SHAWORDS
Kamal Kataria Karan

Kamal Kataria Karan

Kamal Kataria Karan

Kamal Kataria Karan

poet
14Ghazal

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

rangini-e-hayaat mein uljhaa diye gae

رنگینئ حیات میں الجھا دئے گئے ہم اصلیت کی راہ سے بھٹکا دئے گئے پتھر کے ہو کے رہ گئے پتھر تراش لوگ ہم آئنہ صفت جو تھے چٹخا دئے گئے اپنے ہی دل کو عشق میں مدفن بنا لیا جتنے حسین خواب تھے دفنا دئے گئے ہم سے مسافروں کا سفر رائیگاں ہوا ہم منزلوں کی حد سے ہی لوٹا دئے گئے اب اور کس طرح سے نبھائیں گے ربط ہم اس نے ستارے مانگ لئے لا دئے گئے جانے کہاں چلے گئے تنہا اداس لوگ ہم کس دیار غیر میں پہنچا دئے گئے پہلے تو چاہتوں میں ہوئے عمر بھر ذلیل پھر ایک روز یوں ہوا ٹھکرا دئے گئے ہم کو ذرا سی آنے میں تاخیر کیا ہوئی توبہ تمام رات وہ طعنہ دئے گئے ہم کو کرنؔ اداسیاں تحفے میں دی گئیں پھر اس کے بعد ساغر و مینا دئے گئے

غزل · Ghazal

jaa rahe the log mujh ko chhoD kar jaane diye

جا رہے تھے لوگ مجھ کو چھوڑ کر جانے دئے پھر مری خلوت نے مجھ کو عمر بھر طعنے دئے لٹ گئی اپنی متاع جاں تو اندازہ ہوا خود ہمیں نے حق انہیں سب جانے انجانے دئے کھاد پانی دے سکیں کب وقت دنیا نے دیا الغرض گل خواہشوں کے ہم نے مرجھانے دئے لطف ملتا تھا کبھی جب ہاتھ رکھتی تھی ہوا زخم سہلاتی رہی وہ ہم نے سہلانے دئے دل گنوایا نیند کھوئی کھو دیا چین و قرار اک خطائے عشق کی اور کتنے جرمانے دئے موت کی آغوش میں ہی نیند آئی پر سکوں عشق تو نے کب ہمیں باہوں کے سرہانے دئے واہ ساقی کیا نبھائی رسم اہل میکدہ سب کو نظروں کے ہمیں شیشے کے پیمانے دئے گر میں رو پڑتا تو میرے صبر کی توہین تھی ضبط نے ہرگز نہ مجھ کو اشک چھلکانے دئے مفلسی میں بھی رہا جذبوں پہ اپنے اختیار کب مری غیرت نے مجھ کو ہاتھ پھیلانے دئے کرب تنہائی اداسی زخم آنسو اضطراب اے کرنؔ ہم کو محبت نے یہ نذرانے دئے

غزل · Ghazal

zindagi ki talkhiyon par khaak Daali jaaegi

زندگی کی تلخیوں پر خاک ڈالی جائے گی اس طرح سے زندگی آساں بنا لی جائے گی سرخ آنکھیں زرد چہرہ سرد آہیں دل اداس اب کسی صورت تو یہ صورت سنبھالی جائے گی مجلسی مانا تبسم ہے لبوں پر ان دنوں اس پہ امیدوں کی پھر سے نیو ڈالی جائے گی پیرہن یہ حسرتوں کا اب رفو ہوگا جناب ہر خوشی جو روٹھ بیٹھی تھی منا لی جائے گی زندگی کے استعارے پھر بدل جائیں گے اب پھر تمنا خوبصورت دل میں پالی جائے گی درد و غم کی اب یہاں تاثیر الٹے گی میاں چوٹ بھی دل کی ہنر اپنا بنا لی جائے گی چیر دے گی آسماں تک کا کلیجہ ایک دن مت سمجھنا آہ بے کس ہے تو خالی جائے گی ہم بدل ڈالیں گے لکھا کاتب تقدیر کا اپنی قسمت اپنے ہاتھوں سے سجا لی جائے گی قہقہے گونجیں گی ہر پل اب فضاؤں میں کرنؔ درد کی اب روز و شب میت نکالی جائے گی

غزل · Ghazal

sukun jis ko samajh ke daaman mein rakh liyaa vo tamaam dukh hai

سکون جس کو سمجھ کے دامن میں رکھ لیا وہ تمام دکھ ہے جسے محبت سمجھ رہے تھے حضور اس کا ہی نام دکھ ہے قفس میں تنہائی کے علاوہ بھی ایک شے ہے جو معتبر ہے میں تجربے سے یہ کہہ رہا ہوں سہولتوں کا نظام دکھ ہے ادب کروں کہ لحاظ احمق نفس نفس پر ہوا ہے قابض نجات مشکل ہے اب تو گویا مرے بدن کا امام دکھ ہے سنبھالتا ہوں بڑی مروت سے اپنے دل میں تمہارے تحفے مری طرف سے تمہارے بخشے الم کا بس احترام دکھ ہے کمال ہے یہ اب انسیت کے تمام پہلو بدل گئے ہیں جو مرحلہ تھا مسرتوں کا اب عشق کا وہ مقام دکھ ہے کسے چنیں گی یہ فیصلہ ہم تری نگاہوں پہ چھوڑتے ہیں تماش بیں ہے مری محبت فریب الفت بہ نام دکھ ہے تمہارے حصہ کے دن سنہرے تمہارے حصہ کی رات پونم ہمارے حصہ اداس صبحیں ہمارے حصہ کی شام دکھ ہے ہزار آنسو اداسیاں غم یہ درد مضمون شاعری ہیں سنو کبھی غور سے تو جانو کرنؔ کا ہر اک کلام دکھ ہے

غزل · Ghazal

yaqin kar ki tiraa gham-shanaas rahnaa hai

یقین کر کہ ترا غم شناس رہنا ہے اسی بنا پہ ہمیں اب اداس رہنا ہے خدا کرے کہ تجھے صرف مجھ سے کام پڑے کسی سبب بھی ترے آس پاس رہنا ہے ذرا بھی ہوش میں آئے تو جان کھو دیں گے سو ہم کو دیر تلک بد حواس رہنا ہے ترے دوانوں کو حق ہے کہ رقص فرما ہوں کہاں ہے ثبت انہیں محو یاس رہنا ہے گئے برس میں دکھاوے کا ڈھب بھی سیکھ لیا ہمیں بھی اب کے برس خوش لباس رہنا ہے تری نوازش پیہم کا شکریہ لیکن میں نا سپاس مجھے نا سپاس رہنا ہے اسے بھی کھو دیا میں نے تو پھر سمجھ آیا تمام عمر مجھے بے اساس رہنا ہے جو اہمیت ہے کرنؔ خوشبوؤں کی پھولوں میں بس اس طرح ہی مجھے ان کا خاص رہنا ہے

غزل · Ghazal

husn ki tamhid par misraa uThaa

حسن کی تمہید پر مصرع اٹھا تب کہیں فن سے مرے پردا اٹھا کاش مجھ پر بھی پڑے تیری نظر اس لئے سو بار میں بیٹھا اٹھا کام نہ آئی تری دریا دلی دیکھ تیرے در سے میں پیاسا اٹھا ہجر میں کس نے مرے ڈالا خلل شور یہ کیسا سر صحرا اٹھا موت کے امکان ہیں اس عشق میں گر اٹھا پائے تو یہ خطرا اٹھا چھونے کی قوت تہ آداب تھی اس کی جانب ہاتھ لرزیدہ اٹھا ڈال دے کشکول میں امید کچھ ہم فقیروں کو نہ یوں بھوکا اٹھا ہم نوالا دوست ہے نہ تو مرا لے مری تھالی سے کچھ فاقہ اٹھا ناامیدی عشق کا حاصل مرا بزم سے تیری میں نم دیدہ اٹھا دوست اس دنیا میں جینا ہے اگر التجائیں چھوڑ کر فتنہ اٹھا قتل کرنا ہے مجھے تو قتل کر سوچ مت پاگل اٹھا نیزہ اٹھا آپ کہتے ہیں کہ ذرہ ہے کرنؔ عرش چھو لے گا اگر ذرہ اٹھا

Similar Poets