na jaane kaun si manzil ko chal diye patte
bhaTak rahi hain havaaein musaafiron ki tarah
Kaif Ansari
Kaif Ansari
Kaif Ansari
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
اگرچہ حادثے گزرے ہیں پانیوں کی طرح خموش رہ گئے ہم لوگ ساحلوں کی طرح کسی کے سامنے میں کس لیے زباں کھولوں ملی ہے اپنی انا مجھ کو دشمنوں کی طرح ترے بغیر نظر آئے ہیں مجھے اکثر مکان کے در و دیوار قاتلوں کی طرح نہ جانے کون سی منزل کو چل دیے پتے بھٹک رہی ہیں ہوائیں مسافروں کی طرح ہمیں نے کھول کے لب روح پھونک دی ورنہ تمام حرف تھے بے جان پتھروں کی طرح میں رو رہا تھا شب غم کی ظلمتوں سے بہت خدا کا شکر جلے زخم مشعلوں کی طرح یہی تو کیفؔ حسد ہے کہ دل بھی یاروں کے سیاہ ہو گئے لکھے ہوئے خطوں کی طرح
agarche haadse guzre hain paaniyon ki tarah
جب بھی ڈوبے ہوئے سورج نے ابھرنا چاہا شہر والوں نے بھی گلیوں میں بکھرنا چاہا آج کانٹوں سے الجھتا ہے گریباں اس کا جس نے سبزے پہ کبھی پاؤں نہ دھرنا چاہا ہو گئیں صورت دیوار ہوائیں حائل جب کسی اشک نے دامن پہ اترنا چاہا چاندنی شب تھی کہ میں تھا کہ ہوا کے سائے ہر کسی نے ترے کوچے میں ٹھہرنا چاہا لے گیا کیفؔ صلیبوں کو اٹھا کر کوئی غم کے ماروں نے کسی وقت جو مرنا چاہا
jab bhi Duube hue suraj ne ubharnaa chaahaa
چاند ابھرا نہ مرے جسم سے سایا نکلا شام غم آئی تو میں گھر سے اکیلا نکلا آج آیا ہے دریچے پہ ہوا کا جھونکا آج کوئی تو مجھے دیکھنے والا نکلا یہ الگ بات کہ کھلنے لگے پلکوں کے ورق نوک لب سے نہ کبھی حرف تمنا نکلا ہو گئے اور در و بام نظر سے اوجھل در حقیقت یہ اجالا بھی اندھیرا نکلا کوئی آواز تو آ جاتی کہیں سے واپس یہ کنواں گھر کا تو اتنا بھی نہ گہرا نکلا لوٹ جا اب مری آنکھوں میں نہیں ہیں آنسو تو سمندر جسے سمجھا تھا وہ صحرا نکلا
chaand ubhraa na mire jism se saayaa niklaa
تیرے حسین جسم کی پھولوں میں باس ہے گو وہم ہے یہ وہم قرین قیاس ہے وہ اشک جس پہ چاندنی شب کا لباس ہے شاید کتاب غم کا کوئی اقتباس ہے میری طرح ہر اک کو ہے چاہت اسی کی پھر گزرے دنوں کے زہر میں کتنی مٹھاس ہے برسوں گزر گئے مگر اب تک نہیں بجھی کتنی عجیب ریت کے ساحل کی پیاس ہے میری صدا کھچ اس طرح آئی ہے لوٹ کر محسوس ہو رہا ہے کوئی آس پاس ہے بوندیں پڑیں تو اور زیادہ ہوئی تپش شاید اسی کا نام زمیں کی بھڑاس ہے اپنے گھروں میں خوش ہیں چراغوں کو لے کے لوگ کس کو خبر کہ رات کا چہرہ اداس ہے دھندلا سا زرد ماضی کا ہو جس طرح ورق کتنا حسین آپ کا رنگ لباس ہے کس وقت کیفؔ ٹوٹ کے گر جائے کیا خبر پلکوں پہ ایک حلقۂ زنجیر یاس ہے
tere hasin jism ki phulon mein boss hai





