SHAWORDS
I

Ishaq Nashad

Ishaq Nashad

Ishaq Nashad

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

do roz mein shabaab kaa aalam guzar gayaa

دو روز میں شباب کا عالم گزر گیا گلشن میں ایک پھول کھلا اور بکھر گیا اڑنے لگی ہے راہ تمنا میں دھول سی یہ کس کے ساتھ موسم ارماں گزر گیا دل میں کسی بھی وہم و گماں کا گزر نہیں منہ پھیرنا کسی کا بڑا کام کر گیا اب چاہتا ہوں لذت درد فراق یار دل تو ہر ایک عیش زمانہ سے بھر گیا بیمار غم نے توڑ دیا دم خوشی کے ساتھ ان کا خیال موت بھی آسان کر گیا ناشادؔ آ گیا دل بیتاب کو قرار اک آشنا بھی میری وفا سے مکر گیا

غزل · Ghazal

gulshan-e-ummid yuun ujDaa ki sahraa ho gayaa

گلشن امید یوں اجڑا کہ صحرا ہو گیا اس نے آنکھیں پھیر لیں ہر سو اندھیرا ہو گیا موج تا بہ موج پھیلی ہے بساط کائنات پیاس جب ڈوبی سمندر اور گہرا ہو گیا بے بسی کی دھوپ جب خوابوں کے چہرے پر پڑی آپ کی یادوں کا سایا اور گہرا ہو گیا تابش جلوہ کی یہ رنگینیاں کس سے کہوں میری نظروں میں ہر اک منظر سنہرا ہو گیا تیرگی ہی تیرگی تھی بزم احساسات میں آپ جب آئے کرن پھوٹی سویرا ہو گیا بے حقیقت زندگی کی ہر حقیقت ہے سراب آئے ٹھہرے اور چلے دو دن بسیرا ہو گیا کیوں ہے اے ناشادؔ ہر سو آج تیرا تذکرہ ایسا لگتا ہے کہ شاید کوئی تیرا ہو گیا

غزل · Ghazal

zikr-e-gham par malaal kyon aaya

ذکر غم پر ملال کیوں آیا شیشۂ دل میں بال کیوں آیا مطمئن ہوں میں حالت دل پر تمہیں میرا خیال کیوں آیا گر کے نفرت کی کھائی میں خود ہی پوچھتے ہو زوال کیوں آیا رات آندھی تھی اس کی آنکھوں میں صبح کا احتمال کیوں آیا زخم دل ہی مرا اثاثہ ہے تو مجھے یوں سنبھال کیوں آیا میں تو زندہ رہا اصولوں پر احتمال مآل کیوں آیا آپ جب بے قصور تھے ناشادؔ دوستی کا سوال کیوں آیا

غزل · Ghazal

junun-e-shauq mein aashufta-saamaanon pe kyaa guzri

جنون شوق میں آشفتہ سامانوں پہ کیا گزری خرد مندوں پہ کیا بیتی گریبانوں پہ کی گزری وہ جن کے خون سے رنگیں تمہاری بزم عشرت ہے کبھی سوچا ہے ان مجبور انسانوں پہ کیا گزری مرا خون جگر تو گلستاں کے کام آیا ہے بتاؤں کس طرح آخر بیابانوں پہ کیا گزری ہمارے دم سے قائم تھی بہار گلشن و صحرا ہمارے بعد گلشن اور ویرانوں پہ کیا گزری اجالوں کے بنا جو ایک لمحہ جی نہ پاتے تھے شب‌ ظلمات میں ایسے صنم خانوں پہ کیا گزری ہمارا عزم گزرا مسکرا کر ہر حوادث سے ہمیں ساحل ملا جس وقت طوفانوں پہ کیا گزری بہت معصوم ہیں ناشادؔ کر کے ہم کو دیوانہ ہمیں سے پوچھتے ہیں چاک دامانوں پہ کیا گزری

غزل · Ghazal

kisi raahbar ki hai justuju kisi rahnumaa ki talaash hai

کسی راہبر کی ہے جستجو کسی رہنما کی تلاش ہے جو شریک موج حیات ہو اسی ناخدا کی تلاش ہے نہ رخ صنم کی ہے آرزو نہ در خدا کی تلاش ہے جو شعور کرب عطا کرے اسی دل ربا کی تلاش ہے میں جہاں رکوں میں جہاں رہوں ترا غم رہے مرا ہم سفر یہی مدعا مری زندگی اسی مدعا کی تلاش ہے بڑھی جب بھی یاس کی تیرگی ہوئیں گم نگاہ کی منزلیں رہ زندگی جو دکھا سکے مجھے اس ضیا کی تلاش ہے یہ سکوت لب یہ خموشیاں مری کاوشوں کا صلہ نہیں جو دلوں کو سوز حیات دے اسی ہم نوا کی تلاش ہے نہ حرم میں مجھ کو سکوں ملا نہ صنم کدے ہی میں راحتیں جہاں زندگی کو یقیں ملے مجھے ایسی جا کی تلاش ہے یہ نہ جانے کیسے ہیں پیشوا سر راہ ڈوبے گناہ میں جو چھپا لے ان کے عیوب سب انہیں اس قبا کی تلاش ہے

غزل · Ghazal

mire khulus kaa jab aap ko khayaal nahin

مرے خلوص کا جب آپ کو خیال نہیں مجھے بھی ترک تعلق کا کچھ ملال نہیں ہیں زخم شوق مری زندگی کا سرمایہ ہوں مطمئن کہ مجھے فکر اندمال نہیں حوادثات زمانہ مری ضرورت ہیں قدم قدم پہ ملے ہیں یہ خال خال نہیں ملے جو خاک میں سرسبز ہو وہی دانہ ہے پائمال وہی جو کہ پائمال نہیں تو خاک ہے تری عظمت ہے خاکساری میں زوال اس کا مقدر جسے زوال نہیں ہر ایک گام اجالا ہر اک قدم سائے جہان غم میں کوئی حادثہ محال نہیں نصیب ہوتا کوئی غم تو جاگتی قسمت کسی کو اس سے تو ناشادؔ قیل و قال نہیں

Similar Poets