aa mere saath baiTh mire saath chaae pi
aa mere saath mere dalaail pe baat kar

Jabbar Wasif
Jabbar Wasif
Jabbar Wasif
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
تمام شہر تو بے مہر نیند سو رہا تھا مگر میں آنکھوں میں نوک قلم چبھو رہا تھا میں جانتا تھا مرے اشک مرنے والے ہیں میں جانتا تھا کہ جو میرے ساتھ ہو رہا تھا مجھے خبر نہیں کب آنسوؤں کو ہوش آیا خبر ہوئی تو میں زار و قطار رو رہا تھا کچھ اس لیے بھی خدا کی مجھے ضرورت تھی میں اپنے کھیت میں گندم کے بیج بو رہا تھا خیال آیا مجھے جب خدا بدلنے کا میں اپنے اشکوں سے حرف دعا بھگو رہا تھا مجھے جگا دیا جب فجر کے موذن نے درون خواب میں مسجد کا صحن دھو رہا تھا سمجھ رہا تھا جسے میں بھی نوح کی کشتی اسی کا ناخدا لوگوں کو اب ڈبو رہا تھا تھا با نصیب بھی اور بد نصیب بھی واصفؔ جو پا رہا تھا کسی کو کسی کو کھو رہا تھا
tamaam shahr to be-mehr niind so rahaa thaa
4 views
انہیں خبر ہے انہیں مجھ سے کام کوئی نہیں سو ان غلاموں میں میرا غلام کوئی نہیں جو ننگ شعر ہیں ننگ ادب ہیں رسوا ہیں خدا کا شکر مرا ان میں نام کوئی نہیں ہر ایک شعر خدا کی عطا سے ہوتا ہے اے میرے دوست یہاں حرف خام کوئی نہیں کہیں سے ملتی ہے خیرات سب کو لفظوں کی یہاں وگرنہ سخن کا امام کوئی نہیں سبھی بدن کے پجاری سبھی ہوس کے غلام قلم قبیلے میں سیتا کا رام کوئی نہیں یہ لوگ کون سی شہرت کی بات کرتے ہیں جب اس جہاں میں کسی کو دوام کوئی نہیں وہ خود ہی کرتے ہیں اپنا مقام طے واصفؔ جو جانتے ہیں کہ ان کا مقام کوئی نہیں
inhein khabar hai inhein mujh se kaam koi nahin
3 views
نہ یہ صحیفوں کا مسئلہ ہے نہ یہ عقیدوں کا مسئلہ ہے یہ مسئلہ ہے وہی جو کربل کے سب شہیدوں کا مسئلہ ہے یہ قم کی مسجد کا سرخ جھنڈا ہے دس محرم کا ہی تسلسل اسی لئے تو یہ دنیا بھر کے سبھی یزیدوں کا مسئلہ ہے جو چودہ صدیوں سے ہر حساب و کتاب پر ہم جھگڑ رہے ہیں یہ دیں کے دفتر کی جاری کردہ غلط رسیدوں کا مسئلہ ہے بتا رہی ہے مزار مرشد پہ اب یہ چلہ کشوں کی محنت جو پہلے مرشد کا مسئلہ تھا وہ اب مریدوں کا مسئلہ ہے سبھی کے منہ میں زباں ہے لیکن کسی کے منہ میں زباں نہیں ہے کہ حق بیانی تو صرف مجھ سے دہن دریدوں کا مسئلہ ہے میں کہنہ الفاظ کے بدن سے نئے معانی نکالتا ہوں سو میرا اسلوب شہر فن کے سبھی جدیدوں کا مسئلہ ہے جو حرف ناپاک ہیں انہیں وہ برائے زر پاک لکھ رہے ہیں یہ دور حاضر کے ناقدوں میں گھسے پلیدوں کا مسئلہ ہے وہ جن کا ہر روز عید جیسا ہے کوئی ان کو بتائے واصفؔ کہ مفلسوں کے گھروں میں بچوں کی دونوں عیدوں کا مسئلہ ہے
na ye sahifon kaa masala hai na ye 'aqidon kaa masala hai
3 views
جو میری غزلوں کی تنزیل کا معاملہ ہے وہ میرا اور مرے جبریل کا معاملہ ہے بنا رہا ہوں میں کاغذ پہ لفظ لفظ کھنڈر دل تباہ کی تمثیل کا معاملہ ہے میں کیا بتاؤں مرے اشک چھپ رہے ہیں کہاں یہ میری آنکھ کی زنبیل کا معاملہ ہے چراغ طور ترا تذکرہ عبث ہے یہاں یہاں تو غار کی قندیل کا معاملہ ہے ادھر بھی پیشوا تعداد میں زیادہ ہیں ادھر بھی چار اناجیل کا معاملہ ہے ہر اک بدن کی اکائی ہے دو میں پوشیدہ یہ کائنات کی تکمیل کا معاملہ ہے یہ ہم جو ہو کے مکمل بھی نامکمل ہیں خدا کے حکم کی تعمیل کا معاملہ ہے ملا ہے آدم و حوا کو نصف نصف وجود یہ سارے دہر کی تشکیل کا معاملہ ہے اس آدھے پن کی ضروری ہے پوری پوری سمجھ جو پورے پن کی تفاصیل کا معاملہ ہے یہ خد و خال کے اعراب سر سے پاؤں تلک بدن صحیفوں کی ترتیل کا معاملہ ہے بسر رہا ہے غزل تیس سال سے واصفؔ یہ مت سمجھ کہ یہ تعجیل کا معاملہ ہے
jo meri ghazlon ki tanzil kaa mu'aamla hai
3 views
در شامل ہو اور دیوار ملوث ہو یعنی یار کی ہار میں یار ملوث ہو اس چوری سے بچنا مشکل ہوتا ہے جس چوری میں چوکیدار ملوث ہو ٹیپو سا سلطان بھی جیت نہیں سکتا غدر میں جب کوئی غدار ملوث ہو سوچیے پھر انجام قبیلے والوں کا جب سازش میں خود سردار ملوث ہو لشکر کا پھر پسپا ہونا بنتا ہے پسپائی میں جب سالار ملوث ہو اس اس جرم کی فائل مخفی رہتی ہے جس جس میں خفیہ کردار ملوث ہو عدل کے کاروبار کو کوئی کیا روکے جب اس میں ساری سرکار ملوث ہو ظاہر میں قاضی تعزیر لگائے اور در پردہ شاہی دربار ملوث ہو دوست ہمارے دوست ہیں پر کیا لازم ہے قتل میں دشمن ہی ہر بار ملوث ہو ممکن ہے اس پار کا ہاتھ نہ ہو اس بار ممکن ہے کوئی اس پار ملوث ہو واصفؔ خواہش ہے کہ بستی ہو بیدار اور بیداری میں جبارؔ ملوث ہو
dar shaamil ho aur divaar mulavvis ho
2 views
نجانے کس کی دعا ہے کہ کام چل رہا ہے کوئی نظام نہیں اور نظام چل رہا ہے رہ وفا میں بچھے ہیں جفا کے انگارے جو چل رہا ہے وہ دو چار گام چل رہا ہے کئی ادیبوں کے نامرد ہو چکے ہیں قلم کئی برس سے فقط ان کا نام چل رہا ہے خبر ملی ہے کہ آقا پرست بستی میں کسی کے پیچھے کسی کا غلام چل رہا ہے جو کھا چکا ہے ہمارے شکیب اور ثروت سخن کدوں میں وہی حرف خام چل رہا ہے میں جانتا ہوں جو نا شاعروں کی ہے قیمت میں جانتا ہوں جو ان سب کا دام چل رہا ہے ہے ثبت مہر سفارش حسین جسموں پر ادب کی منڈی میں مال حرام چل رہا ہے تجھے خبر نہیں واصفؔ بدن کے سکے کی اے میرے دوست یہ سکہ تو عام چل رہا ہے
na-jaane kis ki du'aa hai ki kaam chal rahaa hai
2 views





