
Jawed Adil Sohavi
Jawed Adil Sohavi
Jawed Adil Sohavi
Ghazalغزل
سراب زعم میں تھا آسماں پکڑتے ہوئے زمیں پہ طفل گرا ہے دھواں پکڑتے ہوئے سروں پہ تان گئی دھوپ پھر سے تیز ہوا روا روی میں کئی سائباں پکڑتے ہوئے فراز عرش سے اک ٹوٹتے ستارے نے کیا غبار مجھے کہکشاں پکڑتے ہوئے ہدف شناس ہوا تو یہ واقعہ بھی ہوا وہ تیر توڑ رہا تھا کماں پکڑتے ہوئے کوئی تو رنگ ہے موج سراب میں بھی کہ میں یقین چھوڑ رہا ہوں گماں پکڑتے ہوئے بہ زعم ناز کوئے بے کسی میں آ پہنچا بصد نیاز در دوستاں پکڑتے ہوئے جنون شوق میں کانٹے بھی پھول لگنے لگے میں زخم زخم ہوا تتلیاں پکڑتے ہوئے اب اس مدد سے تو اچھا ہے ڈوب جاؤں میں وہ ڈر رہا ہے مری انگلیاں پکڑتے ہوئے گلاس توڑا گیا جس ادا سے اس دل کا مجھے غرور سا ہے کرچیاں پکڑتے ہوئے
saraab-e-zoam mein thaa aasmaan pakaDte hue
اس طرح حاجت اسیر نہ کھینچ بھیک دے کاسۂ فقیر نہ کھینچ رحم کر کچھ تو دست مجبوری جان لے لے مگر ضمیر نہ کھینچ یہ کہانی بڑی منافق ہے اس میں یوں ہی مرا شریر نہ کھینچ دائرے شوق سے بنا لیکن اب کوئی خون کی لکیر نہ کھینچ لفظ واپس بھی لوٹ سکتے ہیں اپنے لہجے میں کوئی تیر نہ کھینچ اپنا اسلوب بن سکے تو بنا شعر میں غالبؔ اور میرؔ نہ کھینچ آنے والے سراغ چاہتے ہیں اے ہوا نقش راہگیر نہ کھینچ یہ شرافت بھی ایک رسی ہے ٹوٹ جائے گی میرے ویر نہ کھینچ
is tarah haajat-e-asir na khinch
نگر یقین کا شہر گماں سے آگے ہے جہاں ہمارا تمہارے جہاں سے آگے ہے شکم میں بھوک پروں میں ہوائیں رکھ طائر بہت سا رزق ابھی آسماں سے آگے ہے میں بھول بیٹھا ہوں اپنی تلاش میں یہ بھی مرا وجود مرے دشت جاں سے آگے ہے تجھے تلاش خضر ہے تو آ یہاں سے گزر جہان خضر مرے خاکداں سے آگے ہے ہو جس کو دشت میں حاصل قرابت ضیغم وہی غزال ہجوم سگاں سے آگے ہے مجھے بھی لوٹا گیا ہے بڑے سلیقے سے مرا بھی ذکر تری داستاں سے آگے ہے زمین پہ ہوں مگر ہوں فلک نورد ایسا کہ جس کا پاؤں سر کہکشاں سے آگے ہے اسی لیے تو تعاقب میں ہے چراغ فلک کہ میرا سایہ مرے کارواں سے آگے ہے یہاں جو خود کو سمجھتا نہیں ہدف عادلؔ اسی کا تیر گرفت کماں سے آگے ہے
nagar yaqin kaa shahr-e-gumaan se aage hai
کماں میں کھینچ ہے پہلے سی اور نہ تیر میں رنگ لہو بہے گا تو آئے گا جوئے شیر میں رنگ جنون حسن پرستی بھی دے دیا یا رب کہ پہلے کم تو نہیں تھے مرے خمیر میں رنگ یہ کس کے در سے ملی ہے سکندری مجھ کو یہ کون ڈال گیا کاسۂ فقیر میں رنگ محل بناؤں گا قوس قزح کا تیرے لیے ٹھہر گئے جو کبھی ہاتھ کی لکیر میں رنگ تو خاک ہونے سے پہلے یہ اہتمام تو کر عمل بچھا دیں رہ منکر و نکیر میں رنگ جدائیوں کے پرندے انہیں اڑا لیں گے حنا سے باندھ تو لوں ہاتھ کی لکیر میں رنگ تمہارے حسن تعلق میں رنگ بھرتا ہوں بھرے ہیں شعر سے وارث نے جیسے ہیر میں رنگ
kamaan mein khinch hai pahle si aur na tiir mein rang
عدو تو چھوڑ دئے خیر خواہ مار دئے محافظوں نے کئی بے گناہ مار دئے بہت ستائے ہوئے لشکروں کی ہیبت نے درون قصر کئی بادشاہ مار دئے لہو تڑپنے لگا ہے کہ سرخ نوٹوں نے بھری کچہری میں سارے گواہ مار دئے اندھیرا جب بھی بڑھایا گیا زمانے میں چراغ حق نے سبھی رو سیاہ مار دئے جب آئی بات کبھی ہمسری سے مسند پر تو سربراہوں نے کچھ سربراہ مار دئے نہیں ہے وقت سا عادلؔ کوئی یہاں جس نے کلاہیں رول دیں اور کج کلاہ مار دئے
adu to chhoD diye khair-khvaah maar diye
ضیائے رنگ بھی کچھ تو دوستی کرو یار بہت اندھیرا ہے کمرے میں روشنی کرو یار یہاں فراغتیں بار گراں ہیں رشتوں پر قرابتوں کا تقاضا ہے نوکری کرو یار بھرم نگاہ میں رکھو وقار قامت کا بڑا ہے ظرف تو پھر بات بھی بڑی کرو یار چہکتی شب میں خموشی اداس جنگل ہے لبوں کے پھول مہکنے دو بات بھی کرو یار جہاں بلائے فنا گھات میں کھڑی ہے وہاں یہ چار سانسیں غنیمت ہیں زندگی ہیں کرو یار پیام لکھو محبت سے اور بھیجو اسے بڑا حسین ہے یہ کام اسے ابھی کرو یار طلسم فکر سے آگے ہیں عشرتیں عادلؔ یہ قید خانہ گرا ڈالو زندگی کرو یار
ziyaa-e-rang bhi kuchh to dosti karo yaar





