SHAWORDS
Jaun Eliya

Jaun Eliya

Jaun Eliya

Jaun Eliya

poet
171Ghazal

Ghazalغزل

See all 171
غزل · Ghazal

کیسا دل اور اس کے کیا غم جی یوں ہی باتیں بناتے ہیں ہم جی کیا بھلا آستین اور دامن کب سے پلکیں بھی اب نہیں نم جی اس سے اب کوئی بات کیا کرنا خود سے بھی بات کیجے کم کم جی دل جو دل کیا تھا ایک محفل تھا اب ہے درہم جی اور برہم جی بات بے طور ہو گئی شاید زخم بھی اب نہیں ہے مرہم جی ہار دنیا سے مان لے شاید دل ہمارے میں اب نہیں دم جی ہے یہ حسرت کے ذبح ہو جاؤں ہے شکن اس شکم کہ ظالم جی کیسے آخر نہ رنگ کھیلیں ہم دل لہو ہو رہا ہے جانم جی ہے خرابہ حسینیہ اپنا روز مجلس ہے اور ماتم جی وقت دم بھر کا کھیل ہے اس میں بیش از بیش ہے کم از کم جی ہے ازل سے ابد تلک کا حساب اور بس ایک پل ہے پیہم جی بے شکن ہو گئی ہیں وہ زلفیں اس گلی میں نہیں رہے خم جی دشت دل کا غزال ہی نہ رہا اب بھلا کس سے کیجئے رم جی

kaisaa dil aur is ke kyaa gham ji

4 views

غزل · Ghazal

عجب حالت ہماری ہو گئی ہے یہ دنیا اب تمہاری ہو گئی ہے سخن میرا اداسی ہے سر شام جو خاموشی پہ طاری ہو گئی ہے بہت ہی خوش ہے دل اپنے کیے پر زمانے بھر میں خواری ہو گئی ہے وہ نازک لب ہے اب جانے ہی والا مری آواز بھاری ہو گئی ہے دل اب دنیا پہ لعنت کر کہ اس کی بہت خدمت گزاری ہو گئی ہے یقیں معذور ہے اب اور گماں بھی بڑی بے روزگاری ہو گئی ہے وہ اک باد شمالی رنگ جو تھی شمیم اس کی سواری ہو گئی ہے مرے پاس آ کے خنجر بھونک دے تو بہت نیزہ گزاری ہو گئی ہے

ajab haalat hamaari ho gai hai

3 views

غزل · Ghazal

ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے کس نے عذاب جاں سہا کون عذاب جاں میں ہے لمحہ بہ لمحہ دم بہ دم آن بہ آن رم بہ رم میں بھی گزشتگاں میں ہوں تو بھی گزشتگاں میں ہے آدم و ذات کبریا کرب میں ہیں جدا جدا کیا کہوں ان کا ماجرا جو بھی ہے امتحاں میں ہے شاخ سے اڑ گیا پرند ہے دل شام درد مند صحن میں ہے ملال سا حزن سا آسماں میں ہے خود میں بھی بے اماں ہوں میں تجھ میں بھی بے اماں ہوں میں کون سہے گا اس کا غم وہ جو مری اماں میں ہے کیسا حساب کیا حساب حالت حال ہے عذاب زخم نفس نفس میں ہے زہر زماں زماں میں ہے اس کا فراق بھی زیاں اس کا وصال بھی زیاں ایک عجیب کشمکش حلقۂ بے دلاں میں ہے بود و نبود کا حساب میں نہیں جانتا مگر سارے وجود کی نہیں میرے عدم کی ہاں میں ہے

ek gumaan kaa haal hai aur faqat gumaan mein hai

3 views

غزل · Ghazal

کیا کہیں تم سے بود و باش اپنی کام ہی کیا وہی تلاش اپنی کوئی دم ایسی زندگی بھی کریں اپنا سینہ ہو اور خراش اپنی اپنے ہی تیشۂ ندامت سے ذات ہے اب تو پاش پاش اپنی ہے لبوں پر نفس زنی کی دکاں یاوہ گوئی ہے بس معاش اپنی تیری صورت پہ ہوں نثار پہ اب اور صورت کوئی تراش اپنی جسم و جاں کو تو بیچ ہی ڈالا اب مجھے بیچنی ہے لاش اپنی

kyaa kahein tum se bud-o-baash apni

3 views

غزل · Ghazal

دل سے ہے بہت گریز پا تو تو کون ہے اور ہے بھی کیا تو کیوں مجھ میں گنوا رہا ہے خود کو مجھ ایسے یہاں ہزار ہا تو ہے تیری جدائی اور میں ہوں ملتے ہی کہیں بچھڑ گیا تو پوچھے جو تجھے کوئی ذرا بھی جب میں نہ رہوں تو دیکھنا تو اک سانس ہی بس لیا ہے میں نے تو سانس نہ تھا سو کیا ہوا تو ہے کون جو تیرا دھیان رکھے باہر مرے بس کہیں نہ جا تو

dil se hai bahut gurez-paa tu

3 views

غزل · Ghazal

گزراں ہیں گزرتے رہتے ہیں ہم میاں جان مرتے رہتے ہیں ہائے جاناں وہ ناف پیالہ ترا دل میں بس گھونٹ اترتے رہتے ہیں دل کا جلسہ بکھر گیا تو کیا سارے جلسے بکھرتے رہتے ہیں یعنی کیا کچھ بھلا دیا ہم نے اب تو ہم خود سے ڈرتے رہتے ہیں ہم سے کیا کیا خدا مکرتا ہے ہم خدا سے مکرتے رہتے ہیں ہے عجب اس کا حال ہجر کہ ہم گاہے گاہے سنورتے رہتے ہیں دل کے سب زخم پیشہ ور ہیں میاں آن ہا آن بھرتے رہتے ہیں

guzaraan hain guzarte rahte hain

2 views

Similar Poets