SHAWORDS
Iram Lakhnavi

Iram Lakhnavi

Iram Lakhnavi

Iram Lakhnavi

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

dard kaa jab tak mazaa haasil na thaa

درد کا جب تک مزا حاصل نہ تھا دل کہے جانے کے قابل دل نہ تھا ہائے ان مجبوریوں کو کیا کروں میں بھی خود فریاد کے قابل نہ تھا بھیک رکھ لو جو دعائیں دے گیا وہ فقیر عشق تھا سائل نہ تھا او لٹانے والے گلہائے کرم سب کا دل تھا کیا ہمارا دل نہ تھا جاں بری مشکل بھی ہم کو اے ارمؔ وہ بچا لیتے تو کچھ مشکل نہ تھا

غزل · Ghazal

har jagah har vaqt goyaa ik kami tere baghair

ہر جگہ ہر وقت گویا اک کمی تیرے بغیر کیا ہوئی جاتی ہے میری زندگی تیرے بغیر موت کا غم ہے نہ جینے کی خوشی تیرے بغیر زندگی ہے احتجاج زندگی تیرے بغیر آہ نکلی ہونٹ کانپے اشک آنکھوں میں بھر آئے مسکرانے کی اگر کوشش بھی کی تیرے بغیر اے ہمہ حسن و نزاکت اے مجسم رنگ و بو دل گرفتہ ہے چمن میں ہر کلی تیرے بغیر دیکھتے ہی دیکھتے فطرت میں آیا انقلاب اک نمایاں تیرگی ہے روشنی تیرے بغیر اب وہاں میں ہوں جہاں یہ بھی سمجھ سکتا نہیں کس طرح آتی ہے دنیا میں ہنسی تیرے بغیر ہے امانت دار خاموشی مرے منہ میں زبان ہائے رے خود اختیاری بے بسی تیرے بغیر عشق سے تکمیل حسن اور حسن سے تکمیل عشق اک کمی میرے بغیر اور اک کمی تیرے بغیر سر ہو سجدے میں تو دل میں کون ہو تیرے سوا اے معاذ اللہ تیری بندگی تیرے بغیر ایک تارہ ٹوٹ کر تاریکیوں میں کھو گیا رات ارمؔ نے اس طرح ایک آہ کی تیرے بغیر

غزل · Ghazal

apne gharib dil ki baat karte hain raaegaan kahaan

اپنے غریب دل کی بات کرتے ہیں رائیگاں کہاں یہ بھی نہ ہم سمجھ سکے اپنا کوئی یہاں کہاں ان کے لیے وہ آسمان میرا گزر وہاں کہاں میرے لیے یہی زمین آئیں گے وہ یہاں کہاں سامنا ان کا جب ہوا آنکھوں نے جو کہا کہا دل میں ہزار اشتیاق ان میں مگر زباں کہاں اف یہ مآل جستجو بعد کمال جستجو پہنچے وہی جگہ کہنے لگی یہاں کہاں حد نظر کا ہے فریب قرب زمین و آسماں ورنہ مری زمین سے ملتا ہے آسماں کہاں حسن کا پاسبان عشق عشق کا پاسبان دل دل کا ہے پاسبان ہوش ہوش کا پاسباں کہاں منزل عاشقی سے کم رکنے کی جا نہیں ارمؔ یہ تو ابھی ہے رہگزر بیٹھ گئے یہاں کہاں

غزل · Ghazal

duniyaa kaa gham hi kyaa gham-e-ulfat ke saamne

دنیا کا غم ہی کیا غم الفت کے سامنے باطل ہے بے وجود حقیقت کے سامنے حسرت سے چپ ہوں میں تری صورت کے سامنے جیسے گناہ گار ہو جنت کے سامنے رسوائیاں ہزار ہوں بربادیاں ہزار پروا کسے ہے تیری محبت کے سامنے اے ناز عشق دار و رسن کی بساط کیا میرے وفور شوق شہادت کے سامنے اے حسن بے مثال مجال آئنے کی کیا جو آ سکے کبھی تری صورت کے سامنے آبادیوں کو چھوڑ کے خوش ہو گیا تھا میں صحرا بھی تنگ ہے مری وحشت کے سامنے لاکھوں حجاب حسن کو گھیرے رہیں مگر ٹھہرے ہیں کب نگاہ محبت کے سامنے کتنے پہاڑ راہ وفا میں کٹے ارمؔ کتنے ابھی ہیں اور مصیبت کے سامنے

غزل · Ghazal

jise main samajhtaa huun qaatil yahi hai

جسے میں سمجھتا ہوں قاتل یہی ہے محبت اسی سے ہے مشکل یہی ہے عداوت ہوئی برق سے باغباں سے نشیمن بنانے کا حاصل یہی ہے تڑپنا برابر تڑپتے ہی رہنا ترے در پہ انداز بسمل یہی ہے بہت دور منزل مگر ہر قدم پر تھکن کا تقاضا کہ منزل یہی ہے مرے قتل کا ذکر ہے اور وہ چپ ہے خموشی نہ کہہ دے کہ قاتل یہی ہے مجھے تو ہنسی اپنے غم پر نہ آتی مگر کیا کروں رنگ محفل یہی ہے وہاں سے ارمؔ ہم ہٹا لائے کشتی یہاں یہ سمجھنا تھا ساحل یہی ہے

غزل · Ghazal

ham baagh-e-tamannaa mein din apne guzaar aae

ہم باغ تمنا میں دن اپنے گزار آئے آئے نہ بہار آخر شاید نہ بہار آئے رنگ ان کے تلون کا چھایا رہا محفل پر کچھ سینہ فگار اٹھے کچھ سینہ فگار آئے فطرت ہی محبت کی دنیا سے نرالی ہے ہو درد سوا جتنا اتنا ہی قرار آئے کیا حسن طبیعت ہے کیا عشق کی زینت ہے دل مٹ کے قرار آئے رنگ اڑ کے نکھار آئے در سے ترے ٹکرایا اک نعرۂ مستانہ بے نام لیے تیرا ہم تجھ کو پکار آئے تصویر بنی دیکھی اک جان تمنا کی آنسو مری آنکھوں میں کیا سلسلہ وار آئے کچھ ان سے نہ کہنا ہی تھی فتح محبت کی جیتی ہوئی بازی کو ہم جان کے ہار آئے اس درجہ وہ پیارے ہیں کہتے ہی نہیں بنتا کیا اور کہا جائے جب اور بھی پیار آئے اس بزم میں ہم آخر پہنچے بھی تو کیا پایا دل ہی کی دبی چوٹیں کچھ اور ابھار آئے

Similar Poets