SHAWORDS
Kalim Shadab

Kalim Shadab

Kalim Shadab

Kalim Shadab

poet
19Ghazal

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

کہاں کہاں پہ لگے زخم کیا دکھاؤں اسے میں کس زباں سے کہوں حال دل سناؤں اسے وہ مجھ کو بھول کے دنیا بسا چکا ہے مگر میں اب بھی سوچ رہا ہوں کہ بھول جاؤں اسے ہر ایک شب میں یہی سوچتا ہوں بستر پر جو عہد خود سے کیا ہے کبھی نبھاؤں اسے انا نے عشق کے پیروں میں ڈال دی زنجیر میں ناز کیسے کروں رقص کر دکھاؤں اسے مرا غرور مری راہ کی رکاوٹ ہے میں صرف سوچ رہا ہوں کہ اب ہٹاؤں اسے کسے نہ طعنہ اسے تمکنت سے تیز ہوا چراغ بجھ گیا جو خون سے جلاؤں اسے گلاب کیسے کھلائیں اگر ہو سخت زمیں ہنر غزل کا یہ شادابؔ میں سکھاؤں اسے

kahaan kahaan pe lage zakhm kyaa dikhaaun use

غزل · Ghazal

میری ہستی کو مٹا کر دیکھو خاک میں خاک ملا کر دیکھو آگ میں آگ تو لگ جائے گی آگ پانی میں لگا کر دیکھو وصل کا شہد چکھا ہے تم نے ہجر کا زہر بھی کھا کر دیکھو سنگ کوئی بھی اٹھا لیتا ہے آسماں سر پہ اٹھا کر دیکھو میرا دعویٰ ہے بھرے گا ہی نہیں پھول کا زخم تو کھا کر دیکھو دونوں عالم میں نہ سر خم ہوگا سر نمازوں میں جھکا کر دیکھو یہ بھی ممکن ہے ہوا ہو جائے درد میں درد ملا کر دیکھو دھوپ دہشت کی چلی جائے گی امن کا پیڑ لگا کر دیکھو روتے روتے بھی کبھی ہنس دینا دھوپ میں چھاؤں ملا کر دیکھو

meri hasti ko miTaa kar dekho

غزل · Ghazal

امیر شہر کے بن کر وزیر بیٹھے ہیں تو کیا وہ بیچ کے اپنا ضمیر بیٹھے ہیں قلندروں کی یہ عظمت کرم خدا کا ہے فقیر شہر کے در پر امیر بیٹھے ہیں ہیں پتھروں سے پریشان مچھلیاں ساری ندی کنارے جو بچے شریر بیٹھے ہیں نگاہ ناز نے دل تیرا انتخاب کیا ہدف بنائے کماں میں وہ تیر بیٹھے ہیں فصیل عشق میں بے شک درار آئے گی انا کی کھینچ کے دونوں لکیر بیٹھے ہیں حسد کی آگ میں جلنے لگے رقیب تمام جو روبرو مرے وہ بے نظیر بیٹھے ہیں تری نگاہ نے چھیڑا کوئی فسانہ کیا قلم کو توڑ کے جو سب دبیرؔ بیٹھے ہیں رفیق وقت میں وہ صاحب خلوص کہاں مفاد حرص و ہوس ہیں حقیر بیٹھے ہیں ترے خلوص کو شادابؔ کیا وہ سمجھیں گے جو ہو کے اپنی انا کے اسیر بیٹھے ہیں

amir-e-shahr ke ban kar vazir baiThe hain

غزل · Ghazal

دل مسافر بنا کے چھوڑے گا پاگل آخر بنا کے چھوڑے گا تیری آنکھوں کا یہ طلسم صنم مجھ کو شاعر بنا کے چھوڑے گا تجھ سے بے انتہا یہ عشق مرا مجھ کو کافر بنا کے چھوڑے گا روز و شب یہ مطالعہ کرنا فن میں ماہر بنا کے چھوڑے گا دل وہ دے گا مگر شرائط پر مجھ کو تاجر بنا کے چھوڑے گا آج پھر اس نے دل کو دعوت دی قیس وہ پھر بنا کے چھوڑے گا قید کر لے گا دل کے پنجرے میں اپنا طائر بنا کے چھوڑے گا

dil musaafir banaa ke chhoDegaa

غزل · Ghazal

بارہا ڈوب کے ہر بار ابھر آنے کا زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا مسترد جس کو کیا تو نے بہانہ کر کے وہی کردار اہم تھا ترے افسانے کا میں تو سورج کو ہتھیلی پہ لئے پھرتا ہوں میں چراغوں سے میاں خوف نہیں کھانے کا اہل دانش ہیں تکبر میں کریں کیا صاحب ان میں جذبہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ہم نے مجذوب مزاج اپنا بنا رکھا ہے ہے یہی ایک بہانہ ترے یاد آنے کا دل مضطر یہ تڑپ عشق کا اعزاز سمجھ چین مل جائے تو ہر حال میں ٹھکرانے کا اس لئے چاند سی روشن ہیں بجھی ہو کر بھی میری آنکھوں میں ہے جو خواب تجھے پانے کا مے کشی نام و نسب کی جو غلام آج ہوئی ساقیا راز کھلا اب ترے میخانے کا تو نہ مجنوں ہے نہ فرہاد نہ رانجھا شادابؔ ہاں مگر عکس ہے تجھ میں کسی دیوانے کا

baarhaa Duub ke har baar ubhar aane kaa

غزل · Ghazal

گیا وہ چھوڑ کر کمرے ہمارے سو اب ہیں بند دروازے ہمارے وہ ہر قیمت پہ ہم کو چاہتا ہے اسے منظور ہیں نخرے ہمارے وہ جس کے واسطے پہنے تھے ہم نے پسند آئے اسے کپڑے ہمارے بچھڑ کر تجھ سے غزلوں سے ہوئے ہیں مراسم اور بھی گہرے ہمارے ہماری پگڑیاں تک بک چکی ہیں مگر اترے نہیں نشے ہمارے کبھی تو نام چلتا تھا ہمارا کہ اب چلتے نہیں سکے ہمارے غزل کے شعر سب اچھے نہیں ہیں مگر اچھے ہیں کچھ مصرعے ہمارے تمہارے عہد بھی سچے کہاں تھے چلو جھوٹے تھے کچھ وعدے ہمارے ہم اپنے گاؤں کے مجنوں ہیں شادابؔ بہت مشہور ہیں قصے ہمارے

gayaa vo chhoD kar kamre hamaare

Similar Poets