Jurm Mohammadabadi
Jurm Mohammadabadi
Jurm Mohammadabadi
Ghazalغزل
saaqi ye tere bas mein hai de jaam yaa na de
ساقی یہ تیرے بس میں ہے دے جام یا نہ دے جھوٹا مگر کسی کو کبھی آسرا نہ دے سوز فراق کشمکش مدعا نہ دے دشمن کو بھی کسی کی محبت خدا نہ دے شاید کہ سو گیا ہے جنوں پھر جگا نہ دے زنجیر پا کو خواب رہائی ہلا نہ دے کرنا پڑے ضمیر کے برعکس بندگی مجبوریوں کسی کو ضرورت بنا نہ دے کیا کیا دکھا رہا ہے محبت کے سبز باغ مٹی میں دل کو جوش جوانی ملا نہ دے گم ہو کے میں نے سیکھ لیا خوب یہ اصول جس کو خبر ملے وہ تمہارا پتا نہ دے اے جرمؔ درد و عشق کا ملنا نہیں ہے کھیل جب تک کسی بشر کو یہ نعمت خدا نہ دے
naam rakkhaa hai fusun-gar ne sukhan-saaz miraa
نام رکھا ہے فسوں گر نے سخن ساز مرا گھونٹے دیتی ہے گلا اب مری آواز مرا رہ گیا راز کسی طرح اگر راز مرا بے نیازی بھی اٹھائے گی تری ناز مرا آج ہے موت بھی وہ عشق جو کل تک تھا حیات مختلف کتنا ہے انجام سے آغاز مرا بے پیے مست ہوا پی کے میں بہکا نہ کبھی وہ تھی ساقی کی کرامت پہ ہے اعجاز مرا ناوک ناز سے اڑتے ہیں نشانے دل کے اور پردے میں ابھی ہے قدر انداز مرا دھڑکنیں اب بھی ہیں ویسی ہی شکستہ دل کی بے صدا ہو نہ سکا ٹوٹ کے بھی ساز مرا عذر بے بال و پری تھا جو قفس توڑ چکا دیکھ کے رہ گئی منہ حسرت پرواز مرا روز اک تازہ بلا آتی ہے دل کے ہاتھوں جرمؔ آمادہ ہے دم لینے پہ دم ساز مرا
fareb-e-ulfat ki daastaan mein asar ki ummid hi kahaan hai
فریب الفت کی داستاں میں اثر کی امید ہی کہاں ہے ابھی تو مجھ کو اسی میں شک ہے یقیں یقیں ہے گماں گماں ہے مجھی تک ان کی جفا نہ سمجھو یہ امتحاں ہے وہ امتحاں ہے وہیں قیامت کا سامنا ہے وفا کی منزل جہاں جہاں ہے نصاب الفت سے بے خبر ہے سند نہیں بوالہوس کا دعویٰ جو لفظ میری زباں سے نکلے وہی محبت کی داستاں ہے کہاں پہنچنے کی آرزو ہے تمہارے نقش قدم پہ چل کر تم اپنے دل سے پتا لگاؤ مری تمنا کی حد کہاں ہے فریب بن کر نشاط دل کا رہے گا کب تک یہ عیش رفتہ بدل چکا کروٹیں زمانہ مری نظر میں وہی سماں ہے ادھر امنگوں کی لہر دل میں ادھر جوانی کی خود نمائی پڑے ہیں اک کشمکش میں دونوں مذاق فطرت کا امتحاں ہے تمہاری غفلت شعاریوں نے وہ گل کھلائے کہ رنگ بدلا قفس کی بنیاد رکھنے والے خزاں کے قبضے میں آشیاں ہے پلٹ گیا جرمؔ رخ ہوا کا ہیں ایسے آثار اب ہویدا بہار آئے نہ بعد جس کے چمن میں وہ محشر خزاں ہے
vahi josh-e-haq-shanaasi vahi azm-burd-baari
وہی جوش حق شناسی وہی عزم برد باری نہ بدل سکا زمانہ مری خوئے وضع داری وہی مے کدہ ہے لیکن نہیں اب وہ کیف باری گئے ہم مذاق لے کے مرا لطف بادہ خواری ہو زبان جس کے منہ میں وہ نہ آئے انجمن میں کہیں رکھ نہ دے ستم گر یہی شرط راز داری کبھی ہنستے ہنستے رونا کبھی روتے روتے ہنسنا کوئی کیا سمجھ سکے گا بھلا مصلحت ہماری میں زمانے بھر کے طعنے نہ خموش ہو کے سنتا جو جنون عشق ہوتا مرا فعل اختیاری مئے عاشقی سے توبہ ہے جنون پارسائی کہیں لے نہ ڈوبے واعظ تجھے زعم ہوشیاری نہ پہنچ سکا جہاں تک کبھی پائے کبر و دانش وہیں جرمؔ لے گئی ہے مجھے میری خاکساری
husn-e-tadbir kaa moajiza dekhiye
حسن تدبیر کا معجزہ دیکھیے کام ہمت سے لے کر ذرا دیکھیے آپ اور ہم سے اظہار لطف و کرم آئنہ دیکھیے آئنا دیکھیے آشیانے کی بنیاد رکھے گا پھر پہلے باغ جہاں کی ہوا دیکھیے آگ سے کھیلنے کو پتنگا بڑھا حیثیت دیکھیے حوصلا دیکھیے جب کہا ہے تو جلوہ دکھائیں گے وہ سانس جب تک چلے راستہ دیکھیے کچھ ادھر بھی ہیں امیدوار کرم مہرباں اس طرف بھی ذرا دیکھیے جرم ذکر وفا پر وہ کہنے لگا جا کے انجام اہل وفا دیکھیے
mohabbat kashmakash mein rah gai sirr-e-nihaan ban kar
محبت کشمکش میں رہ گئی سر نہاں بن کر مرے دل کا یقیں ہو کر ترے دل کا گماں بن کر کرے شکر محبت میرا ہر رویاں زباں بن کر اگر تم بیچ میں آ جاؤ شرط امتحاں بن کر یہ کس کی راہ پر سر دے رہے ہیں محسن الفت اجل خدمت کو آئی ہے حیات جاوداں بن کر جھٹکتا جائے گا ان کو زمانہ اپنے دامن سے جو کچھ بھی رہ گئے پیچھے غبار کارواں بن کر زمانے کی ہوا کا رخ بدل جانا مقدر ہے یہی تنکے قفس ہوں گے بساط آشیاں بن کر نہ ہو جب ٹھوکریں کھانے پہ بھی احساس بیداری نہ ٹوٹیں دل پہ کیوں ناکامیاں برق تپاں بن کر نہیں جب نقش اول کی طرح رنگ بقا تجھ میں ضرورت کیا ہے رہنے کی نشانہ لے نشاں بن کر فضا پر کیف بن کر چھا گئی غنچوں کی رعنائی چمن میں کون آتا ہے بہار بے خزاں بن کر زمیں کی طرح جب حاصل ہے قدرت بردباری کی رہوں اے جرمؔ کیوں گردش میں ناحق آسماں بن کر





