SHAWORDS
J

Jauhar Balliawi

Jauhar Balliawi

Jauhar Balliawi

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

کبھی خزاں کبھی کیفیت بہار تو ہے یہ دھوپ چھاؤں کا موسم بھی خوش گوار تو ہے ہوا چمن کی نہ راس آ سکی تو اس سے کیا ہمارے خون سے خاک اس کی لالہ زار تو ہے یہ اور بات کہ فطرت کو صید کر نہ سکے سبیل چننے کا انساں کو اختیار تو ہے ہمارے غم کا مداوا ملے ملے نہ ملے ہماری جہد سے حاصل ہمیں قرار تو ہے سحاب درد کا سایہ گھنا ہے آج بہت چڑھے گی دھوپ مگر کل یہ اعتبار تو ہے یہ بات طے ہے کہ دل کا جمود ٹوٹے گا فضائے ذہن پہ چھایا ہوا غبار تو ہے نگاہ نقد کی تسکیں کے واسطے جوہرؔ مرے کلام میں تلخیٔ خوش گوار تو ہے

kabhi khizaan kabhi kaifiyyat-e-bahaar to hai

غزل · Ghazal

کیا ہے گر بے ثبات ہیں ہم لوگ حاصل کائنات ہیں ہم لوگ سینۂ وقت میں دھڑکتے ہیں تازہ تر واردات ہیں ہم لوگ ہم سے پاتا ہے نور روئے سحر ویسے کہنے کو رات ہیں ہم لوگ ہم سے کچھ بھی نہیں ہے نا ممکن فاتح ممکنات ہیں ہم لوگ زخم کھاتے ہیں مسکراتے ہیں خوگر حادثات ہیں ہم لوگ پیاس اپنی بجھا نہی سکتے گو بظاہر فرات ہیں ہم لوگ اپنی منزل نہیں کوئی جوہرؔ رہ گزار حیات ہیں ہم لوگ

kyaa hai gar be-sabaat hain ham log

غزل · Ghazal

ہر بلندی سے گزر جانا تھا کام مشکل سہی کر جانا تھا موج در موج سنورنے کے لئے غم کے دریا میں اتر جانا تھا کب تلک کشمکش موت و حیات یا تو جینا تھا یا مر جانا تھا عشق پابند گلستاں کیوں ہو بوئے گل بن کے بکھر جانا تھا کون سے موڑ پہ آ پہنچا ہوں بھول بیٹھا ہوں کدھر جانا تھا پاؤں بے جان تھے آنکھیں بے نور دور منزل تھی مگر جانا تھا وہ بھی نظروں سے گرا ہے جوہرؔ جس کو معراج نظر جانا تھا

har bulandi se guzar jaanaa thaa

غزل · Ghazal

یہ ہستی مستقل آزار بھی ہے مگر ہم کو اسی سے پیار بھی ہے گزرنا رہ گزار زندگی سے بہت آساں بہت دشوار بھی ہے کبھی یہ سر ہے وجہ سرفرازی کبھی دوش انا پر بار بھی ہے ابھرتا ٹوٹتا یہ عکس میرا مرا دشمن بھی میرا یار بھی ہے ارادے جس کے ہیں طوفاں بداماں اسی کے ہاتھ میں پتوار بھی ہے ہمارے سامنے تم ہی نہیں ہو ہمارے سامنے دیوار بھی ہے جمال فکر ہے معیار جوہرؔ اسی سے عظمت فن کار بھی ہے

ye hasti mustaqil aazaar bhi hai

غزل · Ghazal

سامنے کوئی بھی منظر نہ سماں ہوتا ہے دل سلگتا ہے تو آنکھوں میں دھواں ہوتا ہے جانے کس شہر کی دھرتی پہ قدم ہے اپنا اپنے ہونے پہ نہ ہونے کا گماں ہوتا ہے زندگی شہد سے شیریں ہے تو زہراب بھی ہے اس کا احساس مگر سب کو کہاں ہوتا ہے کبھی خورشید پہ ہوتا ہے گماں ذرے کا کوئی ذرہ کبھی خورشید نشاں ہوتا ہے جادۂ فہم و فراست میں بھی ملتے ہیں سراب ہر یقیں منزل صد وہم و گماں ہوتا ہے پتھروں سے ہے شکایت نہ تو راہوں سے گلہ ٹھوکریں کھا کے مرا عزم جواں ہوتا ہے دل کچھ اس طور ہے مانوس غم ہستی سے عیش کا اس پہ تصور بھی گراں ہوتا ہے میرا ماضی ہے سلگتے ہوئے صحرا کی طرح سیل اشک آنکھوں سے یوں ہی نہ رواں ہوتا ہے چوٹ جب پڑتی ہے فن کار کے دل پر جوہرؔ درد صورت گر اظہار بیاں ہوتا ہے

saamne koi bhi manzar na samaan hotaa hai

غزل · Ghazal

ہم کہ لمحات کے تیور پہ نظر رکھتے ہیں دیکھ ہر حال میں جینے کا ہنر رکھتے ہیں غیر کی راہ پہ چلنا نہیں فطرت اپنی ہم زمانے سے جدا اپنی ڈگر رکھتے ہیں جو کٹے حق کے لئے رونق مقتل ٹھہرے ہم سجائے ہوئے شانوں پہ وہ سر رکھتے ہیں بے نشانی تو مقدر ہے ازل سے اپنا اپنی پہچان کا اک نقش مگر رکھتے ہیں ہم وہی خاک نشیں ہیں کہ زمیں پر رہ کر چرخ کے چاند ستاروں پہ گزر رکھتے ہیں ہم کو آسائش منزل نہ صدا دینا کبھی وہ مسافر ہیں کہ پیروں میں سفر رکھتے ہیں وادیاں صورت گلزار مہک اٹھتی ہیں خار زاروں میں بھی ہم پاؤں اگر رکھتے ہیں حامل سوز ہو جوہرؔ نہ غزل کیوں اپنی ہم چھپائے ہوئے سینے میں شرر رکھتے ہیں

ham ki lamhaat ke tevar pe nazar rakhte hain

Similar Poets