SHAWORDS
J

Jafar Abbas Safvi

Jafar Abbas Safvi

Jafar Abbas Safvi

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

چمن میں خار ہی کیا گل بھی دل فگار ملے فریب خوردۂ رنگینیٔ بہار ملے مزہ تو جب ہے کہ وہ آفتاب صبح جمال گلے لپٹ کے سر شام انتظار ملے نگاہ یاس سے منہ تک رہا ہوں اک اک کا کوئی تو بزم رقیباں میں غم گسار ملے جنہوں نے اپنے لہو سے چمن کو سینچا تھا انہیں کے جیب و گریبان تار تار ملے میں ان کے وعدوں کا یوں بھی یقین کرتا ہوں ملے ملے نہ ملے لطف انتظار ملے قفس کے بعد چمن میں یہ دیکھنا ہے مجھے خزاں ملے کہ وہاں موسم بہار ملے وہی تو فکر سخن آج کل کرے جعفرؔ جسے حیات کا ماحول خوش گوار ملے

chaman mein khaar hi kyaa gul bhi dil-figaar mile

غزل · Ghazal

چلے جائیے گا مری انجمن سے یہ کیا سن ہوں تمہارے دہن سے بہاروں کو رنگیں بنایا ہے ہم نے کہاں جائیں اہل چمن ہم چمن سے کہیں کس سے ہم کسمپرسی کا عالم وطن میں ہیں لیکن غریب الوطن سے محبت کے تحفے سمجھ کر لئے ہیں ملے جس قدر رنج دار محن سے یہ ہی ہوگا آخر تغافل کا حاصل اتر جاؤ گے ایک دن میرے من سے یہ محسوس ہوتا ہے صحرا میں رہ کر تعلق ہی جیسے نہیں تھا چمن سے سنا کر غزل آج محفل میں جعفرؔ مجھے داد لینی ہے اہل سخن سے

chale jaaiyegaa miri anjuman se

غزل · Ghazal

رنج سے واقف خوشی سے آشنا ہونے نہ دے زندگی کو اپنے مقصد سے جدا ہونے نہ دے عشق جب تک طے نہ کر لے منزلیں ایثار کی درد کی لذت سے دل کو آشنا ہونے نہ دے اور جو کچھ ہو ہمیں منظور ہے یا رب مگر آدمی کو آدمی کا آسرا ہونے نہ دے درد دل کہیے جسے اس کی تو یہ پہچان ہے بھول کر جو ہاتھ سینے سے جدا ہونے نہ دے عشق جس دل میں جڑیں اپنی جما لے ایک بار عمر بھر نخل تمنا کو ہرا ہونے نہ دے ناخدا کی کوششیں بیکار تدبیریں عبث پار جب منجدھار سے بیڑا خدا ہونے نہ دے راہ ہستی میں جو جعفرؔ ہر قدم پر موڑ ہیں ہر کس و ناکس کو اپنا رہنما ہونے نہ دے

ranj se vaaqif khushi se aashnaa hone na de

غزل · Ghazal

جوانی کی امنگوں کا یہی انجام ہے شاید چلے آؤ کہ وعدے کی سہانی شام ہے شاید جو تشنہ تھا کبھی ساقی وہ تشنہ کام ہے شاید اسی باعث تو نظم مے کدہ بدنام ہے شاید ہنسی کے ساتھ بھی آنسو نکل آتے ہیں آنکھوں سے خوشی تو میری قسمت میں برائے نام ہے شاید جسے مے خوار پی کے میکدے میں رقص کرتے ہیں تری آنکھوں کی مستی ساقیٔ گلفام ہے شاید اڑائی شمع نے جب خاک پروانہ تو میں سمجھا محبت کرنے والوں کا یہی انجام ہے شاید جو اب تک میکشوں کے پاس مدت سے نہیں آئی ابھی گردش میں خود ہی گردش ایام ہے شاید میں دانستہ اب ان کے سامنے خاموش ہوں جعفرؔ خموشی بھی مری اب مورد الزام ہے شاید

javaani ki umangon kaa yahi anjaam hai shaayad

غزل · Ghazal

دونوں جہاں کو زینت داماں کئے ہوئے بیٹھا ہوں دل میں آپ کو مہماں کئے ہوئے نظارۂ جمال میسر ہو کس طرح آئے ہیں آپ زلف پریشاں کئے ہوئے دیوانے جا رہے ہیں تری جستجو میں آج دامن کی دھجیوں کو گریباں کئے ہوئے آؤ جناب شیخ چلو مے کدہ چلیں عرصہ ہوا ہے مے کدہ ویراں کئے ہوئے کس سمت جا رہا ہے کدھر لے چلا مجھے کمبخت دل تصور جاناں کئے ہوئے جعفرؔ میں ان کی راہ میں بیٹھا ہوں مدتوں داغوں سے دل کے جشن چراغاں کئے ہوئے

donon-jahaan ko zinat-e-daamaan kiye hue

غزل · Ghazal

دشت میں گلشن میں ہر جا کی ہے تیری جستجو اب کہاں لے جا رہا ہے اے فریب رنگ و بو آپ اتنا تو بتا دیں کب کرم ہوگا حضور کب مروت میں بدل جائے گی یہ نفرت کی خو سادگئ دل پہ اپنی رشک آتا ہے مجھے اک وفا نا آشنا سے ہے وفا کی آرزو عشق کی منزل میں لاکھوں کارواں گم ہو گئے رہرو راہ محبت کیا کریں گے جستجو رہ گئے ہیں اب تو لے دے کر دل برباد میں حسرت دیدار کا غم اور تیری آرزو دے رہی ہے اپنے دامن کی ہوا باد سحر تیری زلف عنبریں ہے اک جہان رنگ و بو جب کبھی ساقی نے جعفرؔ اپنی نظریں پھیر لیں میکدے میں پی لیا ہے میں نے ارماں کا لہو

dasht mein gulshan mein har jaa ki hai teri justuju

Similar Poets