SHAWORDS
Javed Qamar Liyaqati

Javed Qamar Liyaqati

Javed Qamar Liyaqati

Javed Qamar Liyaqati

poet
18Ghazal

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

کچھ نہیں ہے زندگی میں اب ہے خالی زندگی لگ رہا ہے بن گئی ہے اک سوالی زندگی جس کو ہے پاس وفا پاس حیا اس دور میں زندگی ہے اصل میں اس کی مثالی زندگی شاہ کے دربار میں بھی سر نہ خم ہم نے کیا ہم جیے جب تک گزاری شان والی زندگی اس سمندر سے کوئی موتی نہیں ہم کو ملا یوں تو ہم نے عمر بھر اپنی کھنگالی زندگی سو گئے ہم اوڑھ کر تنہائی میں ساری تھکن موت نے اپنے گلے جس دم لگا لی زندگی زندگی سے تم ابھی واقف نہیں اچھی طرح اس لیے لگتی ہے تم کو بھولی بھالی زندگی ہیں بہاریں ہی بہاریں شہر میں لیکن قمرؔ شہر سے بہتر ہے پھر بھی گاؤں والی زندگی

kuchh nahin hai zindagi mein ab hai khaali zindagi

غزل · Ghazal

کوئی تو دوست ملے کوئی غم گسار ملے ہے بے قرار بہت دل اسے قرار ملے یہ کیسی بزم طرب ہے جہاں مجھے آ کر خوشی تو کوئی نہیں غم مگر ہزار ملے پلا رہا ہوں لہو دل کا میں چراغوں کو مرے چراغوں کو سورج کا اعتبار ملے وہ کیسا دور بہاراں تھا کیسا گلشن تھا جدھر بھی ڈالی نظر میں نے مجھ کو خار ملے تمہارا پھول سا چہرہ سدا رہے شاداب خزاں ہو میرا مقدر تمہیں بہار ملے دئے ہیں وقت نے آنسو بھی میری آنکھوں کو خوشی کے ساتھ مجھے غم بھی بے شمار ملے جفا‌ پرست ستمگر ملے قمرؔ مجھ کو کوئی زمانے میں اب تو وفا شعار ملا

koi to dost mile koi gham-gusaar mile

غزل · Ghazal

بن ترے اب جیا نہیں جاتا چاک دامن سیا نہیں جاتا مجھ کو حاصل خوشی نہیں ہوتی زہر غم بھی پیا نہیں جاتا میرے خط لے کے تیرے کوچے میں اب کوئی ڈاکیا نہیں جاتا دل بہت قیمتی نگینہ ہے یہ سبھی کو دیا نہیں جاتا ذکر سب کا ہے تیری محفل میں نام میرا لیا نہیں جاتا عشق ہو جاتا ہے قمرؔ ظاہر عشق ظاہر کیا نہیں جاتا

bin tire ab jiyaa nahin jaataa

غزل · Ghazal

بپا ہو جائے گا محشر جو غم خواروں کو نیند آئی قبیلے لٹ ہی جائیں گے جو سرداروں کو نیند آئی کئی راتوں کی بیداری صلیب و دار جیسی تھی بہت مشکل سے کل شب درد کے ماروں کو نیند آئی چمن میں غنچہ و گل پر ستم ہوتا رہا شب بھر حفاظت میں جو ان کی تھے انہیں خاروں کو نیند آئی جلا کر خاک کر ڈالا محبت کے گلستاں کو عداوت کے دہکتے تب ان انگاروں کو نیند آئی سرور و کیف کے قصے بیاں ہوتے رہے کل شب نہ سویا ساقئ محفل نہ مے خواروں کو نیند آئی جو حق کے ساتھ رہتے تھے جو حق کی بات کرتے تھے جلا کر بستیاں ان کی ستم گاروں کو نیند آئی عجب تھا اک تماشہ چار سو تھی نور کی بارش قمرؔ جب چاند سویا تب کہیں تاروں کو نیند آئی

bapaa ho jaaegaa mahshar jo gham-khvaaron ko niind aai

غزل · Ghazal

ہوش میں آ کر مجھے غفلت کا اندازہ ہوا مطلبی اس دور کی چاہت کا اندازہ ہوا مشکلوں کو روند کر جب میں بڑھا منزل کی سمت ہم سفر کو تب مری ہمت کا اندازہ ہوا جب امیر شہر نے مجھ کو بٹھایا اپنے پاس اہل محفل کو مری عزت کا اندازہ ہوا جو مرے دل میں بسا تھا جب ہوا میں اس سے دور پیار کے احساس اور الفت کا اندازہ ہوا بے خبر تھا اپنی حالت سے میں تیرے ہجر میں آئنے کو دیکھ کر حالت کا اندازہ ہوا وہ پری پیکر نظر کے سامنے تھا بے نقاب رات اپنے خواب کی قیمت کا اندازہ ہوا تشنہ لب لوٹا میں جب دریا پہ آ کر اے قمرؔ تب کسی کی پیاس کی شدت کا اندازہ ہوا

hosh mein aa kar mujhe ghaflat kaa andaaza huaa

غزل · Ghazal

حالت نہیں ہے ٹھیک ابھی گلستان کی آب و ہوا ہے بگڑی ہوئی اس جہان کی عزت جو اس کو دیتی تھی دیتی نہیں ہے اب تحقیر کر رہی ہے زمیں آسمان کی موسم بہت ہے سخت یہ اس کو خبر نہیں بیٹھا ہے فکر میں جو پرندہ اڑان کی ہر سو چمن میں ہوتا ہے پھولوں کا قتل عام اس پر نظر نہیں ہے مگر باغبان کی پھیلانا ہم کو ہاتھ نہیں ہے میاں پسند لیتے نہیں ہیں ہم تو کوئی چیز دان کی صحرا میں کون ذکر الٰہی میں محو ہے خوشبو یہاں ہے بکھری ہوئی زعفران کی ان سے زمیں کے بارے میں کیا پوچھتے ہو تم پوچھو قلندروں سے خبر آسمان کی آواز سن کے میری وہ رک جائے گا قمرؔ یہ بات ہو بھی سکتی ہے میرے گمان کی

haalat nahin hai Thiik abhi gulsitaan ki

Similar Poets