Kaleem Saronji
Kaleem Saronji
Kaleem Saronji
Ghazalغزل
koi sukun ki raah nahin hai
کوئی سکوں کی راہ نہیں ہے لیکن لب پر آہ نہیں ہے دار و رسن کا ذکر نہ چھیڑو غم سے دل آگاہ نہیں ہے وقت بڑا جلاد ہے لوگو پھر بھی یہ جاں کاہ نہیں ہے فکر نہیں جو راہ میں اپنا کوئی اگر ہم راہ نہیں ہے ذرہ ذرہ مظہر ان کا طور ہی جلوہ گاہ نہیں ہے عزم مصمم ہے تو کلیمؔ اب دور تجلی گاہ نہیں ہے
kaash mahfil mein aaj tu bhi ho
کاش محفل میں آج تو بھی ہو اور کچھ میری گفتگو بھی ہو ڈھونڈنے میں کچھ اور لطف آئے دل میں گر ذوق جستجو بھی ہو کچھ تمہارا نشاں نہیں ملتا اور دنیا میں چار سو بھی ہو خاک پیدا ہو لطف خود بینی کوئی آئینہ روبرو بھی ہو ہوش اڑتے ہیں کس کے دیکھیں گے گفتگو ان سے دو بدو بھی ہو طور پر آئیں وہ کلیمؔ مگر ان کے جلوؤں کی آرزو بھی ہو
jo raah-rau mein abhi azm-e-rah-ravi kam hai
جو راہ رو میں ابھی عزم رہروی کم ہے بہ قید ہوش و خرد آج آگہی کم ہے فضائے دہر پہ چھانے لگی ہے تاریکی کئی چراغ جلاؤ کہ روشنی کم ہے ہیں یوں تو آج بھی پابند مہر و ماہ مگر ہنوز ذہن میں انساں کے روشنی کم ہے ہزار کوشش پیہم کے بعد بھی لوگو مرے ذہن میں ابھی ربط باہمی کم ہے سمٹ کے مرکز اصلی پہ آ چکی دنیا مگر دلوں میں کچھ احساس زندگی کم ہے کلیمؔ عظمت عہد وفا سے واقف ہے مگر شعور وفا آپ کو ابھی کم ہے
zindagi vaqf-e-gham-o-hasrat-o-aalaam sahi
زندگی وقف غم و حسرت و آلام سہی آپ دے دیں تو یہی عشق کا انعام سہی نہ سہی ان کی محبت کا اثر اے ہمدم دل کو احساس غم گردش ایام سہی بے نیاز خم و پیمانہ رہے ہم لیکن آج ساقی کی عنایت ہے تو اک جام سہی اس نے دیکھا تو سہی دل کو بہ احساس وفا پھر بھی افسانہ مرا تشنۂ انجام سہی رہرو شوق یہ واماندگی شوق ہے کیا دور منزل ہے اگر اور بھی دو گام سہی آ بھی جائیں کہ نکل جائے مری حسرت دید ان کا آنا ہے اگر موت کا پیغام سہی
har saaat-e-bahaar-o-masarrat guzar gai
ہر ساعت بہار و مسرت گزر گئی دل کیا گیا کہ لذت درد جگر گئی دل بجھ گیا وفا پہ قیامت گزر گئی اچھا ہوا کہ گردش شام و سحر گئی دل کو خیال گردش دوراں نہیں رہا ان کی نگاہ ناز پہ احسان کر گئی مانا کہ اعتبار زمانہ نہیں رہا امید رائیگاں نہ دل معتبر گئی شام فراق وہ نہیں آئے نہیں سہی دنیائے آرزو تو مری کچھ سنور گئی جلوہ فروز طور پہ دیکھا تو تھا کلیمؔ پوچھو نہ وقت دید جو دل پر گزر گئی
maanaa ki main ik naghma-e-be-saut-o-sadaa huun
مانا کہ میں اک نغمۂ بے صوت و صدا ہوں بھٹکے ہوئے لوگوں کے لئے بانگ درا ہوں تصویر بنا لوں تری جس رنگ میں چاہوں بندہ ہوں مگر اپنے تخیل کا خدا ہوں فطرت ہے مری مثل مزاج گل خنداں ہنستے ہوئے ہر موڑ پہ لوگوں سے ملا ہوں خاموش سمندر ہوں کہ ٹھہرا ہوا طوفاں اس سوچ میں صدیوں سے میں ساحل پہ کھڑا ہوں آج اپنے اسی شہر میں یہ حال ہے لوگو اک پھول کی مانند میں کانٹوں میں گھرا ہوں





