SHAWORDS
Jagdish Prakash

Jagdish Prakash

Jagdish Prakash

Jagdish Prakash

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

مری زندگی ہے سراب سی کبھی موجزن کبھی تشنہ دم کبھی انتظار کی دھوپ سی کبھی قربتوں کا کوئی بھرم تری چاہتوں کا یہ سلسلہ کسی دھوپ چھاؤں کے کھیل سا کبھی پوس ماگھ کی دھوپ سا کبھی نغمہ خواں کبھی چشم نم مجھے چھو کے وقت گزر گیا ذرا رک کے عمر نکل گئی جو رہا تو پاس یہی رہا کبھی اپنا دکھ کبھی سب کا غم کبھی راستوں کے غبار میں کبھی منزلوں کے خمار میں کبھی جستجوئے بہار میں رہے حادثوں سے بندھے قدم ترا نام سن کے چلی پون ترا ذکر سن کے کھلا چمن کہ مری سوانح زیست پر ترا نام لکھ کے رکا قلم یہ ذرا ذرا سی شکایتیں کہیں بن نہ جائیں حکایتیں یہی پوچھتے کہ ہوا ہے کیا کبھی ہم سے تم کبھی تم سے ہم کبھی قربتوں کا سکوں ملا کبھی فرقتوں کا جنوں ملا کبھی کھو گئے سبھی راستے کبھی منزلوں سے ملے قدم

miri zindagi hai saraab si kabhi maujzan kabhi tishna-dam

1 views

غزل · Ghazal

راہ کو آزما کے دیکھو تو اک قدم پھر بڑھا کے دیکھو تو ایک ننھی سی آرزو کے لیے خواب میں گھر بنا کے دیکھو تو عشق اک معجزہ سا ہوتا ہے تم کبھی دل لگا کے دیکھو تو ان سوالوں سے کچھ نہیں ہوگا تم مجھے آزما کے دیکھو تو

raah ko aazmaa ke dekho to

غزل · Ghazal

جو بھی ہونا تھا وہ ہوا اچھا تو ہے اچھا ترا خدا اچھا میں سرابوں میں کھو گیا تھا کہیں نہ سفر تھا نہ فاصلہ اچھا شہر تیرا تجھے مبارک ہو مجھ کو جنگل کا راستہ اچھا کیا مزے کی کتاب ہے یہ دل جس نے بھی پڑھ لیا لگا اچھا نہ سہی وصل ذکر وصل تو تھا کوئی لمحہ تو مل گیا اچھا فیس بک پر کسی کا مل جانا بن گیا ایک سلسلہ اچھا اس سے یوں دور مت رہو جگدیشؔ کچھ نہ کہنے سے تو گلہ اچھا

jo bhi honaa thaa vo huaa achchhaa

غزل · Ghazal

بات کی بات رہے بات کا مفہوم رہے اور تخیل مرا تازہ رہے معصوم رہے ہر نئی سوچ کو مضمون بنا لوں گا مگر میرا کردار مری ذات سے موسوم رہے میری پہچان کے سب لوگ جدا ہوتے گئے جو بچے میری طرح بے بس و مظلوم رہے آج تک بنتے رہے ہیں جو ہمارے ضامن ان سے ہم ہاتھ ملانے سے بھی محروم رہے اب تو بس خود ہی سنا کرتے ہیں اپنی آواز آپ کے قدموں کی آہٹ سے بھی محروم رہے

baat ki baat rahe baat kaa mafhum rahe

غزل · Ghazal

شاہراہیں نہیں ڈگر تو ہے منزلیں نا سہی سفر تو ہے دور صحرا میں ایک چھوٹا سا بے ثمر ہی سہی شجر تو ہے مختصر گو ہے داستان مری اس کے انجام میں اثر تو ہے ظلمت شب گراں ہے یہ مانا رات کے بعد پھر سحر تو ہے ہیں دریچے اداس در ویراں کچھ نہیں پھر بھی اپنا گھر تو ہے میرے الفاظ میں کشش نہ سہی میری آواز میں اثر تو ہے

shaahraahein nahin Dagar to hai

غزل · Ghazal

مرا وجود مرے اعتبار جیسا ہے کبھی وصال کبھی انتظار جیسا ہے مجھے تو اس کی مسیحائی پر تھا ناز بہت مگر وہ خود ہی بڑا بے قرار جیسا ہے مرے ضمیر پہ ہے بوجھ میرے ماضی کا جو میری ذات پہ اب تک ادھار جیسا ہے عجیب ایک معمہ ہے عشق بھی جگدیشؔ کبھی یہ جیت کبھی صرف ہار جیسا ہے یہاں نہ کوئی ارادہ نہ آرزوئیں ہیں مرا جنوں مرے دل کے غبار جیسا ہے

miraa vajud mire e'tibaar jaisaa hai

Similar Poets