Irfan Jafari
Irfan Jafari
Irfan Jafari
Ghazalغزل
تو جدا ہوا جو مجھ سے مرے خواب جل گئے تھے مری رات بجھ گئی تھی کہ دیے بدل گئے تھے ترے لمس کی بدولت مرے جسم و جاں تھے روشن تری ذات کے اجالے مرے دل میں ڈھل گئے تھے جہاں زندگی لٹی ہے جہاں دفن ہے تمنا اسی سنگ دل گلی میں یوں ہی کل نکل گئے تھے تجھے سوچنے کا لمحہ کوئی پھول جیسے مہکے تری یاد جیسے گھر میں کئی دیپ جل گئے تھے مجھے یاد ہے ابھی تک وہ تپش ترے لبوں کی انہیں جب چھوا تھا میں نے مرے ہاتھ جل گئے تھے وہی رہ گزر تھی غائب بھلا کیسے لوٹ پاتے تری جستجو میں جاناں جہاں ہم نکل گئے تھے
tu judaa huaa jo mujh se mire khvaab jal gae the
میں اپنی ذات سے جس کو نفی نہیں کرتا اتر کے مجھ میں وہی زندگی نہیں کرتا ہے زندگی تو سلامت ہیں ذائقے سارے یہی سبب ہے کہ میں خودکشی نہیں کرتا میں نا سپاس ہوں لیکن یہ اس کا شیوہ ہے وہ اپنے فضل میں کوئی کمی نہیں کرتا کسی کی یاد بھی اب بھول کر نہیں آتی دیار جاں میں کوئی روشنی نہیں کرتا سبھی کو اپنے گریباں کی فکر ہے شاید مرے جنوں سے کوئی دوستی نہیں کرتا
main apni zaat se jis ko nafi nahin kartaa
مری شکست پہ چپکے سے مسکراتا ہے بڑے خلوص سے وہ دوستی نبھاتا ہے اسی کے نام سے دہلیز ہے مری روشن اسی کا نام تو خوشبو سی لے کے آتا ہے ہے میرا دوست مگر کچھ پتہ نہیں چلتا ہر ایک سے وہ مرے عیب کیوں گناتا ہے مرے وجود میں گھلتی ہے جیسے رعنائی ترا خیال مرے حوصلے بڑھاتا ہے
miri shikast pe chupke se muskuraataa hai
ہر جگہ بس یہی تو ہوتا ہے آدمی آدمی کو روتا ہے کیا ضروری ہے یاد ہی آئے دل ہے یہ بے سبب بھی روتا ہے یاد آنسو نہ بن سکے جس دن شام پر کتنا بوجھ ہوتا ہے یہ مزاجوں کا کھیل ہے سارا ایک ہنستا ہے ایک روتا ہے ہاتھ اٹھ جائیں بس دعا کے لئے کچھ نہ کچھ تو ضروری ہوتا ہے سب مفادات کے کرشمے ہیں کون کس کے قریب ہوتا ہے
har jagah bas yahi to hotaa hai
جب سے ترے مزاج میں چاہت نہیں رہی ہم کو بھی تیرے در کی ضرورت نہیں رہی پتھراؤ جسم و جان پہ حد سے گزر گیا پھر یوں ہوا کہ درد میں شدت نہیں رہی دن کی تھکان رات کو بستر پہ لے گئی تم کو بھی یاد کرنے کی فرصت نہیں رہی تنہا سی ہو گئی ہیں یہ کمروں میں سردیاں یادوں کے اس الاؤ میں حدت نہیں رہی تم نے بھی اپنے آپ کو مصروف کر لیا ہم کو بھی انتظار کی عادت نہیں رہی اچھا ہوا جو تم سے تعلق نہیں رہا دن رات سوچنے کی اذیت نہیں رہی
jab se tire mizaaj mein chaahat nahin rahi
سیاہ شب میں وہ چاند جیسا سلگتے دن میں صبا ہو جیسے قریب رہ کر بھی دور رہنا مقدروں کا لکھا ہو جیسے غضب کی گرمی تھی جل گیا سب مگر یہ محسوس ہو رہا ہے کہ خواہشوں کا یہ زرد جنگل کہیں کہیں پہ ہرا ہو جیسے ہے اب بھی سانسوں کا آنا جانا ہے اب بھی روشن نگاہ میری یہ زندگی جو میں جی رہا ہوں کسی کے دل کی دعا ہو جیسے بدن سنبھالے بھٹک رہا ہوں میں بے جہت آسماں کے نیچے زمیں نہیں ہے کہیں بھی شاید سفر خلا در خلا ہو جیسے یہ کس کو پانے کی جستجو تھی کہ ہر طلب میں نے گروی رکھ دی اب اپنا سب کچھ میں ہار بیٹھا یہ زندگی ہی جوا ہو جیسے عجیب ہے دل کا یہ دیا بھی ہوا چلے ماہ و سال گزرے مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے ابھی ابھی کچھ بجھا ہو جیسے
siyaah shab mein vo chaand jaisaa sulagte din mein sabaa ho jaise





