SHAWORDS
Jagjit Kafir

Jagjit Kafir

Jagjit Kafir

Jagjit Kafir

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

ik but hai jise meri nazar DhunDh rahi hai

اک بت ہے جسے میری نظر ڈھونڈھ رہی ہے مشکل ہے ملاقات مگر ڈھونڈھ رہی ہے لاکھوں میں کسی ایک کے کاندھوں پہ ملے گا وہ سر کہ جسے عظمت سر ڈھونڈھ رہی ہے منزل نے میرے پاؤں کو چوما ہے کئی بار میں وہ ہوں جسے گرد سفر ڈھونڈھ رہی ہے اک بار کرو جنگ میں اس ماں کا تصور جو فوت ہوا لخت جگر ڈھونڈھ رہی ہے پرواز کو باقی ہیں ابھی اور بھی امبر حسرت میری اب ظرف کے پر ڈھونڈھ رہی ہے اک روز اداسی نے مرا نام سنا تھا اس دن سے مجھے شام و سحر ڈھونڈھ رہی ہے خواہش ہے بڑی دیر سے کافرؔ کی جبیں کو سجدے کے لیے یار کا در ڈھونڈ رہی ہے

غزل · Ghazal

didaar tere husn kaa bas aankh bhar karun

دیدار تیرے حسن کا بس آنکھ بھر کروں اور پھر اسی سرور میں پہروں بسر کروں مصرعوں میں ڈھل کے آپ کے دل میں اتر سکیں اتنا میں ہر خیال کو باریک تر کروں اے زندگی بتا مجھے تو نے دیا ہے کیا تیرا یقیں کروں بھی تو کس بات پر کروں یہ بھی تو اک طرح سے محبت کی ہار ہے خود کو تمہارے ہجر میں برباد گر کروں میری مسافتوں کی کوئی انتہا تو ہو ان آبلوں کے ساتھ میں کب تک سفر کروں ہر شخص کی زبان پہ کافرؔ کا نام ہو اتنا میں اپنے آپ کو اب نامور کروں

غزل · Ghazal

koi habib koi mehrbaan to hai hi nahin

کوئی حبیب کوئی مہرباں تو ہے ہی نہیں ہمارے سر پے کوئی آسماں تو ہے ہی نہیں جو ایک عکس حقیقت ہے ٹوٹ جائے اگر پتہ چلے کہ جہاں میں جہاں تو ہے ہی نہیں میں ایک عمر سے رب کی تلاش کرتا ہوں جہاں پہ اس کا نشاں تھا وہاں تو ہے ہی نہیں ہر ایک ظلم کو چپ چاپ سہ رہے ہیں سبھی معاشرے میں کوئی با زباں تو ہے ہی نہیں یہ اشک غم کا فسانہ سنا کے مانے گا کسی بھی طور مرا راز داں تو ہے ہی نہیں کرو گے عشق تو جانو گے غیب کو کافرؔ ہر ایک راز ہے ظاہر نہاں تو ہے ہی نہیں

غزل · Ghazal

baDe yaqin se koi is intizaar mein hai

بڑے یقین سے کوئی اس انتظار میں ہے ترا وصال کا وعدہ اسی بہار میں ہے کچھ اور وقت لگے گا ذرا تو صبر کرو جو تشنگی کا مسیحا ہے ریگزار میں ہے میں اپنے دل کو بچاؤں تو کس طرح جاناں کہاں بچے گا جو تیری نظر کی مار میں ہے ہر ایک شے ہے میری جستجو کے پہلو میں میری حیات مرے ہی تو اختیار میں ہے مرا سوال ہے اب معجزوں کے ہونے پر یہ خاک اب بھی شراروں کے انتظار میں ہے بس ایک لفظ نے طاری کیا تھا وجد کوئی یہ کائنات ابھی بھی اسی خمار میں ہے کوئی تو پوچھ کے آئے مقام کافرؔ کا سخنوروں کے قبیلے میں کس شمار میں ہے

غزل · Ghazal

main agar dil jalaa nahin hotaa

میں اگر دل جلا نہیں ہوتا شعر کوئی کہا نہیں ہوتا عظمت عشق ہے کہ جھکتا ہوں کوئی پیکر خدا نہیں ہوتا بانس کے شہر میں بسے لوگو ہر شجر کھوکھلا نہیں ہوتا بس وہی رات دن کی گردش ہے اور کچھ بھی نیا نہیں ہوتا راس آنے لگی ہے فرقت بھی ان دنوں غم زدہ نہیں ہوتا اپنی وحشت سے خوف کھاتا ہوں ضبط ہر مرتبہ نہیں ہوتا ایک ساگر چھپا ہے آنکھو میں صرف آنسو چھپا نہیں ہوتا مسئلہ زندگی کا ہے کافرؔ موت میں کچھ برا نہیں ہوتا

غزل · Ghazal

mustaqbil ke khvaab sajaanaa mushkil hai

مستقبل کے خواب سجانا مشکل ہے اب یادوں سے دل بہلانا مشکل ہے جن گلیوں میں یار کا دامن چھوٹا تھا ان گلیوں میں آنا جانا مشکل ہے کچھ کردار نبھائے اتنی شدت سے میرا اپنے آپ میں آنا مشکل ہے آوازوں سے زخم ہوئے ہیں کچھ ایسے سناٹوں کو بھی سن پانا مشکل ہے آنسو تو چھپ سکتے ہیں اس دنیا سے لیکن دل کی آہ چھپانا مشکل ہے غفلت کے جو لمحے ذلت دے جائیں ان لمحوں کا بوجھ اٹھانا مشکل ہے مقتل میں اک شرط اٹھی تھی توبہ کی ہنس کر بولا اک دیوانا مشکل ہے اس دنیا میں سب کچھ آساں ہے کافرؔ بس اک سچا عشق کمانا مشکل ہے

Similar Poets