SHAWORDS
Junaid Aabir

Junaid Aabir

Junaid Aabir

Junaid Aabir

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

وہ زخم دے کے مجھے قہقہے لگاتا ہے مجھے تو اپنی محبت پہ رونا آتا ہے گلا دبا کے وہ اپنے قریبی لوگوں کا عجیب شخص ہے دشمن پہ رحم کھاتا ہے اک ایسے شخص پہ قربان ہو رہا ہوں میں جو سن کے عرض مری مجھ پہ مسکراتا ہے میں سچ کہوں تو تمہیں چھوڑنا نہیں مشکل تری تباہی کا سوچوں تو رحم آتا ہے یہ بات طے ہے کہ مر جائے گا ترا عابرؔ تو جتنی بے رخی سے یار دل جلاتا ہے

vo zakhm de ke mujhe qahqahe lagaataa hai

2 views

غزل · Ghazal

اس نے بولا مرا گزارہ نئیں میں نے جانے دیا پکارا نئیں اس نے اس طرح سے کیا برباد میں نے خود کو کبھی سنوارا نئیں پھر تو کچھ بھی نہیں ہمارا یار وہ بھی سچ میں اگر ہمارا نئیں ایسے جھٹکا ہے اس نے ہاتھ مرا جیسے ملنا کبھی دوبارہ نئیں اس سے دوری بڑھا رہا ہوں مگر اس کو دل سے ابھی اتارا نئیں میں تو حاضر تھا جان دینے کو لیکن اس نے مجھے پکارا نئیں گرنا بنتا ہے اب جنیدؔ مرا اب کسی کا مجھے سہارا نئیں

us ne bolaa miraa guzaara naiin

2 views

غزل · Ghazal

وصال چھوڑ ہمیں دید بھی نہیں ہوتی کہ لین دین میں اتنی کمی نہیں ہوتی پلٹ کے آئے ہو تم میرے زخم بھرنے کو حضور والا مجھے اب خوشی نہیں ہوتی تمہارا ہجر کوئی عام مسئلہ نہیں ہے میں رو پڑوں گا کہ اب خامشی نہیں ہوتی ہمی نکھارتے ہیں تجھ کو اے بکھرتے شخص ہمی نہ ہوتے تر و تازگی نہیں ہوتی میں چل دیا تو پلٹ کر کبھی نہیں آنا یہ سوچ کر تجھے افسردگی نہیں ہوتی

visaal chhoD hamein diid bhi nahin hoti

2 views

غزل · Ghazal

وہ حسیں ہونٹ ہمیں کم ہی میسر آئے چند لوگوں پہ کرم اس کے بڑے ہوتے ہیں الجھنیں اتنی ہیں درپیش ہمیں مت پوچھو جیسے کپڑوں میں کئی دھاگے اڑے ہوتے ہیں خستہ حالوں کے مسائل تو کئی ہیں لیکن ہم غریبوں کے بڑے بخت سڑے ہوتے ہیں اس طرف بھی تو کبھی دیکھ لیا کر پیارے تیرے گرویدہ تری رہ میں پڑے ہوتے ہیں رخ زیبا کا وہ صدقہ جو کبھی دے عابرؔ ہاتھ میں کاسہ لیے ہم بھی کھڑے ہوتے ہیں

vo hasin honT hamein kam hi mayassar aae

2 views

غزل · Ghazal

تسلسل سے کبھی آتا نہیں ہے ادھورا غم مجھے بھاتا نہیں ہے مرے مولا جہان بے بسی میں کوئی بھی رحم اب کھاتا نہیں ہے گزشتہ روز میں نے رو کے پوچھا خوشی مجھ سے ترا ناطہ نہیں ہے ترے چہرے کو دیکھا بعد اس کے کوئی چہرہ مجھے بھاتا نہیں ہے کئی حربے کیے ہیں میں نے عابرؔ مگر وہ ذہن سے جاتا نہیں ہے

tasalsul se kabhi aataa nahin hai

2 views

غزل · Ghazal

بے انتہا جلے ہیں تجھے ڈھونڈتے ہوئے رنج و الم بڑھے ہیں تجھے ڈھونڈتے ہوئے کچھ بھی تو تیری یاد میں اچھا نہیں رہا ہم در بہ در پھرے ہیں تجھے ڈھونڈتے ہوئے چشم تلاش سے بھی تو آگے نکل گیا ہم تو وہیں کھڑے ہیں تجھے ڈھونڈتے ہوئے مخصوص اک مدار میں رہتے تھے سادہ دل باہر نکل پڑے ہیں تجھے ڈھونڈتے ہوئے ہم کو تری تلاش بڑی سخت جان ہے دن رات رو رہے ہیں تجھے ڈھونڈتے ہوئے وہ راستہ کہ جس کی نہ منزل کا کچھ پتا اس پر بھی ہم چلے ہیں تجھے ڈھونڈتے ہوئے کل شب ترے وصال کی امید بھی گئی پھر اشک خوں بہے ہیں تجھے ڈھونڈتے ہوئے عابرؔ یقین قلب سے اک بارگاہ میں ہم بارہا جھکے ہیں تجھے ڈھونڈتے ہوئے

be-intihaa jale hain tujhe DhunDte hue

1 views

Similar Poets