SHAWORDS
Jumbish Khairabadi

Jumbish Khairabadi

Jumbish Khairabadi

Jumbish Khairabadi

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

khaamushi hi khaamushi mein daastaan bantaa gayaa

خامشی ہی خامشی میں داستاں بنتا گیا میرا ہر آنسو مرے غم کی زباں بنتا گیا آپ کا غم جب شریک قلب و جاں بنتا گیا اشک کا ہر قطرہ بحر بیکراں بنتا گیا ظلم ٹوٹا ہی کیے قائم رہی شان عمل بجلیاں گرتی رہیں اور آشیاں بنتا گیا دھیرے دھیرے یاد ان کی دل میں گھر کرتی رہی رفتہ رفتہ عشق ان کا جزو جاں بنتا گیا میری ہستی بھی ترے جلووں میں گم ہوتی گئی تیرا جلوہ بھی فروغ لا مکاں بنتا گیا رنگ لایا اس قدر ذوق جبین بندگی ہر نشان سجدہ تیرا آستاں بنتا گیا جب تک اے جنبشؔ رہے وہ مائل لطف و کرم ہر نفس اک زندگئ جاوداں بنتا گیا

غزل · Ghazal

sahraa mein jo divaane se baad-e-sabaa uljhi

صحرا میں جو دیوانے سے باد صبا الجھی ہر موج گل تر سے وہ زلف دوتا الجھی الزام نہیں تجھ پر اے بادیہ پیمائی دیوانے کی قسمت سے صحرا کی ہوا الجھی پابند‌ نزاکت تھی نیرنگئ گل چینی سرخئ‌ گل تر سے ہاتھوں کی حنا الجھی یا حسن کشش میں جاں اور آپ نے ڈالی ہے یا شوخئ فطرت ہے در پردہ حیا الجھی خاموش تجلی کی فطرت میں سمجھتا ہوں کیوں خرمن دل سے ہی اے برق ادا الجھی دل میں تری یادوں نے وہ بجلیاں چمکائیں آنکھوں سے مری آ کر ساون کی گھٹا الجھی ضامن مری الجھن کے الجھے ہوئے گیسو ہیں بے وجہ مری جنبشؔ کب طبع رسا الجھی

غزل · Ghazal

sambhal kar aah bharnaa ai asir-e-daam-e-tanhaai

سنبھل کر آہ بھرنا اے اسیر دام تنہائی کہیں ہاتھوں سے چھٹ جائے نہ دامان شکیبائی عجب انداز رکھتی ہے ادائے‌ دشت پیمائی کہ خود ہی خار بڑھ کر چومتے ہیں پائے‌ سودائی جو رنگ حسن خاموشی ہے وہ کھوتی ہے گویائی ہوا جب لب کشا غنچہ تو باہر بو نکل آئی ابھی تو بس تصور ہے تمہارے آستانے کا ابھی دیکھا کہاں تم نے مرا ذوق جبیں سائی کچھ اس انداز سے چھیڑا نگاہ ناز جاناں نے کہ رہ رہ کر ہمارے دل کے زخموں کو ہنسی آئی رہے انکار میں اقرار کا اعجاز بھی پنہاں کرو خون وفا لیکن بہ انداز مسیحائی عرق آگیں جبیں انسانیت کی ہو گئی جنبشؔ کہ دور آیا ہے وہ شرم و حیا کی آنکھ بھر آئی

غزل · Ghazal

soe hue zehnon mein naadida saveraa hai

سوئے ہوئے ذہنوں میں نادیدہ سویرا ہے سورج کے بھی اگنے پر ہر سمت اندھیرا ہے افسردہ دلوں میں بھی ارمانوں کا ڈیرا ہے سوکھی ہوئی شاخوں پر چڑیوں کا بسیرا ہے میں صاف طبیعت ہوں کچھ دل میں نہیں رکھتا کیا سوچ کے منہ تم نے آئینے سے پھیرا ہے جائیں تو کدھر جائیں بہکے ہوئے منزل سے دھوپیں بھی گھنیری ہیں سایہ بھی گھنیرا ہے جنبشؔ کوئی آ جائے اس وقت خیالوں میں تنہائی کا عالم ہے احساس نے گھیرا ہے

غزل · Ghazal

ki ehtiyaat dil ne bahut par kahaa gayaa

کی احتیاط دل نے بہت پر کہا گیا چھوڑی جو ان کی راہ تو در در کہا گیا ساقی نے میرے نام پہ ساغر پٹک دیا تشنہ لبی کو میرا مقدر کہا گیا ہر چشم التفات کے حسن نگاہ کو آئینۂ خلوص کا جوہر کہا گیا احساس حسن ظرف سے ملتی ہے آبرو پانی کی ایک بوند کو گوہر کہا گیا اے صبح کی کرن یہ خیالات زندگی وہ بات کون تھی جسے گھر گھر کہا گیا پروازیوں کی شرح نظر تک نہ کر سکی لیکن خیال طائر بے پر کہا گیا نیرنگیوں کی بات ہے اے عارض جمال شعلہ دہک اٹھا تو گل تر کہا گیا جنبشؔ سکوں‌ نواز مزاجی کو چھوڑیئے خاموشئ حیات کو اکثر کہا گیا

غزل · Ghazal

jhuum ke saaghar kaun uThaae kis ko paDi maikhaane ki

جھوم کے ساغر کون اٹھائے کس کو پڑی میخانے کی ساقی کو بھی ہوش نہیں ہے قسمت ہے پیمانے کی گلشن گلشن یوں پھرتی ہے چاک گریباں پھول کی خوشبو جیسے صبا نے پھیلا دی ہو بات کسی دیوانے کی دیوانے پن کی گھاٹی میں عقل کا سورج ڈوب چلا شہر تخیل پر چھائی ہے شام کسی ویرانے کی سارے سہارے چھوٹ چلے ہیں صبح کا تارا ڈوب چلا پھر بھی تمنا سوچ رہی ہے بات کسی کے آنے کی زندہ رہ کر ہی پہنچے گا پیار کا نغمہ گلیوں گلیوں بات ادھوری رہ جاتی ہے جل بھن کر پروانے کی بے دردوں کے دور میں جنبشؔ خون تمنا ہونے دو کوئی نہ کوئی آنسو سرخی دے دے گا افسانے کی

Similar Poets