Ishrat Jalandhari
Ishrat Jalandhari
Ishrat Jalandhari
Ghazalغزل
tiri mahfil tire kuche kaa pataa yaad nahin
تری محفل ترے کوچے کا پتا یاد نہیں پھر بھی جیتے ہیں کہ مرنے کی ادا یاد نہیں میں تو چھوڑ آیا تھا اک بھیڑ سر راہ وفا کون کس موڑ سے کب لوٹ گیا یاد نہیں آج دل پر تپش عصر رواں طاری ہے آج اس شوخ کی آنچل کی ہوا یاد نہیں لذت زخم جگر تلخئ صہبائے جنوں اب کوئی چیز ترے غم کے سوا یاد نہیں ذہن بے آب چٹانوں کی طرح جلتا ہے تری زلفیں تری زلفوں کی گھٹا یاد نہیں آپ نے خود کو بتایا تھا مسیح دوراں آپ کو بھی مرے زخموں کی دوا یاد نہیں تھی جب اک دھوم حدیث لب و گیسو عشرتؔ وہ زمانے وہ فضائیں بخدا یاد نہیں
zindagi dard ke sivaa kyaa hai
زندگی درد کے سوا کیا ہے جی مرے یار سوچتا کیا ہے ہوش کی انتہا تو ہے وحشت اور وحشت کی انتہا کیا ہے رکھ مری پیاس پر نظر ساقی تو مرا ظرف دیکھتا کیا ہے میں ستم کو خلوص کہتا ہوں یہ غلط ہے تو پھر بجا کیا ہے اپنی کوئی خطا نہیں عشرتؔ اور اس سے بڑی خطا کیا ہے
tiri nafrat ko tiraa pyaar samajhtaa huun main
تری نفرت کو ترا پیار سمجھتا ہوں میں دھوپ کو سایۂ دیوار سمجھتا ہوں میں سادگی دیکھ مری سوچ سمجھ کر ظالم اپنی تقدیر کو بیدار سمجھتا ہوں میں بعض اوقات تو اس درجہ بہک جاتا ہوں دوستوں کو بھی وفادار سمجھتا ہوں میں میری تائید کو تائید سمجھنے والے تیرے ہر لفظ کو تلوار سمجھتا ہوں میں مجھ کو معلوم ہے انجام صداقت عشرتؔ خود کو ہر لمحہ سر دار سمجھتا ہوں میں
na main ne maut ko samjhaa na zindagaani ko
نہ میں نے موت کو سمجھا نہ زندگانی کو کس آئنے میں اتاروں تری جوانی کو بڑی شدید تمنا ہے زندگانی کی کبھی قریب سے دیکھا ہے زندگانی کو بہت دنوں سے کوئی حادثہ نہیں گزرا ترس رہا ہے قلم دیر سے روانی کو جگر کے داغ کسی گھاٹ پر نہیں دھوئے بہت سنبھال کے رکھا تری نشانی کو فلک کے ظلم زمانے کے حادثے عشرتؔ نکل پڑے ہیں مرے گھر کی پاسبانی کو
kaun se ghaaT chaDhe kis ki duaa le koi
کون سے گھاٹ چڑھے کس کی دعا لے کوئی زندگی پیاس نہیں ہے کہ بجھا لے کوئی جاگتا ہوں کہ اس افلاس زدہ بستی میں کس کو معلوم مرے خواب چرا لے کوئی دشت حالات میں یادوں سے ہم آغوشیٔ دل جیسے اک عید ترے ساتھ منا لے کوئی اپنے گجرے مری سانسوں میں پرو دے ورنہ پھول کے ساتھ چمن بھی نہ اڑا لے کوئی کھل گئے قافلۂ یاس کے پرچم عشرتؔ ہر گزر گاہ تمنا کو سجا لے کوئی
shikast-e-ruh se pahle sahar nahin hoti
شکست روح سے پہلے سحر نہیں ہوتی تمام عمر شب غم بسر نہیں ہوتی ہجوم یاس کے مارے ہوئے کدھر جائیں ہر ایک راہ تری رہ گزر نہیں ہوتی بہ ہر مقام وہ رہتے ہیں باخبر ہم سے اور اس طرح کہ ہمیں بھی خبر نہیں ہوتی کبھی اثر بہ لحاظ دعا نہیں رہتا کبھی دعا ہی بقدر اثر نہیں ہوتی یہ انقلاب زمانہ کہ دم بہ دم پیدا یہ زندگی کہ ادھر سے ادھر نہیں ہوتی طلوع صبح کی امید نے ہمیں عشرتؔ وہ رات دی جو کسی سے بسر نہیں ہوتی





