SHAWORDS
Jarrar Chhaulisi

Jarrar Chhaulisi

Jarrar Chhaulisi

Jarrar Chhaulisi

poet
18Ghazal

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

واپس جو نہیں آئے گا میں وہ سفری ہوں اے دوست گلے لگ کہ چراغ سحری ہوں اے حسن یہ انداز و ادا تجھ میں کہاں تھے میں تیرے لیے آئینۂ عشوہ گری ہوں بڑھتی ہوئی تحریک سیاست مجھے سمجھو اعلان بغاوت پئے بیداد گری ہوں دنیا کے لیے جو ہے اجالوں کا پیمبر ظلمت کدۂ شب میں وہ نجم سحری ہوں رنگینی و خوش پیرہنی ہے مرے دم سے گلشن میں کلی تم میں نسیم سحری ہوں حیرت سے نہ کیوں دیکھے مجھے سارا زمانہ پروردۂ آغوش کمال بشری ہوں تم بھی ہو اداؤں کی کشاکش میں گرفتار کیا فکر جو میں قیدیٔ آشفتہ سری ہوں

vaapas jo nahin aaegaa mein vo safari huun

2 views

غزل · Ghazal

دل سے اب یوں خلش مرگ نکالی جائے زندگی موت کی آغوش میں پالی جائے ڈیرا ڈالا ہے اندھیروں نے چمن میں ہر سو کیوں نہ اب آگ نشیمن میں لگا لی جائے بات دیوانے کی اک روز جہاں سمجھے گا ہے ابھی وقت ہنسی خوب اڑا لی جائے ہم نے ہر دور میں تبلیغ محبت کی ہے شوق سے کوئی سی تاریخ اٹھا لی جائے ایک آئے گا نظر باطن و ظاہر جرارؔ میری سیرت مری صورت سے ملا لی جائے

dil se ab yuun khalish-e-marg nikaali jaae

2 views

غزل · Ghazal

کس کی آنکھوں نے کئے اشک رواں میرے بعد ہو گیا راز محبت کا بیاں میرے بعد میرے باعث ہوا دنیا میں تعارف تیرا پھر ترے حسن کے چرچے یہ کہاں میرے بعد جن کی نظروں میں کھٹکتا تھا میں کانٹے کی طرح ان کی نظروں میں ہے تاریک جہاں میرے بعد پھر کسی نے نہ سنا تذکرۂ قتل و جفا کٹ گئی خنجر قاتل کی زباں میرے بعد مجھ کو جرارؔ فنا عشق ستم گر نے کیا اب کہاں جائے گا یہ دشمن جاں میرے بعد

kis ki aankhon ne kiye ashk ravaan mere baad

1 views

غزل · Ghazal

کون ہیں جو غم ناک نہیں ہیں ہم ہی گریباں چاک نہیں ہیں شور نہ کر اے سیل حوادث ہم بھی خس و خاشاک نہیں ہیں شان خدا نازاں ہیں وہ بھی جن کے دامن پاک نہیں ہیں خون میں تر ہیں دامن و خنجر پھر بھی وہ سفاک نہیں ہے اے جرارؔ سکوں کے سامان آج تہ افلاک نہیں ہیں

kaun hain jo ghamnaak nahin hain

1 views

غزل · Ghazal

مرے ساتھ ساتھ آؤ نیا میکدہ بناؤ کبھی میں تمہیں پلاؤں کبھی تم مجھے پلاؤ یہ غریب کا مکاں ہے یہاں فرش گل کہاں ہے جو ہو بیٹھنا تو آؤ سر خاک بیٹھ جاؤ ابھی تاب امتحاں ہے ابھی حوصلہ جواں ہے ابھی اور ظلم توڑو ابھی اور ظلم ڈھاؤ کبھی گر رہے ہیں آنسو کبھی اٹھ رہی ہیں آہیں تمہیں کس نے کہہ دیا تھا مرے شعر گنگناؤ مری زندگی یہی ہے کہ ہر اک کو فیض پہنچے میں چراغ رہگزر ہوں مجھے شوق سے جلاؤ

mire saath saath aao nayaa mai-kada banaao

غزل · Ghazal

سبب درد جگر یاد آیا یعنی وہ تیر نظر یاد آیا جھلملانے لگے پلکوں پہ نجوم پھر کوئی رشک قمر یاد آیا اپنی منزل کے نشاں پاتے ہی مجھ کو آغاز سفر یاد آیا دیکھ کر آئنہ کس سوچ میں ہو کیا کوئی اہل نظر یاد آیا بھولنے والے تڑپ اٹھے گا میں کسی وقت اگر یاد آیا ان کی پازیب ادھر گونج اٹھی شور زنجیر ادھر یاد آیا کیوں یہ بکھرا لئے گیسو تم نے کیا کوئی خاک بسر یاد آیا ایک حالت میں بسر ہو نہ سکی شام کو وقت سحر یاد آیا ہل گیا قلب دو عالم جرارؔ کون کرتا ہوا فریاد آیا

sabab-e-dard-e-jigar yaad aayaa

Similar Poets