SHAWORDS
I

Ishrat Safipuri

Ishrat Safipuri

Ishrat Safipuri

poet
15Ghazal

Ghazalغزل

See all 15
غزل · Ghazal

فصل گل آئی عجب رنگ ہے میخانے کا حسن دیکھے کوئی اب شیشہ کا پیمانے کا ناصحو فرض ادا ہو چکا سمجھانے کا چھیڑنا ٹھیک نہیں ہر گھڑی دیوانے کا کون افتاد پڑی اے دل بیتاب نئی کچھ تو معلوم ہو باعث ترے گھبرانے کا جستجو نے تری اک جا کہیں رہنے نہ دیا مجھ کو کعبہ ہی کا رکھا نہ صنم خانے کا خانۂ دل کو غم یار نے آباد کیا کون پرساں تھا اس اجڑے ہوئے کاشانے کا دل کو ہو جاتا ہے باور کہ وہ سچ کہتے ہیں ایسا انداز ہے کچھ ان کے قسم کھانے کا چپکے پی لیتے ہیں انکار نہیں کرتے ہیں شیخ جی سنئے ادب ہے یہی میخانے کا کیا مزے دار تھی الفت کی کہانی میری سننے والا نہ ملا کوئی اس افسانے کا منزل عشق یہ ہے خوب سمجھ لے اے دل آسرا ہے یہاں اپنے کا نہ بیگانے کا فکر لاحق ہے دم مرگ یہ وحشی کو ترے جانشیں کس کو کیا جائے گا ویرانے کا تازگی روح میں چہرے پہ بشاشت آئی واہ کیا کہنا چھلکتے ہوئے پیمانے کا روز روشن ہوا دنیا میں اجالا پھیلا رنگ بدلا نہ مگر میرے سیہ خانے کا لاگ کی آگ ہی کمبخت بری ہوتی ہے ایک انجام ہوا شمع کا پروانے کا جوش وہ بادۂ گلگوں کا وہ قلقل کی صدا لب تک آنا وہ چھلکتے ہوئے پیمانے کا ان کی تصویر جنوں خیز کا کچھ ذکر نہیں نام بدنام زمانے میں ہے دیوانے کا صبح تک جل چکے جانباز محبت دونوں شمع کو روئیں کہ ماتم کریں پروانے کا عمر اتنی تو کٹی بادہ کشی میں عشرتؔ اب کہاں جائیں گے در چھوڑ کے میخانے کا

fasl-e-gul aai ajab rang hai maikhaane kaa

غزل · Ghazal

رفتہ رفتہ غم سے دل کو ربط پیدا ہو گیا سہتے سہتے سختیاں پتھر کلیجا ہو گیا ایک ہی ہچکی میں سارا ختم قصہ ہو گیا آج بیمار محبت کا مداوا ہو گیا غیر کے مذکور پر تکرار‌ و حجت بڑھ گئی باتوں ہی باتوں میں ان سے آج جھگڑا ہو گیا ہجر کی یہ رات یا رب کس طرح ہوگی بسر شام ہی سے گھر میں میرے حشر برپا ہو گیا کام سیدھے پن سے الفت میں کوئی چلتا نہیں آ گئے جب ہم کجی پر چرخ سیدھا ہو گیا دشت تھا سنسان بالکل قیس کے مرنے کے بعد دم سے وحشی کے ترے آباد صحرا ہو گیا ہو گئے مجھ سے مخاطب حال دل سنتے رہے میری صورت پر انہیں دشمن کا دھوکا ہو گیا یہ شب ہجراں کی تاریکی کا ہے اب تک اثر روز روشن میں مرے گھر میں اندھیرا ہو گیا چین تجھ کو بھی نہ حاصل ہو کبھی کمبخت دل تیری بیتابی سے میں الفت میں رسوا ہو گیا یہ حقیقت ہے اسے حاصل ہوئی معراج عشق یار کے نقش قدم پر جس کا سجدہ ہو گیا عشق کے آزار پیہم میں نے جھیلے اس قدر ایک عبرت کا مرقع میں سراپا ہو گیا ہمدمو کیسے بتائیں لذت زخم دروں بن گیا ناسور وہ جو زخم اچھا ہو گیا ہجر کی تاریک شب اس پر بلاؤں کا ہجوم کیا بتائیں رات کو اس گھر میں کیا کیا ہو گیا ان کی پڑنا تھی نظر پہلو سے دل جاتا رہا دم زدن میں سانحہ یہ روح فرسا ہو گیا آ پڑی ہے اس طرح کی ہم نشیں افتاد عشق زندگی کا ذکر کیا دشوار مرنا ہو گیا غم غلط کرتے ہیں عشرتؔ اس طرح سے ہجر میں رو لئے کچھ دیر دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا

rafta-rafta gham se dil ko rabt paidaa ho gayaa

غزل · Ghazal

آوارگان عشق کو اس کی خبر کہاں ہوتی ہے ان کو شام کہاں اور سحر کہاں آیا ابھی ہے اشکوں میں خون جگر کہاں پوری ہوئی مراد تری چشم تر کہاں کعبہ کہاں ہے دیر کہاں یہ خبر کہاں لے جائے مجھ کو دیکھیے اب راہبر کہاں انجام عشق پر ہے ہماری نظر کہاں لالے پڑیں گے جان کے یہ تھی خبر کہاں سجدے کی جا ہیں دیر و حرم آستان یار اب اتنا دیکھنا ہے کہ جھکتا ہے سر کہاں آئے گی لوٹ کر شب عشرت نہ پھر کبھی یہ لطف رات بھر کا ہے وقت سحر کہاں ساقی تہی نہ جام دے بے ہوش میں نہیں پینے کو میں نے پی ہے مگر اس قدر کہاں حیرت سے دیکھتا ہوں حرم کو میں بار بار لائی تری تلاش مجھے کھینچ کر کہاں کاہے کو آپ آئے تھے رندوں میں شیخ جی اب بے پیے جناب یہاں ہے مفر کہاں اے غم نصیب دل تجھے تسکین کیا میں دوں یہ رات ہے فراق کی اس کی سحر کہاں خانہ خراب ہو گئے الفت میں جن کی ہم اب پوچھتے وہی ہیں تمہارا ہے گھر کہاں بہلائے تجھ کو کون مرے بے قرار دل رہتا ہوں اپنے ہوش میں دو دو پہر کہاں پاس ادب سے تم سے کہوں کیا میں اے کلیم بے ہوش ایسے ہوتے ہیں اہل نظر کہاں میں تو ہر ایک شرط محبت کی مان لوں قائم رہیں گے آپ کسی بات پر کہاں کہئے وہ وقت کیا ہوا ڈھلنے لگی ہے دھوپ اب وہ شباب و حسن کی ہے دوپہر کہاں واعظ ہے دو گھڑی کا فقط شغل مے کشی ملتی ہے مجھ کو پینے کو آٹھوں پہر کہاں دل بھی ہے زد پہ اور جگر بھی ہے سامنے پڑتے ہیں آ کے دیکھیے تیر نظر کہاں باقی نگاہ یار نے رکھا ہے کیا یہاں دھندلے سے کچھ نشان ہیں قلب و جگر کہاں رخصت شباب کیا ہوا آندھی اتر گئی وہ جوش وہ خروش وہ اب شور و شر کہاں سوز دروں کا حال میں کیسے بیاں کروں میرے بجا حواس ہیں اے چارہ گر کہاں تقدیر کے سوا اسے صیاد کیا کہیں کھولی کہاں تھی آنکھ رہے عمر بھر کہاں مدت ہوئی ہے طور پہ چھائی ہے خامشی جلوے وہ اب کہاں ہیں وہ اہل نظر کہاں یہ دیر یہ حرم ہے یہ ہے آستان یار اے دل ہے کیا صلاح جھکاؤں میں سر کہاں دن میں ہے دل کشی نہ مزہ کوئی رات میں عشرتؔ وہ اب شباب کے شام و سحر کہاں

aavaargaan-e-ishq ko is ki khabar kahaan

غزل · Ghazal

ختم ہوتی ہے کہاں گردش ایام ابھی ظلم سہنا ہیں بہت سے دل ناکام ابھی نامکمل ہے محبت میں ہر اک کام ابھی ڈھونڈھتا ہے دل مہجور تو انجام ابھی بوالہوس عشق سراسر ہے ترا خام ابھی دل میں باقی ہے ترے خواہش آرام ابھی ہم صفیران چمن رہنا خبردار ذرا آیا گلشن میں ہے صیاد لئے دام ابھی کھل گئی آنکھ مری خواب سے کیا ظلم ہوا میری آغوش میں تھا کوئی دل آرام ابھی ایک دو جام سے سیری نہیں ہوتی ساقی چاہتے پینا ہیں جی بھر کے مے آشام ابھی یہ سزا اس کی ہے بد خو سے محبت کیوں کی جھڑکیاں کیسی وہ دیں گے مجھے دشنام ابھی مجھ کو رہتے ہوئے کعبہ میں زمانہ گزرا دل میں باقی ہے مرے الفت اصنام ابھی دیکھیے ہوتی ہے طے عشق کی منزل کیسے سخت دشوار ہے اس راہ میں ہر گام ابھی جرم ایسا ہی کیا ہے کہ محبت کی ہے دیکھیے لگتے ہیں کیا کیا نئے الزام ابھی کون سا ذکر تھا کیا بات تھی میں بھی تو سنوں کس غرض سے لیا جاتا تھا مرا نام ابھی دے دیا دل انہیں اب آگے جو تقدیر دکھائے کون جھگڑے میں پڑے سوچ کے انجام ابھی اٹھ پڑا رات سے کمبخت ستم ڈھانے کو اے موذن ہے اذاں کا کہاں ہنگام ابھی اب تو دن ختم ہوا ہے دل بیتاب سنبھل وقت آنے کا ہے یہ کون سر شام ابھی اتنی ہمت تو ہو کوئی ہو پلانے والا وہ بلانوش ہوں پی جاؤں میں سو جام ابھی وہ بھی دن دور نہیں ہیں جو سلامت اغیار گالیاں دیں گے وہ لے لے کے مرا نام ابھی چاہتے وہ ہیں کہ اظہار تعلق کا نہ ہو خط بھی آیا ہے کبھی ان کا تو گمنام ابھی دیر سے پیتے ہیں اغیار برابر ساقی سامنے میرے نہیں آیا ہے اک جام ابھی اک نظر پڑتے ہی جاتے رہے سب ہوش و حواس جلوہ افروز تھا یہ کون لب بام ابھی چین سے بت مجھے کعبہ میں نہ رہنے دیں گے دیر سے روز چلے آتے ہیں پیغام ابھی کارگر وصل کی تدبیر نہ ہوگی کوئی پھر بھی کرنا ہے مجھے کوشش ناکام ابھی دیکھیے جھکتا ہے دل دیر و حرم میں کس جا ہے مرے پیش نظر کفر ابھی اسلام ابھی لا سکے تاب نہ تھے طور پہ جس کی موسیٰ جلوہ دیکھا ہے وہی میں نے لب بام ابھی دل گم گشتہ کا کچھ ذکر نہ کرنا ہمدم حسرتوں میں مری پڑ جائے گا کہرام ابھی حشر کے شور سے جی بھر کے نہ سونے پائے مل چلا تھا ہمیں تربت میں کچھ آرام ابھی جلد سے جلد الٰہی شب وعدہ آئے چاہتا دل ہے یہ دن ہی سے کہ ہو شام ابھی کچھ بھی عشرتؔ نہیں انجام محبت کی خبر کٹتے ہیں آہ و فغاں میں سحر و شام ابھی

khatm hoti hai kahaan gardish-e-ayyaam abhi

غزل · Ghazal

دن ہوا ختم وقت شام آیا ہجر میں موت کا پیام آیا ہر گھڑی لب پہ ان کا نام آیا بیکسی میں یہی تو کام آیا ہے محبت میں رازداری شرط لب تک ان کا کبھی نہ نام آیا شب کو وعدہ ہے ان کے آنے کا کس مصیبت سے وقت شام آیا غم نہیں دل جو مل گیا ان سے نہ سہی میرے ان کے کام آیا سننے والا بیاں ہے واعظ کا میں ابھی پی کے ایک جام آیا کیا محبت میں غیر کا شکوہ دل جو اپنا تھا کب وہ کام آیا خم کے خم غیر کر گئے خالی میرے حصہ میں ایک جام آیا حرف مطلب نہ تھا کہیں مرقوم خط بھی ان کا برائے نام آیا خوب پیتے پلاتے اے زاہد زہد و تقویٰ بھی کوئی کام آیا ایک حالت سے ہجر میں گزری فرق کوئی نہ صبح و شام آیا کس بیاباں میں لائی ہے وحشت اے جنوں کون یہ مقام آیا اب یہ عالم ہے ناتوانی کا لب پہ نالہ بھی ناتمام آیا بے نشاں ہو گئی مری تربت اس طرف کون خوش خرام آیا ابتدا تھی وہ عشق و الفت کی دل سا ہمدرد جس میں کام آیا شرح غم کر سکا نہ محشر میں سب کے آخر میں میرا نام آیا چھیڑ تھی یہ بھی آپ کے خط میں غیر کا جو لکھا سلام آیا رہنے دیں گے نہ بت حرم میں مجھے دیر سے آج پھر پیام آیا دل سے امید تھی ہمیں کیا کیا وہ بھی عشرتؔ انہیں کے کام آیا

din huaa khatm vaqt-e-shaam aaya

غزل · Ghazal

مختصر یہ ہے حقیقت عشق کے آزار کی عمر بھر تیمارداری کی دل بیمار کی چین لینے دے دل مضطر کسی دم بہر شغل تو نے او کمبخت اب تو زندگی دشوار کی ہجر کی شب سوچتا ہوں میں کہاں ہوں کون ہوں دیکھتا ہوں غور سے صورت در و دیوار کی اب تو جی گھبرا گیا حور و جناں کے ذکر سے حضرت واعظ بھلا حد ہے کوئی طومار کی آہ و زاری کی کبھی اختر شماری کی کبھی کس مصیبت سے کٹی ہے رات ہجر یار کی خوب سوچے حضرت واعظ جو چپکے پی گئے لاج رکھ لی آپ نے اس جبہ و دستار کی غم نہیں کچھ بہہ گیا آنکھوں سے گر خون جگر ہو گئی پوری خوشی تو دیدۂ خونبار کی آج کیا سمجھا ہے ساقی نے جو مے دیتا نہیں میں نے توبہ اس سے پہلے بھی تو لاکھوں بار کی اے اسیران قفس کیا آئیں گے ایسے بھی دن پھر کبھی دیکھیں گے صورت ہم گل و گلزار کی اب تو وہ ہر بات پر کر دیتے ہیں فوراً نہیں پڑ گئی ہے ایسی کچھ عادت انہیں انکار کی آج کچھ برہم تھے وہ بھی اور ہم بھی تھے بھرے باتوں ہی باتوں میں نوبت آ گئی تکرار کی دے چکی جب نزع کی حالت میں گویائی جواب پوچھنے بیٹھے ہیں خواہش آہ اب بیمار کی ہر قدم پر آبلوں سے اک نئی تکلیف ہے کس طرح طے ہوگی منزل وادیٔ پر خار کی ہو سکی عشرت نہ کوشش آہ کوئی کامیاب ہر گھڑی کرتے رہے تدبیر وصل یار کی

mukhtasar ye hai haqiqat ishq ke aazaar ki

Similar Poets