SHAWORDS
I

Islam Uzma

Islam Uzma

Islam Uzma

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

جو چاہوں بھی تو اب خود کو بدل سکتا نہیں ہوں سمندر ہوں کناروں سے نکل سکتا نہیں ہوں میں یخ بستہ فضاؤں میں اسیر زندگی ہوں تری سانسوں کی گرمی سے پگھل سکتا نہیں ہوں مرے پاؤں کے نیچے جو زمیں ہے گھومتی ہے تو یوں اے آسماں میں بھی سنبھل سکتا نہیں ہوں خود اپنے دشمنوں کے ساتھ سمجھوتا ہے ممکن میں تیرے دشمنوں کے ساتھ چل سکتا نہیں ہوں وہ پودا نفرتوں کا ہے جہاں چاہے اگا لو محبت ہوں میں ہر مٹی میں پھل سکتا نہیں ہوں انہیں لڑنا پڑے گا مجھ سے جب تک ہوں میں زندہ حصار دشمناں سے گو نکل سکتا نہیں ہوں کھلے ہیں راستے کتنے مرے رستے میں عظمیؔ مگر میں ہوں کہ ہر سانچے میں ڈھل سکتا نہیں ہوں

jo chaahun bhi to ab khud ko badal saktaa nahin huun

غزل · Ghazal

شہر خشت و سنگ میں رہنے لگا میں بھی اس کے رنگ میں رہنے لگا پہلے تو آسیب تھا بستی کے بیچ اب وہ اک اک انگ میں رہنے لگا اپنی صلح دوستی لائی یہ رنگ وہ مسلسل جنگ میں رہنے لگا تب جدا ہوتے نہ تھے اب فاصلہ درمیاں فرسنگ میں رہنے لگا اس سے ترک گفتگو کرنے کے بعد سوز اک آہنگ میں رہنے لگا شہر خوش پوشاں کو عظمیؔ چھوڑ کر وادیٔ بے رنگ میں رہنے لگا

shahr-e-khisht-o-sang mein rahne lagaa

غزل · Ghazal

سنگ آتا ہے کوئی جب مرے سر کی جانب دیکھ لیتا ہوں ثمر بار شجر کی جانب اس مسافت کا کوئی انت نہیں ہے لیکن دن نکلتے ہی میں چل پڑتا ہوں گھر کی جانب کس نے آواز مجھے ساحل جاں سے دی ہے ناؤ کیوں دل کی لپکتی ہے بھنور کی جانب قصۂ شوق کو اس تشنہ لبی کا لکھنا کر کے اک اور سفر شہر ہنر کی جانب پھر سے انگاروں کا موسم مرے اندر اترا پھر بڑھا ہاتھ مرا لعل و گہر کی جانب یہ جو ہے صورت حالات بدل سکتی ہے کاش کر پاؤں سفر خیر سے شر کی جانب عین ممکن ہے کہ پتھراتا نہ کوئی عزمیؔ تو نے دیکھا ہی نہیں مڑ کے نگر کی جانب

sang aataa hai koi jab mire sar ki jaanib

غزل · Ghazal

پس دیوار زنداں زندگی موجود رہتی ہے اندھیری رات میں بھی روشنی موجود رہتی ہے سر دربار و مقتل ایک سا موسم انا کا ہے گراں سر میں ہمیشہ سرکشی موجود رہتی ہے رواں رکھتے ہیں ہم کو دشت دریا دھوپ دروازے سرابوں سے سفر میں تشنگی موجود رہتی ہے نظر سے جوڑ رکھتا ہے یہ دل ایسے بھی نظارے کہ بعد از مرگ بھی حیرانگی موجود رہتی ہے بہت آسان راہیں بھی بہت آساں نہیں ہوتیں سبھی رستوں میں تھوڑی گمرہی موجود رہتی ہے مری سوچوں میں یوں رچ بس گئے ہیں شبنمی موسم تواتر سے تہ مژگاں نمی موجود رہتی ہے تلاطم میں سدا رہتی ہیں کرنیں حسن تاباں کی نصیب دشمناں کچھ برہمی موجود رہتی ہے نکل پاتا نہیں میں کوچۂ بے نام سے عظمیؔ کہ اسباب سفر میں کچھ کمی موجود رہتی ہے

pas-e-divaar zindaan zindagi maujud rahti hai

غزل · Ghazal

احسان سنگ و خشت اٹھا لینا چاہیے گھر اب کوئی نہ کوئی بنا لینا چاہیے اتنی غلط نہیں ہے یہ واعظ کی بات بھی تھوڑا بہت ثواب کما لینا چاہیے حالات کیا ہوں اگلے پڑاؤ پہ کیا خبر سپنا یا سنگ کوئی بچا لینا چاہیے وہ رات ہے کہ سایہ بدن سے ہے منحرف ہم کس جگہ کھڑے ہیں پتا لینا چاہیے دشمن یا دوست کون کھڑا ہے پس غبار جو سو رہے ہیں ان کو جگا لینا چاہیے حسن بتاں کی بات ہی عظمیؔ چھڑی رہے موسم کا کچھ نہ کچھ تو مزا لینا چاہیے

ehsaan-e-sang-o-khisht uThaa lenaa chaahiye

غزل · Ghazal

عجب ہی ڈھنگ سے اب انجمن آرائی ہوتی ہے جہاں پر بھی رہیں ہم ساتھ میں تنہائی ہوتی ہے فتوحات دل و جاں پر یوں مت اترا مرے لشکر کہ اس میدان میں فی الفور ہی پسپائی ہوتی ہے یہ میلہ وقت کا ہے ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھنا بچھڑ جائیں یہاں تو پھر کہاں یکجائی ہوتی ہے ہم ایسے کچھ بھی کر لیں ان کی تہہ کو پا نہیں سکتے امیر شہر کی باتوں میں وہ گہرائی ہوتی ہے سلاست سے بیاں احوال دل کرنا ہے اک خوبی بسا اوقات چپ رہنا بھی تو دانائی ہوتی ہے زبان خلق گویائی کے گوہر تو لٹاتی ہے لبوں پر جو نہیں آتی وہی سچائی ہوتی ہے

ajab hi Dhang se ab anjuman-aaraai hoti hai

Similar Poets