SHAWORDS
Jafar Abbas

Jafar Abbas

Jafar Abbas

Jafar Abbas

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

اپنے لیل و نہار کی باتیں جبر کی اختیار کی باتیں ہر طرف کب سے ہو رہی ہیں یہاں گردش روزگار کی باتیں چار سو یاں پہ موجزن ہیں سراب زیست کے ریگزار کی باتیں اک زمانہ گزر گیا یوں ہی ہم ہیں اور دشت خار کی باتیں اس کڑی دھوپ میں مذاہب میں شجر سایہ دار کی باتیں ہے زمیں سخت آسماں چپ ہے واہ رے پرور دگار کی باتیں جس کی اک بھی جھلک نہ دیکھی کبھی کیا ہوں اس پردہ دار کی باتیں مت کرو بے حصار کی باتیں مت کرو بے کنار کی باتیں یہ جو پیاری زمیں ملی ہے تمہیں بس کرو اس دیار کی باتیں گر کرو اپنے دل کی بات کرو ہاں اسی سوگوار کی باتیں

apne lail-o-nahaar ki baatein

غزل · Ghazal

اب فراق و وصال بار ہوئے عمر گزری ہے بے قرار ہوئے اس کی بے اعتباریوں کے طفیل کتنے ہی گل یہاں پہ خار ہوئے خواب دو ایک ہی بچے زندہ قتل باقی تو بے شمار ہوئے کیوں رہا غیریت کا سا احساس جب بھی ہم اس سے کم کنار ہوئے میرے اس کے معاملے اب تو سارے عالم پہ آشکار ہوئے کچھ نئی یہ ملامتیں تو نہیں ایسے طعنے تو بار بار ہوئے جرم کیا ہے پتہ نہیں اب تک ہاں مگر روز سنگسار ہوئے کتنے ہی طرحدار ہم جیسے اس خرابے میں خاکسار ہوئے کس قدر مبتلا تھے ہم خود میں خود سے نکلے تو بے کنار ہوئے میرؔ و غالبؔ کی خاک پا کے طفیل ہم بھی کس درجہ آب دار ہوئے

ab firaaq-o-visaal baar hue

غزل · Ghazal

ابھی تو محو تجلی ہیں سب دکانوں پر پلٹ کے دیکھیے آتے ہیں کب مکانوں پر خیال خام میں گزری ہے زندگی ساری حقیقتوں کا گماں ہے ابھی فسانوں پر قدم قدم پہ تضادوں سے سابقہ ہے جہاں یقین کیسے کرے کوئی ان گمانوں پر وہ جس کی چاہ میں مر مر کے جی رہے ہیں یہاں نہ جانے کون سی بستی ہے آسمانوں پر جہاں بھی تیر لگا بس وہی ہدف ٹھہرا ہے پھر بھی زعم بہت ان کو ان کمانوں پر میں ان کی بات کو کس طور معتبر جانوں مدار زیست ہی جن کا ہے کچھ بہانوں پر کڑی ہے دھوپ جھلستی ہیں اب دلیلیں سبھی یقیں ہے پھر بھی انہیں کتنا سائبانوں پر نظر میں ذہن میں دل میں کشادگی لاؤ ہوا کے رخ کا تقاضا ہے بادبانوں پر نہ جانے کتنی ہی صدیاں لگیں گی اور ابھی دلوں کی بات جب آ پائے گی زبانوں پر عجیب ان کو سلیقہ ہے کھل کے جینے کا نئی ہے کون سی تہمت یہ ہم دوانوں پر ہماری ذات سے آباد کچھ خرابے ہیں ہے اپنے دم سے اجالا کئی مقاموں پر خرد نواز جنوں اور جنوں نواز خرد ہیں اب بھی نور طریقے یہ کچھ ٹھکانوں پر اسے جگاؤ ڈسے تم کو مار ڈالے تمہیں تمہاری ذات میں بیٹھا ہے جو خزانوں پر

abhi to mahv-e-tajalli hain sab dukaanon par

غزل · Ghazal

ہم ہی نے سیکھ لیا رہ گزر کو گھر کرنا وگرنہ اس کی تو عادت ہے در بہ در کرنا نہ اپنی راہ تھی کوئی نہ کوئی منزل تھی تبھی تو چاہا تھا تجھ کو ہی ہم سفر کرنا تھیں گرچہ گرد مرے خامشی کی دیواریں تمہارے واسطے مشکل نہیں تھا در کرنا تمہاری ترک و طلب جسم و روح کی الجھن ہمیں بھی آ نہ سکا خود کو معتبر کرنا تری نگاہ تغافل شعار کے صدقے ہمیں بھی آ ہی گیا ہے گزر بسر کرنا جو اب کے درد اٹھا دل میں آخری ہوگا جو ہو سکے تو اسے میرا چارہ گر کرنا میں چور چور ہوں دیکھو بکھر نہ جاؤں کہیں مری دعاؤں کو اتنا نہ بے اثر کرنا بہار آئی ہے اس بار کچھ لکھیں ہم بھی سکھاؤ ہم کو بھی اس درد کو شجر کرنا

ham hi ne siikh liyaa rahguzar ko ghar karnaa

غزل · Ghazal

واہ کیا دور ہے کیا لوگ ہیں کیا ہوتا ہے یہ بھی مت کہہ کہ جو کہئے تو گلا ہوتا ہے کیا بتائیں تمہیں اب کیا نہیں ہوتا ہے یہاں بس یہ جانو کہ جو ہوتا ہے برا ہوتا ہے دے کے دکھ اوروں کو وہ کون سا سکھ پائے گا ایسی باتوں سے بھلا کس کا بھلا ہوتا ہے اب وہ دن دور نہیں دیکھنا تم بھی یارو امن کے نام پہ کیا فتنہ بپا ہوتا ہے پھر صف آرا ہوئیں فوجیں لب دریائے فرات ہم کو معلوم ہے اس جنگ میں کیا ہوتا ہے آج پھر دل میں اٹھا ہے وہی دیرینہ سوال ایسے مظلوموں کا کیا کوئی خدا ہوتا ہے اک ذرا حال تو دیکھو مرا اے دوست مرے تم ہی سوچو کوئی ایسے میں خفا ہوتا ہے یوں تو ہر رات ہی رہتی ہے عجب بے چینی آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

vaah kyaa daur hai kyaa log hain kyaa hotaa hai

غزل · Ghazal

عجیب بات تھی ہر شعر پر اثر ٹھہرا میں اس کی بزم میں کل رات با ہنر ٹھہرا ہوا جو آ کے وہ مہمان بعد مدت کے لہوں میں رقص ہوا بام پر قمر ٹھہرا ممانعت کا تقاضا تھا جس سے دور رہیں چمن میں وہ ہی شجر سب سے با ثمر ٹھہرا جنوں کی بھیک کہیں بھی نہ مل سکی اس کو گدائے ہوش یہاں گرچہ در بہ در ٹھہرا عجیب رقص تھا بسمل کا ہر تماشائی تڑپ کے درد سے یکسر ہی بے خبر ٹھہرا عقیدتوں کے دھندلکوں میں اور کیا ہوتا ہر ایک فقرہ یہاں اس کا معتبر ٹھہرا مجھے نہ قتل کریں بس پیام لایا ہوں مری حقیقت ہی کیا میں تو نامہ بر ٹھہرا سفینہ گرچہ کنارے پہ جا لگا لیکن سوال یہ ہے ادھر ٹھہرا یا ادھر ٹھہرا نہ جانے کتنی ہی سمتیں بلا رہی ہیں مجھے ہر اک قدم پہ ہے مجھ کو نیا سفر ٹھہرا نہ دیکھ پایا کوئی آنکھ بھر کے آئینہ خود اپنا چہرہ یہاں باعث مفر ٹھہرا ٹھہر کے جس نے بھی کچھ دیر خود کو دیکھ لیا وہ اپنی وحشت بیجا کا چارہ گر ٹھہرا ہے جانے کتنے ہی پردوں میں محو آرایش جھلک بھی دیکھ لی جس نے وہ دیدہ ور ٹھہرا ہر ایک شے سے محبت ہے بس علاج یہاں بس ایک نسخہ یہی ہے جو کارگر ٹھہرا شروع ہوا تھا ابھی اور قریب ختم ہے اب یہ زندگی کا سفر کتنا مختصر ٹھہرا

ajiib baat thi har sher pur-asar Thahraa

Similar Poets