
Irfan Aazmi
Irfan Aazmi
Irfan Aazmi
Ghazalغزل
خوں میں ڈوبی ہوئی لاشوں کی طرف کیا دیکھوں سنگ باری کے ٹھکانوں کی طرف کیا دیکھوں تیرے کردار پہ مرکوز ہیں میری نظریں میں ترے گھر کے خزانوں کی طرف کیا دیکھوں کھینچ لائی ہے ضرورت سر بازار مجھے جیب خالی ہے دکانوں کی طرف کیا دیکھوں شہر گنجان میں آباد نہیں دل کوئی اینٹ پتھر کے مکانوں کی طرف کیا دیکھوں غیبتیں کرنے سے بہتر ہے کہ خاموش رہوں کسی دیوار کے کانوں کی طرف کیا دیکھوں بوند بن بن کے سر راہ بکھر جائیں گی ابر کی اونچی چٹانوں کی طرف کیا دیکھوں اب تو ہر پھول سے بارود کی بو آتی ہے شاخ کے تیر کمانوں کی طرف کیا دیکھوں بے زمیں ہونے کا احساس دلاتا ہے لہو بے زمیں ہوں تو کسانوں کی طرف کیا دیکھوں لن ترانی کے سوا کچھ نہ ملے گا عرفانؔ گاؤں کے اونچے گھرانوں کی طرف کیا دیکھوں
khuun mein Duubi hui laashon ki taraf kyaa dekhun
میں نے تری بستی کے یہ دیکھے ہیں نظارے مہوے کے درختوں سے ٹپکتے ہیں ستارے رہنے دے اسی طرح فلک کے یہ نظارے دامن پہ چھٹک یوں کہ بکھر جائیں ستارے موجوں کی روانی میں تجھے دیکھ رہا ہوں بیٹھا ہوں بڑی دیر سے دریا کے کنارے بڑھ جائے گی دو چار برس اور مری عمر دو چار گھڑی تو جو مرے ساتھ گزارے تم کیسے سپیرے ہو نہ منتر ہے نہ تریاق جھولی میں لیے پھرتے ہو سانپوں کے پٹارے ہم توڑ چکے ہیں جسے بے کار سمجھ کر دیوار کھڑی تھی انہیں اینٹوں کے سہارے اتنا تو بتانا کہ نمازی بھی کوئی ہے اونچے ہیں ترے گاؤں کی مسجد کے منارے اللہ بھی رزاق ہے بندہ بھی سخی ہے مر جاتے ہیں عرفانؔ بہت بھوک کے مارے
main ne tiri basti ke ye dekhe hain nazaare
چلتے چلتے ساتھی کوئی بچھڑا تو افسوس ہوا ہاتھوں سے جب ہاتھ کسی کا چھوٹا تو افسوس ہوا کتنی ناؤ ڈبو کر ہم نے دریا کا رخ بدلا تھا موڑ پہ آ کر سوکھ گیا جب دریا تو افسوس ہوا دل کا کرب چھپانے کا فن مشکل ہے آسان نہیں ہنستے ہنستے اس کو روتا دیکھا تو افسوس ہوا یہ مت پوچھو ان سے کیا کیا امیدیں وابستہ تھیں پتھر سے ٹکرا کے شیشہ ٹوٹا تو افسوس ہوا دنیا کی بے راہروی پر پہروں سوچا کرتا تھا آج ذرا اپنے بارے میں سوچا تو افسوس ہوا دنیا کی موہوم فضا میں کیا کیا کچھ ہم بھول گئے بھولے سے عرفانؔ کوئی یاد آیا تو افسوس ہوا
chalte chalte saathi koi bichhDaa to afsos huaa
زندگی میں رنگ بھر کے مر گئے جن کو جینا تھا وہ پہلے مر گئے مرنے والا ہنستے ہنستے مر گیا جینے والے روتے روتے مر گئے آسماں سے گر کے پائی زندگی آپ کی نظروں سے گر کے مر گئے سب کو مرنا ہے بہر صورت مگر پوچھتے ہیں لوگ کیسے مر گئے زندگی سب سے بڑا انعام ہے کہنے والے زہر کھا کے مر گئے مر گئے بستر پہ جو زندہ رہے جی گئے جو چلتے پھرتے مر گئے اتنے بزدل ہو گئے سب میرے بعد صور کی آواز سن کے مر گئے کیا کروں اب ایک حصے پر غرور زندگی کے تین حصے مر گئے موت نے عرفاںؔ ہمیں مارا نہیں زندگی سے لڑتے لڑتے مر گئے
zindagi mein rang bhar ke mar gae
صبح آئی بھی تو کہروں میں اضافہ ہو گیا نیند کیا ٹوٹی کہ خوابوں میں اضافہ ہو گیا بے ضمیری کے اضافوں میں اضافہ ہو گیا یعنی چلتی پھرتی لاشوں میں اضافہ ہو گیا ہو چکا ہے جیسے در پردہ قیامت کا نزول زندگانی کے عذابوں میں اضافہ ہو گیا گھر سے گھبرا کر زمانہ آ گیا میدان میں ہم نے یہ سمجھا کہ میلوں میں اضافہ ہو گیا کل یہاں امرود کا اک باغ تھا وہ کیا ہوا اب یہاں کیوں کر ببولوں میں اضافہ ہو گیا درد سے فرصت ملی تو آئنے چبھنے لگے زخم بھر جانے سے داغوں میں اضافہ ہو گیا کھیت کی مٹی وہی ہے ابر باراں بھی وہی کی گئی محنت تو فصلوں میں اضافہ ہو گیا ناچنے گانے لگے مزدور ہر دکھ بھول کر اجرتوں کے چند سکوں میں اضافہ ہو گیا کیوں نہ ہو بارش میں اپنی خوش لباسی داغدار گاڑیوں کے ساتھ چھینٹوں میں اضافہ ہو گیا پیڑ سونا ہو گیا کچھ دیر کی خاطر تو کیا کٹ گئیں شاخیں تو شاخوں میں اضافہ ہو گیا کیا کروں عرفانؔ کعبے کا میں اب الٹا طواف وجد کی حالت میں پھیروں میں اضافہ ہو گیا
subh aai bhi to kuhron mein izaafa ho gayaa
یاد تمہاری آئی ہے برساتوں میں پھول کھلے زخموں کے بھیگی راتوں میں جس میں کوئی خون نہ ہو ارمانوں کا ایسی کوئی رات نہیں ہے راتوں میں چومے گا اک عالم رہتی دنیا تک سنگ جو تم نے بھیجے ہیں سوغاتوں میں ان کا لہجہ ان کی باتیں کیا کہیے وقت گزر جاتا ہے باتوں باتوں میں شہروں کی رنگینی راس نہ آئے گی ساتھی میرا چھوٹ گیا دیہاتوں میں چادر میں منہ ڈھانکے یوںہی لیٹے ہیں نیند کہاں آئی ہے اجڑی راتوں میں ذات کے اندر کیوں میرا دم گھٹتا ہے زندہ ہیں سب اپنی اپنی ذاتوں میں دولت میرے پاس نہیں لیکن عرفانؔ میں نے خود کو بانٹ دیا خیراتوں میں
yaad tumhaari aai hai barsaaton mein





