SHAWORDS
Kailash Guru Swami

Kailash Guru Swami

Kailash Guru Swami

Kailash Guru Swami

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

Thikaanaa ho na ho phir bhi Thikaanaa DhunD lete hain

ٹھکانا ہو نہ ہو پھر بھی ٹھکانا ڈھونڈ لیتے ہیں قفس میں رہ کے بھی ہم آشیانہ ڈھونڈ لیتے ہیں کتاب دل میں وہ غم کو چھپا لیں گے تو کیا ہوگا مگر ہم درد و غم کا ہر خزانہ ڈھونڈ لیتے ہیں کبھی ان کو سہارے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی پرندے خود بہ خود اپنا ٹھکانا ڈھونڈ لیتے ہیں زمانے کی نظر میں قطرۂ شبنم سہی لیکن کچھ ایسے ہیں جو اشکوں میں فسانہ ڈھونڈ لیتے ہیں غذا ہنسوں کو موتی کی کوئی لا کر نہیں دیتا وہ خود سیپوں کے اندر اپنا دانہ ڈھونڈ لیتے ہیں مری تنہائیوں کا ذکر جب ان تک نہیں پہنچا تو کس کی رہبری سے وہ ٹھکانا ڈھونڈ لیتے ہیں جب ان کا نام اپنی روح میں گدوا لیا سوامیؔ تو پھر کیوں ترک الفت کا بہانہ ڈھونڈ لیتے ہیں

غزل · Ghazal

gham zamaane se chhupaanaa hi paDaa

غم زمانے سے چھپانا ہی پڑا روتے روتے مسکرانا ہی پڑا دل کو دل سے بھی بچانا ہی پڑا یہ بھی غم مجھ کو اٹھانا ہی پڑا سازشی ترچھی نظر تھی کیا کہیں چوٹ کھا کر مسکرانا ہی پڑا پی سبھی نے میں ہی تشنہ تھا مگر ساتھ ان کے لڑکھڑانا ہی پڑا ان کی رسوائی نے جب گھیرا مجھے مجھ کو ان سے دور جانا ہی پڑا زندگی کو اور کب تک جھیلتا موت سے پنجا لڑانا ہی پڑا آنسوؤں نے اس طرح ترتیب دی غم کا ہر قصہ سنانا ہی پڑا انتہائے عشق میں کھائے فریب چاہ کر بھی بھول جانا ہی پڑا تیرگی تھی اور ان کی یاد تھی دل کو ایسے میں جلانا ہی پڑا حال دل ان سے چھپاتے کب تلک راز الفت کا بتانا ہی پڑا سوامیؔ ان کی ضد کے آگے جھک گئے بجلیوں پر گھر بنانا ہی پڑا

غزل · Ghazal

aag siine mein mohabbat ki lagaate kyon hain

آگ سینے میں محبت کی لگاتے کیوں ہیں جب انہیں چھوڑ کے جانا ہے تو آتے کیوں ہیں ہم جب انسان کی تعریف میں آتے ہی نہیں پھر ہمیں لوگ کلیجے سے لگاتے کیوں ہیں دور کعبہ تو ہے بندوں کی عبادت کے لئے پھر یہ تعمیر شدہ گھر کو گراتے کیوں ہیں کانچ کا گھر نہ شجر ہے کوئی آنگن میں مرے دوستو سنگ مرے گھر میں پھر آتے کیوں ہیں جب انہیں مجھ سے محبت ہی نہیں ہے سوامیؔ پھر مرا نام وہ لکھ لکھ کے مٹاتے کیوں ہیں

غزل · Ghazal

dil par jo tiri yaad kaa pahraa nahin hotaa

دل پر جو تری یاد کا پہرا نہیں ہوتا ساگر کی طرح زخم بھی گہرا نہیں ہوتا خوابوں کا بہت دیکھنا اچھا نہیں ہوتا ہر خواب یقیناً کبھی سچا نہیں ہوتا مرضی ہے مری جس کو بھی چاہوں اسے دیکھوں آنکھوں پہ کسی ذات کا پہرا نہیں ہوتا للہ طبیبوں کو دکھاتے ہو مجھے کیوں اس ٹوٹے ہوئے دل کا مداوا نہیں ہوتا نکلا ہے کہاں ریت میں تو پیاس بجھانے صحرا میں جو دکھتا ہے وہ دریا نہیں ہوتا ہونٹوں کو نجومی کے جو سینا ہے تو سی دو تقدیر کا لکھا کبھی جھوٹا نہیں ہوتا کوئی نہ اگر چھینتا بچے کا نوالا وہ پیٹ پکڑ کر کبھی سویا نہیں ہوتا سوامیؔ ذرا سورج کو سمندر سے نکالو تھک ہار کے یوں ڈوبنا اچھا نہیں ہوتا

غزل · Ghazal

vo nahin hai to kyaa jiyaa jaae

وہ نہیں ہے تو کیا جیا جائے زندگی تیرا کیا کیا جائے کون سنتا ہے آپ کی ناصح ہونٹ اچھا ہے سی لیا جائے اس سے پہلے کوئی دعا مانگیں چاک دامن کو سی لیا جائے تشنگی کیا بجھائے گی یہ مے اشک غم کو ہی پی لیا جائے

غزل · Ghazal

kyaa ghaTaa aasmaan pe chhaai hai

کیا گھٹا آسماں پہ چھائی ہے جیسے بھر کر شراب لائی ہے موت سے کر کے دل لگی ہم نے زندگی سے نجات پائی ہے تھامے رکھا تری نگاہوں نے ناؤ جب میری ڈگمگائی ہے رشک کرنے لگی ہے باد صبا جب خزاں پر بہار آئی ہے مے سے توبہ تو کر چکے تھے حضور تشنگی آپ نے بڑھائی ہے ایک بچے کی مسکراہٹ میں کیا مقدس کتاب پائی ہے خط وہ سوامیؔ پڑھے نہیں جاتے بوند آنسو کی جن میں پائی ہے

Similar Poets