض کو گھمانے پر
daar tak mujh ko khinch laane par
برائے نام و نسب گو نہیں ہنر میرا بنا ہوا ہے مگر مرحلہ سفر میرا مرے رفیق میں مدت کا لٹ گیا ہوتا خدا کا شکر کہ خالی پڑا تھا گھر میرا میں ان سے شکوہ کروں بھی تو کس طرح آخر کہ اب تو ان پہ بھی ہوتا نہیں اثر میرا ہوا نے زور تو اپنا لگا لیا لیکن بجھا نہ پائی چراغ فن و ہنر میرا میں ان کے نام کی نسبت سے جانا جاتا ہوں یہی تو ایک حوالہ ہے معتبر میرا وہ جس کو کہتی ہے اقرار مصطفیٰؔ دنیا وہی ہوں میں یہ تعارف ہے مختصر میرا
baraa-e-naam-o-nasab go nahin hunar meraa
وداع شام بھی تنویر ہو رہی تھی کہیں سو اپنی خاک بھی اکسیر ہو رہی تھی کہیں کوئی کہ نیند سے بیدار ہو رہا تھا کہیں کسی کے خواب کی تعبیر ہو رہی تھی کہیں کہیں پہ جلدی سے تخلیق ہو رہا تھا جہاں کہیں پہ صورت تاخیر ہو رہی تھی کہیں فنا بقا پہ کہیں رکھ رہے تھے لوگ اسے اور اس کے حسن کی تفسیر ہو رہی تھی کہیں یہاں پہ نیم شبی نے پڑاؤ ڈال لیا وہاں پہ صبح کہ تقدیر ہو رہی تھی کہیں ہمارے ہونے سے اقرارؔ مدتوں پہلے ہمارے ہونے کی تدبیر ہو رہی تھی کہیں
vidaaa-e-shaam bhi tanvir ho rahi thi kahin
وہ جو دریا کو کسی روز نظر آتے تھے موج تھم جاتی تھی پانی میں بھنور آتے تھے شاخ در شاخ جہاں ہجر کھلا رہتا تھا زخم در زخم اسی رہ میں شجر آتے تھے روپ بہروپ میں ڈھلتے ہوئے دن بھر سائے صحن تنہائی میں ہر شام اتر آتے تھے کوئی منزل سر منزل سے بچھڑ جاتی تھی فاصلے روز نئے لے کے سفر آتے تھے کون ادراک کی سرحد سے گزرنے والے ہاں وہی جو کہ بہ انداز دگر آتے تھے لمس جاں بخش کا اعجاز نہیں تو کیا تھا پھول کھلتے تھے درختوں پہ ثمر آتے تھے کتنے انکار معیت میں رہا کرتے تھے ہاں مری سمت وہ اقرارؔ اگر آتے تھے
vo jo dariyaa ko kisi roz nazar aate the





