SHAWORDS
J

Junaid Sikandar

Junaid Sikandar

Junaid Sikandar

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

وہ ذرے کہ شمس و قمر ہو گئے وہ انجم غبار گزر ہو گئے کچھ آساں تھے رستے نہ ہم چل سکے جو مشکل ہدف تھے وہ سر ہو گئے ہر اک بات دل کی کہیں برملا صنم بھی تو کیسے نڈر ہو گئے لٹا کر دل و جاں رہ عشق میں ہوئے کامراں معتبر ہو گئے تمہاری گلی میں وہ حالت ہوئی کہ بے کار سارے ہنر ہو گئے لگے منزلوں سے بھلے راستے ہمارے وہ جب ہم سفر ہو گئے خدائے احد کو بھلا کر جنیدؔ جہاں میں خدا کس قدر ہو گئے

vo zarre ki shams-o-qamar ho gae

غزل · Ghazal

جب جب کوئی سر جاتا ہے سچ کو زندہ کر جاتا ہے دھڑکن ہی تو تھم جاتی ہے کون بچھڑ کر مر جاتا ہے غیروں جیسا تیرا لہجہ دل کو گھائل کر جاتا ہے روز اک سپنا میں بنتا ہوں روز اک سپنا مر جاتا ہے سپنا تو پھر سپنا ٹھہرا آخر تنہا کر جاتا ہے جیون ایسا پنچھی ہے جو اڑتے اڑتے مر جاتا ہے جانے والا یار سکندرؔ جینا مشکل کر جاتا ہے

jab jab koi sar jaataa hai

غزل · Ghazal

میں اس کے نازک دھیان میں ہوں یا اس کے وہم و گمان میں ہوں چرا نہ مجھ سے نظر اے جاناں کہ میں بھی اس داستان میں ہوں مرا ہدف ہے نظر میں میری مگر ابھی میں کمان میں ہوں اثر ہے ماں کی دعا میں ایسا خدا کے حفظ‌ و امان میں ہوں کسی کی بانہوں میں ہوش کب ہے زمیں پہ یا آسمان میں ہوں حجاز میں ہوں کہ اے سکندرؔ میں رفعتوں کے جہان میں ہوں

main us ke naazuk dhiyaan mein huun

غزل · Ghazal

میں آئینہ وفا کا ہوں مجھے دل میں سجا رکھنا یہ سوغات محبت ہے زمانے سے چھپا رکھنا بہاریں پھر سے آئیں گی خزائیں مات کھائیں گی ذرا دل کو جواں رکھنا ذرا سا حوصلہ رکھنا یقیناً منزلیں چھو کر مسافر لوٹ آئیں گے دیے رکھنا منڈیروں پر یہ دروازہ کھلا رکھنا سجا رکھا ہے آنکھوں نے حسیں منظر نگاہوں میں ذرا شرما کے دانتوں میں ترا آنچل دبا رکھنا خفا ہونا بھی الفت ہے منا لینا محبت ہے گلہ دل میں اگر ہو بھی لبوں پر تم دعا رکھنا مرا جیون مری جاں بھی مری دھڑکن مرا دل بھی تمہارے تھے تمہارے ہیں تمہی جاناں سدا رکھنا کہیں زلفوں کے سائے ہیں کہیں جادو نگاہوں کا بڑا مشکل ہے اس دل کو سکندرؔ جی بچا رکھنا

main aaina vafaa kaa huun mujhe dil mein sajaa rakhnaa

غزل · Ghazal

گل و گلزار کی مانند سبزہ زار کی مانند یہاں جیون کسی کو ہے رہ پر خار کی مانند کبھی سوچوں کی دوری پر کبھی دل کی لگے دھڑکن کبھی اپنوں سے بڑھ کر وہ کبھی اغیار کی مانند ابھی گرمی ابھی سردی ابھی رم جھم ابھی طوفاں یہاں موسم بدلتا ہے مزاج یار کی مانند ادھر کلیاں ادھر خوشبو ادھر بلبل ادھر کوکو چمن سارا مہکتا ہے خیال یار کی مانند کبھی ہاں تو کبھی ناں ہے کبھی شعلہ کبھی شبنم کبھی صحرا مزاج اس کا کبھی گلزار کی مانند مری بستی پہ سورج ہے سوا نیزے کی دوری پر کہ سایہ بھی سلگتا ہے یہاں دیوار کی مانند یہ کشت و خون کی ہولی سبھی کے روبرو ہے اب ہوئے ہیں لوگ بھی بے حس یہاں سرکار کی مانند

gul-o-gulzaar ki maanind sabza-zaar ki maanind

غزل · Ghazal

کبھی خود کو سنوارا ہی نہیں ہے مرے دل کو گوارا ہی نہیں ہے تری مورت کو اے جاناں قسم سے کبھی دل سے اتارا ہی نہیں ہے اسی لمحے کا ہے باقی نشہ جو کبھی ہم نے گزارا ہی نہیں ہے جنوں ایسا ہے دریا اس جہاں میں کوئی جس کا کنارا ہی نہیں ہے دل بسمل غم و حسرت کہاں تک کہا تھا وہ ہمارا ہی نہیں ہے جدائی کے سبب ہوں گے یقیناً قصور اس میں تمہارا ہی نہیں ہے پلٹ آتا تمہارا یہ سکندرؔ مگر تم نے پکارا ہی نہیں ہے

kabhi khud ko sanvaaraa hi nahin hai

Similar Poets