SHAWORDS
Irshad Aziz

Irshad Aziz

Irshad Aziz

Irshad Aziz

poet
29Ghazal

Ghazalغزل

See all 29
غزل · Ghazal

جلتا رہا میں رات کی تنہائیوں کے ساتھ اور تم رہے ہو صبح کی رعنائیوں کے ساتھ اے زندگی بتا دے ذرا اتنا تو مجھے کب تک رہے گی بھاگتی پرچھائیوں کے ساتھ گل رت نے چوما جیسے ہی کل رات کا بدن کھلنے لگی کلی کلی انگڑائیوں کے ساتھ مجھ سے ملے تو دل کے تو پردے ہٹا کے مل تو ہے قبول پھر تری سچائیوں کے ساتھ رخصت ہوئی تو لب پہ دعائیں تھی بے شمار آنکھیں برس پڑیں مری شہنائیوں کے ساتھ شکوے گلے تو دور سے ہوتے رہے مگر اک بار مل کے بات نہ کی بھائیوں کے ساتھ دنیا سے چل بسے ہیں جو ارشادؔ دیکھنا آئیں گے یاد اپنی وہ اچھائیوں کے ساتھ

jaltaa rahaa main raat ki tanhaaiyon ke saath

غزل · Ghazal

چلئے مشکل ہے اگر جینا تو مر جاتے ہیں بوجھ ہم روح پہ اپنی ہیں اتر جاتے ہیں خود کو آئینہ بنا رکھا ہے جب سے ہم نے اس طرف دیکھنے کیا اہل نظر جاتے ہیں با وفا ہوں تو مرے ساتھ وہ چل کر دیکھیں راہ ایثار سے ہم کیسے گزر جاتے ہیں لازمی دل کے لیے دیدۂ بینا کرنا تیرے احساس مرے دل میں اتر جاتے ہیں ہم عنا گیر ہیں خود اپنی تمناؤں کے کون پوچھے انہیں جائیں وہ جدھر جاتے ہیں یار ارشادؔ کہاں چل دئے منزل بھی نہیں پوچھ لیتے ہیں ابھی خود سے کدھر جاتے ہیں

chaliye mushkil hai agar jiinaa to mar jaate hain

غزل · Ghazal

مشکل میں ہے جان بہت جان ہے اب حیران بہت اس پتھر دل انساں پر ہوتے رہے قربان بہت من بستی میں کوئی نہیں اب تو ہے سنسان بہت اب تو مجھ کو نکلنا ہے نکلے ہیں ارمان بہت جو اپنوں میں ہے تنہا اس کی ہے پہچان بہت خود میں رہتے رہتے ہی مجھ میں اب ہے تکان بہت سب سے ملتے ملتے میں خود سے رہا انجان بہت دل سے گئے کچھ دن رہ کر کر کے گئے بے جان بہت جینا مشکل ہے ارشادؔ مرنا ہے آسان بہت

mushkil mein hai jaan bahut

غزل · Ghazal

آئے ہیں سرائے میں تو گھر جائیں گے کیا ہے ہم لوگ کسی روز گزر جائیں گے کیا ہے ہم پستہ قدوں کو تو بتا دیں گے بلندی اڑنے سے اگر اپنے یہ پر جائیں گے کیا ہے تم نے دئے تحفے جو ہمیں اچھے لگے ہیں یہ زخم دل زار تو بھر جائیں گے کیا ہے پھوٹیں گے کسی روز ابھی بھرنے دو ان کو یہ تو ہیں گھڑے پاپ کے بھر جائیں گے کیا ہے

aae hain saraae mein to ghar jaaeinge kyaa hai

غزل · Ghazal

چراغ عشق کے دل میں جلائے جاتے ہیں بڑے ہی شوق سے صدمے اٹھائے جاتے ہیں انہیں سکون ملے اک یہی تمنا ہے اگرچہ ہم کو وہ جی بھر رلائے جاتے ہیں فریب ان کی ادا اور ادا فریب لگے یقین عشق وہ پھر بھی دلائے جاتے ہیں بھلا دیا ہے ہمیں خیر کوئی بات نہیں وہ یاد آ کے مگر کیوں رلائے جاتے ہیں خوشی مناتے ہیں ہر وقت دل کے لٹنے کی تو اہل شوق بھلا کیوں ستائے جاتے ہیں ہیں جان میری وہی ہیں عدو وہی جاں کے وہ باتیں غیر سے کر ظلم ڈھائے جاتے ہیں

charaagh ishq ke dil mein jalaae jaate hain

غزل · Ghazal

تو کیا جانے روح بھی زخمی ہوتی ہے جب لفظوں سے دہشت گردی ہوتی ہے آ جاتا ہے بن دستک کے وہ دل میں پھر کب جائے اس کی مرضی ہوتی ہے میں تو دیکھتا رہتا ہوں بس اس کا کھیل روح و دل میں گتھم گتھی ہوتی ہے اس نے نفرت گھول دی دل کے دریا میں ہر منظر میں خون کی سرخی ہوتی ہے مجھ کو مار کے زندہ رہنا ہے اس کو اس کو کب مجھ سے ہمدردی ہوتی ہے اور تو ہم سے کیا ہوتا ہے بس اتنا درد میں ڈوبوں کی غم خواری ہوتی ہے اس چھوٹے سے دل میں دنیا بس جائے وہ دنیا جو غم کی ماری ہوتی ہے اس سے ملوں تو ایک قیامت برپا ہو خود کی خود سے پردہ داری ہوتی ہے غم ہی رہتا ہے ہم جیسوں کے دل میں دل بستی خوشیوں سے خالی ہوتی ہے جن لوگوں کو میرے غم مل جاتے ہیں ان کی ادا جینے کی نرالی ہوتی ہے

tu kyaa jaane ruuh bhi zakhmi hoti hai

Similar Poets